محبت کے دشمن کون ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محبت ایک جذبہ، ایک لطیف احساس اسے پانے کو اس کی داستان امر کرنے کو کوئی ہیر بنا، کوئی رانجھا، کوئی شیری اور کوئی رومیو۔ انسان کو محبت ہوجائے مگر وہ اسے نہ ملے تو یوں محسوس ہوتاہے گویا انسان زندہ تو ہو مگر احساس زندگانی ختم ہوگیا ہو۔ مگر افسوس آج ہم اس معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں محبت کرنا ہی سب سے بڑا جرم گردانا جاتا ہے یہاں اگر صرف اس بات کا شک ہی ہو کہ ایک لڑکا اور لڑکی محبت میں گرفتار ہیں یا ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو کاروکاری قرار دے کر قتل کردیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ خاندان کی عزت اور وقار کی خاطر اگر قتل کیا جائے تو وہ جائز ہے۔ کوئی بھی باپ اور بھائی اتنے بے غیرت نہیں ہوسکتے کہ لڑکی محبت کرے تو غیرت کے نام پر اسے قتل نہ کریں اور لڑکے کو اس لیے قتل کرنا ضروری ہے تاکہ کاروکاری جیسی رسم بھی قائم اور جاری و ساری رہے اور جنگل بیاباں، دریا کے کنارے لاوارث لاشیں ملتی رہی اور یوں محسوس ہو جیسے انسانی زندگی کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اگر کسی قوم کو برباد کرنا ہو تو نوجوانوں میں بے حیائی پھیلادو مگر یہاں تو حالات یہ ہے کہ اگر محبت ہوجائے اور اسے جائز بنانا ہو تو بھی راہ میں اتنے روڑے اٹکائے جاتے کہ یوں محسوس ہوتا ہے گویا زنا آسان اور نکاح مشکل ہوگیا ہو۔ سمجھ سے ماورا ہے کہ جب اوپر والے نے قران اور حدیث کے ذریعے جائز اور ناجائز بتا دیا ہے اور ہر انسان کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ خود اس بات کا فیصلہ کرے کہ کیا غلط ہے؟ کیا صحیح؟ تو پھر شور کس بات کا ہے؟

کاروکار ی جیسی رسم کے باعث صدیوں سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں اسلام میں یہ ہے کہ زنا کے واقعہ کے چشم دید گواہ ہو تو سزا دی جاسکتی ہے اور یہاں کاروکاری کے لیے کوئی گواہ موجود ہو نہ ہو، صرف شک کی بنیاد پر قتل کر دیا جاتا ہے اور پھر اگر کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف شرمین عبید چنائے حقیقی واقعہ پر مبنی فلم (A girl in river) بنائے آسکر ایورڈ جیتے تو طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں۔ جب ایوان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون پاس کروانے کی کوشش کی جائے تومولانا فضل الرحمن بیان جاری کرتے ہیں کہ غیرت پر قتل کے خلاف قانون معاشرے کا عکاس نہیں کیونکہ شاید ان کی سمجھ یہیں تک ہے کہ عوام کے مسائل بجلی، گیس، پانی ہیں حتی کہ سماجی مسائل حل ہوں گے تو بہتر معاشرہ تشکیل ہوگا کیونکہ اگر نوجوان کاروکاری جیسی رسموں کا شکار ہوتے رہے تو محبت جیسے پاکیزہ رشتے پر اعتبار اٹھنے کے ساتھ ہم نوجوانوں سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جس ملک میں نوجوان نہ ہو وہ کیسا ملک ہوسکتا ہے، شاید یہ سمجھنا مشکل نہیں، بہت آسان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *