انسان کا تبدیل ہونا آسان نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر آپ یہ دعویٰ موٹیویشنل اسپیکر، ٹرینر اور یوٹیوب وی لوگرسے سنیں گے کہ یہ کتاب، ویڈیو، فلم اور کہانی آپ کو تبدیل کر کے رکھ دے گی۔

اس میں صداقت ہو سکتی ہے لیکن جس جوش و ولولے سے دعو یٰ کیا جا تا ہے وہ شاید مبالغہ آرائی کے زمرے میں آتا ہے۔ یا شاید میرے جیسے نوجوان، جوشیلے اور نئے نویلے سپیکر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے اور اپنے ناظرین و حاضرین کو متاثر کرنے کے لئے دعویٰ کرتے ہیں۔

دراصل حقیقت یہ ہے کہ ایسا اکثر ممکن نہیں، قدرتی اور فطرتی عمل ہے انسان بنیادی طور پر تبدیل ہونے سے گھبراتا ہے، وہ اپنے کمفرٹ زون میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہمارا جسم ایک مشین کی طرح کام کرتا ہے جو ایک خاص حد تک کام کرنے کے بعد آرام مانگتا ہے۔ تبدیلی کے لئے انسان کی سب سے اہم ڈویلپمنٹ اُس کا ذہن، سوچنے کا رحجان تعین کرتا ہے۔ اُس نے ایک خاص سمت میں سوچنا، چیزوں کو پر کھنے کا انداز اور ردِعمل وقت، حالات، واقعات اور تربیت کا نچوڑ ہوتا ہے۔

کوئی انسان ایک خاص سمت میں سوچ و بچار ایک دم سے نہیں کرتا، اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ جس طرح پانی کو برف کی شکل میں تبدیل کرنے کے لئے ایک مخصوص درجہء حرارت اور وقت کے ساتھ ساتھ سازگار ماحول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس طرح کسی بھی انسان کے رویے، سوچنے کے انداز کو بدلنے کے لئے وقت، مخصوص حالات وماحول اور منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں یہ ہرگزنہیں بھولنا چاہیے کہ تبدیلی ایک مشکل، کٹھن، تکلیف دہ اور ذہنی دباؤ کا باعث بننے والا عمل ہے اور کوئی بھی انسان اتنی آسانی سے اس عمل سے نہیں گزرنا چاہتا۔

Mary Wollstonecraft Shelley کہتی ہیں کہ ”بڑی اوراچانک تبدیلی سے زیادہ انسانی ذہن کے لئے کوئی تکلیف دہ چیز نہیں“۔ یہ عمل زبر دستی، دباؤ یا لالچ کے ذریعے موثر طور پر سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ تبدیلی کے لئے پہلی اور بنیادی شرط انسان کی آزاد مرضی اور تبدیل ہو نے کے لئے دلی خواہش لازمی امر ہے ورنہ آپ کسی انسان کو مجبوراً یہ عمل نہیں کروا سکتے۔ تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے، یہ نظامِ زندگی مسلسل تبدیلی کا عمل ہی تو ہے۔

اس دُنیا میں کیا چیز اور بات نئی ہے، صرف وقت اور حالات کی صورت بدل جاتی ہے۔ تبدیلی ایک خوبصورت عمل ہے جو اس عمل سے بخوشی اور آزاد مرضی سے گزرتے ہیں وہ اس سفر سے محظوظ ہوتے ہیں ورنہ آپ چاہیں یا نہ چاہیں تبدیلی تو آکر رہتی ہے۔ تبدیلی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جو صرف جاری رہتا ہے ہماری زندگی میں اور ہماری زندگی کے بعد بھی! میں یہ کہتا ہوں صرف خود کو بدلیں اپنی زندگی بدلیں۔ اپنی عادتیں بدلیں اورزندگی بدلیں۔

دُنیا میں تقریباً 98 %ایسے لوگ ہیں جو صرف خود کو بدلنے کے سوا اور کچھ نہییں بدل سکتے۔ صرف 2 %انسان ایسے ہیں جو دُنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ 98 % لوگ جو خود کو بدلنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتے یہ خود کو ہی بدلنے کے سوا باقی دُنیا کو بدلنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ لیو ٹالسٹائی نے کیا خوبصورت انداز میں چند الفاظ کے ذریعے اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔ ”ہر کوئی دُنیا کو تبدیل کرنے کا سوچتا ہے، لیکن کوئی بھی خود کو تبدیل کرنے کا نہیں سوچتا۔

” ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی ذات کی تبدیلی درحقیقت اصل تبدیلی ہے۔ مولانا رومیؒ نے کیا خواب کہا ہے۔ “ کل تک میں چالاک تھا، میں دُنیا کو تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ آج میں عقلمند ہوں، کیو نکہ میں خود کو تبدیل کررہا ہوں۔ ”اپنی سوچ، زندگی گزارنے کے نظریے، اپنے رویے، توقعات، لوگوں سے تعلقات، کام کرنے کے انداز اورعادتوں کو بدل کر بہتر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ لوگ منصوبے بناتے ہیں مگر اُن منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے عادتیں نہیں اپناتے۔

ہم بھی عجیب لوگ ہیں ؛ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن تبدیل نہیں ہوتے۔ قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں لیکن ٹریفک سگنل پر رُکتے نہیں۔ فٹ اور سمارٹ رہنا چاہتے ہیں، لیکن خود اُٹھ کر پانی بھی نہیں پینا چاہتے۔ سچ کو پسند کرتے ہیں، لیکن سچ سننا نہیں چاہتے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمیں اس خود فریبی کی حالت سے باہر آنا ہو گا۔ میں نے ایک انٹرویو میں ماہر تعلیم پروفیسر عنایت ڈین سے سوال کیا ”تمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد کامیاب اور نیک ہو، لیکن کیا وجہ ہے، والدین کی خواہش اوردُعاؤں کے باوجود اُن کے بچے کامیاب نہیں ہو پاتے؟

” اُنہوں نے بہت مختصر اور جامع جواب دیا کہ“ تمام والدین چاہتے تو ہیں کہ اُن کے بچوں کامیاب ہوں، لیکن وہ کامیابی کے ڈھنگ نہیں جانتے ”۔ میں نے اس جواب کی مزید وضاحت چاہی تو اُنہوں نے کہا کہ دراصل والدین اپنی عملی زندگی سے بچوں کو وہ نمونہ نہیں دے پاتے، اُن کا اپنا طرزِ زندگی مثالی نہیں ہوتا، اس لئے وہ بچوں کے لئے رول ماڈل ثابت نہیں ہوتے۔ تبدیلی ایک خوبصورت اور بہت وسیع اور روحانی لفظ ہے بلکہ ایک فلسفہ ہے۔

لیکن بد قسمتی سے ہم نے اس کا سیاسی انداز میں اس قدر بے مقصد استعمال کیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ یہ لفظ ایک مذاق بن گیا ہے۔ تبدیلی معاشرے اور انسان کی بقا کی ضمانت ہے، کوئی بھی معاشرہ اور انسان تبدیلی کے بغیر کسی بھی عہد میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ البرٹ آئین سٹائن کا کہنا ہے کہ ”یہ دُنیا جو ہم نے تخلیق کی ہے، ہماری سوچ کا عمل ہے۔ یہ ہرگز تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک ہم اپنی سوچ نہیں تبدیل کر سکتے۔ “ تبدیلی کے بغیر ایک خوشگوارزندگی کا حصول ممکن نہیں، خوشی اور سکون کے لئے چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں انسان کو تبدیل کرتی ہیں۔

آج ہماری دُنیا اتنی ترقی اس لئے کر سکی کیونکہ ہم نے گزشتہ سالوں کی نسبت اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے۔ ذرا تصور کریں اگر انسان نے اپنے سوچنے کا انداز نہ بدلا ہوتا تو آج یہ ترقی کبھی ممکن نہ ہوتی۔ اپنے آرٹیکل کا اختتام فریڈرک نطشے کے ان الفاظ سے کر رہا ہوں۔ ”جو سانپ اپنی کھال تبدیل نہ کرسکے، اُسے مرنا ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ ذہن بھی جو اپنے خیالات/افکار کو تبدیل کرنے سے اجتناب کرتے ہیں ؛وہ دماغ رکھنے سے رُک جاتے ہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *