قوم کا نیا دکھ: اسد اور نمرہ کی شادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے یہاں قومی سطح پر کوئی نہ کوئی قضیہ ضرور ہونا چائیے جس پر بحث مباحثہ اور تنقید کے تندور گرم رکھے جائیں، یہ اچھا ہے کہ قوم میں بحث کے لیے کچھ نہ کچھ اچھا ہو تو تعمیر ی ماحول بنتا رہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں بحث کے لیے قضیے ضرور ہیں لیکن تنقید کے اس بازار میں کچھ قضیے بڑے ہی سستے داموں بک رہے ہیں۔ مملکت خدادا میں دو ہفتے قبل دانش کی موت ہو گئی اس پر کئی روز تک سوگ رہا منایا جاتا رہا، قوم کافی صدمہ سے دوچار رہی، کچھ دن افاقہ رہا تو یک دم سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر اسد اور نمرہ کی شادی کی تصاویر گھومنے لگیں، یوں تو یہ شادی کی ہی تصویریں تھیں مگر شادی کرنے والے یہ دونوں اصحاب خاصے نو عمر تھے یعنی عمر میں اک دوسرے کے برابر تھے مگر ان کی عمر وہ نہیں تھی جو عام طور شادی کے لیے سماج نے طے کر رکھی ہے، دونوں کی عمر کم از کم اتنی ہے کہ جس عمر میں عام طور پر میٹرک یا فرسٹ ائیر کا طالب علم ہوتا ہے۔

شادی کی ان تصاویر کو لے کر قوم کا نیا دکھ یہ ہے کہ یہ کیوں ہوا، ایسا کہنے والوں میں اکثریت انہی کی ہے جو یا تو ابھی خود شادی جیسے عمل سے نہیں گزرے یا کچھ وہ ہیں جو اس عمر میں ایسا نہیں کر سکے۔ البتہ تنقید کرنے والوں میں کچھ اور بھی شامل ہیں جن کا خیال ہے کہ اسد اس عمر میں اہلیہ کے نان نفقے کا ساماں کیسے کرے گا۔ شادی کے لیے تو صاحب استطاعت ہونا ضروری ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ”حد ہے شادی کی اک عمر ہوتی ہے ایسی بھی کیا آن پڑی تھی بچوں کو والدین سمیت کچھ سال اورصبر کر لیناچائیے تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس رونے دھونے میں یہ بحث بھی گرم ہے کہ شادی کی کوئی عمر طے ہے یا یہ کبھی بھی ہو سکتی ہے اور اگر کبھی بھی ہو سکتی ہے تو اکثر تیس سال سے پرے خواتین وحضرات ابھی تلک کیوں ”سنگل“ ہیں شادی نہیں کر سکے ہیں۔ اس بیچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان بچوں نے اچھا ہی کیا جو جلد ہی یہ گتھی سلجھا لی، ان کے پاس زندگی میں وقت بھی زیادہ ہو گا بال بچوں کو بڑھتے دیکھیں گے اور خوب عیاشی ہو گی۔ لیکن ان حضرات کے لیے یہ سوال ابھی بھی کسی چھبتے کانٹے سے کم نہیں جو یا اپنی بھڑاس کے زاویے سے اسے کم عمری کی شادی قرار دے رہے ہیں، یا وہ حضرات جو ان بچوں کے والدین کو صلاح مشورے دے رہے ہیں۔

ان سبھی صاحبان کی آراء مقدم مگر یہ جان کر دل کا قرار حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ میاں جیو اور جینے دو کی پالیسی ہے نا اس کو اپناؤ کیا برا ہے۔ جو کسی کا بھلا ہو رہا ہے؟ شادی ہی ہوئی ہے نا اور کہا گیا ہے کہ بچوں کی پسند کو ملحوظ رکھا گیا ہے اس میں کیا صداقت ہے کیا نہیں البتہ یہ واضح ہے کہ اک بتائے گے طریقہ کار سے دونوں ایک بندھن میں بندھ گئے ہیں اب اس پر واویلا کیوں؟

سماج میں جاری طریقہ کار جو مذہب کی رو سے بھی جائز ہے اس کے مطابق دو لوگ ایک دوسرے کو اپنا رہے ہیں تو اس میں عجیب کیا ہے؟ تھوڑا مختلف ضرور ہے لیکن انوکھا نہیں ہے، دور حاضر میں جب کہ ہم مادیت پسندی و مادیت پرستی کے قائل ہیں اور سماج میں ہم نے کچھ ایسے میعار طے کر لیے ہیں جن سے کم یا زیادہ پر خوب تنقید کا سامنا ہوتا ہے، یہی معاملہ یہاں بھی ہے عام طور پر لڑکی یا لڑکا 25 برس تک پہنچتے ہیں تو ان کے گھر بستے ہیں کچھ اس سے اوپر نیچے بھی ہو ہی جاتا ہے، مگر یہاں چونکہ اس شادی میں معاملہ کم عمر ی کا ہے چونکہ عمر روایتی میعار سے بہت کم ہے اس لیے یہ بات ذرا سمجھنے والوں کو ہضم نہیں ہو رہی حالنکہ یہ بھی اک شادی ہی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت میں بحث مباحثہ کی صورت میں خوب دھوم مچاتا ہے جب کوئی بڑی عمر کی عورت یا مرد شادی کرتا ہے۔ یعنی ہمارے ہا ں شادی جیسے معاملے کے لیے کوئی مناسب عمر طے ہے یا ہم طے اسے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے خدانخواستہ یہ بھی طے کرنے کے لیے پورا زور لگا رکھا ہے ہے کسی کی انفرادی زندگی کے معروضات کے برعکس ہم یعنی سماج نے اپنے میعار اس پر کیسے لاگو کرنے ہیں اور ہم نے کیسے اس کے معروضات کو اپنے من گھڑت معیار کے تقاضوں میں روندھ کر رکھ دینا ہے۔ چلیے اگر اس سماج میں ا ٓپ یہی معیار طے کرنے میں مصروف عمل ہیں کہ کسی فرد واحد کی زندگی کے حقائق کو آپ نے اپنی عینک سے ہی کیسے دیکھنا ہے اوراسے غلط ثابت کرنا ہے تو آپ لگے رہیں آپ کی عینک کے شیشوں پر جھوٹے معیار کی گرد مزید جمتی رہے گی اور آپ کو مجبورا عینک اتارنا پڑیے گی۔

عمر کے جس حصے میں اسد اور نمرہ کی شادی ہوئی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس عمر میں ہم سے تو یہ تک طے نہیں ہو رہا تھا کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد سائنس مضامین اختیار کیے جائیں یا آرٹس میں جوہر دکھائے جائیں۔ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ دہی لانے کی عمر میں اسد کی شادی ہو گئی۔ اس دلچسب شادی پر قوم کے سنجیدہ حلقوں کی جانب سے نوبیاہتا جوڑے کو مبارک باد بھی دی جا رہی ہیں۔ تنقید کرنے والوں کی اکثریت نے اس پر شغل بھی گھڑ لیے ہیں بہر حال قوم میں اچھی خاصی تعداد ایسوں کی بھی ہے جو اس عمل سے سخت رنجیدہ ہیں اور انہیں دکھ بھی خوب ہے۔ دوسری جانب سماج کا اک رویہ یہ ہے کہ اسی عمر کے بچے اگر پسند ناپسند کی دوڑ میں والدین کی اجازت کے بغیر رفو چکر ہو کر اس بندھن میں بندھ جائیں تو یہ قوم کیسے اس عمل کو والدین کی کوتاہی سے عبارت کرتی ہے مگر اگر کوئی والدین مہذب انداز میں ایسا کریں تو پھر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

معاشرے کے معیار کی اس بحث میں جہاں غلط العام میں پذیرائی حاصل کرنے والے رویوں کی جیت ہوا کرتی ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سماج میں کچھ ہو نا ہو ہماری قوم کو بحث کے لیے کچھ نہ کچھ گرم سرد موضوع ضروری ہے وہ دانش کی موت ہو یا اسد اور نمرہ کی شای۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ سماج میں برداشت کا یہ معیار ہے کہ انسان کی انفرادی زندگی کے معروضات کی کوئی حقیقت سنجیدگی سے نہیں لی جاتی اور اگر کوئی اسد اور نمرہ کے والدین کی طرح اپنے معروضات کے مطابق ایسا غیر روایتی فیصلہ کرے تو ایسے میں یہ معاشرہ اسد نمرہ اور ان کے والدین کی ایسی کی تیسی پھیر دیتا ہے، اور وضاحت مانگتا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟ ہمیں دکھ ہے کہ ہم ایسا کیوں نہ کر سکے یا نہ کر سکیں گے، آپ نے ایسا کیوں کیا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *