مائیں نی میں کینوں آکھاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ پچھلے دو کالم پڑھنے سے محروم رہے، بعض مخلص دوستوں نے سمجھ لیا شاید میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے، لکھنا ہی تو میری زندگی ہے، پچاس سال سے لکھنے کے سوا اور کچھ کیا ہی نہیں، لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کچھ لکھنا شروع کرتا ہوں، عام عوام کی محرومیاں میرے قلم کو جکڑ لیتی ہیں اور سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کیا لکھوں اور کیسے لکھوں؟

دکھ درد کی کہانیاں بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا، عام آدمی کی محرومیاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ہی مشکل ترین کام بن گیا ہے، میں نے زندگی عام لوگوں کے ساتھ گزاری ہے، خواص کبھی میری زندگی کا حصہ نہ بن سکے، شاید اس لئے کہ مجھ میں کبھی’’بڑے لوگوں،، سے تعلق رکھنے کی کبھی طمع ہی پیدا نہیں ہوئی، عام آدمی کے موجودہ دگرگوں معاشی حالات نے مجھے ہر غریب اور سفید پوش آدمی سے خوفزدہ کر دیا ہے، دکھ ، درد اور مفلسی میں گھرے ہوئے لوگوں کا سامنا ڈھیٹ حکمران اور ان کے کارندے ہی کر سکتے ہیں جو اب بھی ’’سب اچھا ہے،، کی صدائیں بلند کر رہے ہیں، میں کوشش کروں گا کہ آئندہ کالم کی غیر حاضری نہ لگے اور آپ دعا کریں کہ اللہ ہمیں آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات دلائے۔

میں نے پچھلے ایک کالم میں درویش پنجابی شاعر بابا نجمی کی ایک نظم کے بارے میں دو چار سطور لکھی تھیں، ان چار سطروں پر قارئین کی جانب سے جس شدت سے رد عمل آیا اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ بابا نجمی کی وہ غیر مطبوعہ نظم کی ساری لائنیں آپ کی نظر کروں، حکمران طبقات کے خلاف احتجاج کے لئے شاعری سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ بابا نجمی ایسی ہی مزاحمتی شاعری ہر دور حکومت میں کرتے رہے ہیں، وہ انعام و اکرام ، تمغات، شہرت اور سرکاری وظائف پر لعنت بھیجتے ہیں، مہنگائی کے حوالے سے ان کی تازہ نظم ان کے اپنے گھر کی بھی تصویر ہے اور بائیس میں سے کم از کم اکیس کروڑ عوام کی حالت کی بھی سچی عکاس،۔

آٹا لے اسمانے چڑھیا/ساڈے ویہڑے کیہڑا وڑیا/کیوں نہ پٹن اوہنوں ککھاں/جنہے پلے پائیاں پکھاں/گھر گھر لوکاں متھا پھڑیا/ساڈے ویہڑے کیہڑا وڑیا/لاگے پتر، دھی نہ کوئی/تیجا ویہڑے جی نہ کوئی/سپاں وانگ سپیرا لڑیا/ساڈے ویہڑے کیہڑا وڑیا/آٹا ساڈے سنگھیں اڑیا/ساڈے ویہڑے کیہڑا وڑیا/دیس بیگانے اپنے بھنڈے/اکو پیڑا مڑ مڑ چھنڈے/ سول حکومت، آمر ورگی/رات لمیری انھی سرگھی/ جنہوں پچھو ، بولے سڑیا/ساڈے ویہڑے، کیہڑا وڑیا/آٹا شامیں لے کے آویں/بھانویں لہو دے مل لیاویں/اج دی اکو سدھر اڑیا/ساڈے ویہڑے کیہڑا وڑیا؎

میرے سامنے ایک اخبار کی خبر کا تراشہ پڑا ہے، شاید یہ آپ کی نظروں سے بھی گزرا ہو، یہ خبر علامت ہے موجودہ ملکی معاشی صورتحال کی، میری خواہش ہے کہ وفاقی وزیر جناب فواد چوہدری جو اسمبلی میں مہنگائی پر کھلی بحث کرانے کی خواہش رکھتے ہیں وہ اس خبر کو بھی ایوان میں پڑھ کر سنا دیں۔

لاہور کے نواحی علاقہ ٹھینگ موڑ کے ایک گائوں کے رہائشی محمد شریف کے گھر کی کھدائی کرکے وہاں سے ایک آٹھ ماہ کی بچی کی لاش برآمد کرکے اس کے باپ محمد شریف کو پولیس نے گرفتار کر لیا، اس سے تھانے میں ہر طریقے سے تفتیش کی گئی کہ اس نے اپنی معصوم بیٹی کو قتل کرکے گھر میں ہی کیوں دفن کر دیا، ملزم زبان کھولنے پر تیار نہ تھا، جب مزید روایتی تفتیشی طریقے آزمائے گئے تو پتہ چلا کہ بچی شدید بیمار ہو گئی تھی، باپ کے پاس اس کے مناسب علاج معالجہ کے لئے پیسے ہی نہ تھے بچی بالآخر بلکتے بلکتے مر گئی، اب اس کی موت کے بعد باپ کے پاس اس کی قبر خریدنے کی سکت نہ تھی، جس کے باعث اس نے اپنی لخت جگر کو گھر کے صحن میں ہی دفنا دیا۔

 خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معصومہ کو کفن بھی نصیب ہوا یا وہ انہی کپڑوں میں مٹی کے نیچے دفنا دی گئی جو اس نے مرتے وقت پہن رکھے تھے۔

مجھے پچھلے دنوں ایک شخص ملنے آیا، اس کے ہمراہ اس کا نوجوان بیٹا اور پندرہ سولہ برس کی بیٹی بھی تھی، یہ شخص کسی زمانے میں فری لانسر صحافی ہوا کرتا تھا، میں نے اس سے تشریف آوری کا مقصد پوچھا تو اس نے اپنی کہانی بیان کرنا شروع کی، بے روزگار ہوں، بیٹے کے پاس بھی کوئی ملازمت نہیں، کرایہ کے گھر میں رہتے ہیں، تین چار ماہ سے کرایہ ادا نہیں کر سکا، مالک مکان سر پر چڑھا ہوا ہے، سامان باہر پھینکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، میں اس کے خوف سے روپوش ہوں، کئی دنوں سے گھر ہی نہیں گیا، کبھی کہیں کبھی کہیں راتیں گزارتا ہوں، پتہ نہیں کتنے ہفتوں سے گھر میں کھانا بھی نہیں پکا، میرے ساتھ میری پندرہ سالہ بیٹی بھی آئی ہے، یہ نویں کلاس میں پڑھ رہی تھی، مجبوراً اسے سکول سے اٹھا لیا ہے، اب اس بچی کے لئے بھی کوئی ملازمت ڈھونڈھ رہا ہوں، آپ ہم میں سے کسی ایک کی ہی نوکری تلاش کر دیں۔

یہ تینوں لوگ تھوڑی دیر بعد اٹھ کر چلے گئے، چند دنوں کے بعد میرے علم میں لایا گیا کہ اس شخص کی پندرہ سالہ بیٹی کو 13ہزار روپے ماہانہ کی نوکری مل گئی ہے۔

میں نے ایک کالم میں بہاولپور کے زاہد خان کا ذکر کیا تھا، جس نے ضیاء الحق دور میں تحریک آزادی صحافت کے دوران بہت قربانیاں دی تھیں، کئی سال پہلے وہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہو گیا تھا، مناسب علاج کے نہ ہونے کے باعث اس کا مرض بڑھ گیا تو ڈاکٹروں نے اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی تھی، اس کے بیٹے کو غیر مستقل ملازمت ملی اور چند ماہ بعد ہی وہ نوکری ختم ہو گئی، وہ لڑکا اب تک بے روزگار ہے، آٹھ دن پہلے رات دو بجے کے بعد میرے موبائل کی گھنٹی بجی، کالر کا نام آ رہا تھا ’’زاہد خان بہاولپور،، دوسری جانب ایک نسوانی آواز سنائی دی،،،،، انکل! میرے ابو کی حالت اچانک بہت بگڑ گئی ہے، ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہیں، خدا راہ! آپ کچھ کریں،،،، بیٹی ! میں تو لاہور میں ہوں، یہاں سے کیا کر سکتا ہوں؟ ان کی طبیعت کو اچانک کیا ہوا؟ دوسری جانب سے جواب ملا،،، پچھلے دوہفتوں سے انہوں نے شوگر اور بلڈ پریشر کی کوئی دوا نہیں لی، ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں ان کی دوائیاں خریدنے کے لئے۔

 آخر میں ذکر ایک خط کا جو اتحاد کالونی پشاور سے دونوں ٹانگوں سے محروم ایک بوڑھے یار محمد نے بھجوایا ہے، یار محمد چار بیٹیوں کا باپ ہے، دو نو عمر اور دو جوان ہیں، چاروں بچیاں گھر میں ناڑے اور پراندے بناتی ہیں اور بڑی بیٹیاں محلے کے بچوں کو قرآن پاک کا درس بھی دیتی ہیں، معذور بوڑھے نے اپنے خط میں جو دکھ درد بیان کئے ہیں، مجھ میں سکت نہیں کہ انہیں اس کالم میں دہرا سکوں، اگر کوئی صاحب ثروت یار محمد کے دکھ بانٹنا چاہے تو اس سے 03051060605 پر رابطہ کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے میں یہ ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ اس وقت پوری قوم جن آزمائشوں سے گزر رہی ہے، ان آزمائشوں اور ان امتحانات کا تقاضہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کا دھیان رکھیں، جہاں تک ممکن ہو دوسروں کی پریشانیوں اور تکالیف کا مداوا کریں، ہمیں حکمرانوں سے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں، آج حالت یہ ہے کہ اگر عمران خان وزیر اعظم نہ رہیں، پی ٹی آئی حکومت ختم ہو جائے، کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی تبدیلی آ جائے حالات جلد ٹھیک ہونے والے نہیں۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *