جب شامین دلہن بنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے سیٹھ عالمگیر ایک لمحے کے لیے رکا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ بالآخر وہ لمحہ آن پہنچا تھا۔ اس کمرے میں شامین بیٹھی ہو گی۔ وہ شامین جسے اس نے جب پہلی باردیکھا تھا تو اس کے سارے بدن پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی تھیں۔ کسی بھوک سے بے تاب چیتے کے سامنے ایک کومل سی ہرنی آ جائے تو اسے چیتے کا نوالہ بننے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ مگر وہ عالمگیر تھا، چیتا نہیں تھا۔ شامین نے اپنے کالج میں ٹاپ کیا تھا۔ وہ گریجویٹ ہو گئی تھی۔

عالمگیر انڈسٹریز کے مالک عالمگیر کے لئے کروڑوں کی حیثیت معنی ضرور رکھتی تھی لیکن جب معاملہ ناجائز دھندوں کی پردہ پوشی کا ہو تو نہ جانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس کالج کے اونر کی حیثیت سے کروڑوں روپے خرچ کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ اب وہ چیف گیسٹ بن کر آیا تھا۔ شامین کو پہلا انعام دیتے ہوئے اس کی نظریں شامین کے جسم میں گڑی تھیں۔ شامین کی آنکھوں میں اتنے خواب بھرے تھے کہ وہ دیکھ سکی نہ نظروں کی سوئیوں کی چبھن محسوس کر سکی۔ اسی لیے جب اس کی ماں نے سیٹھ عالمگیر کی طرف سے رشتہ بھیجنے کی خبر دی تو اسے جیسے چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا۔

اسے حیرت نہ ہوتی اگر اس کے ماں باپ اس رشتے سے فوراً انکار کر دیتے مگر انہوں نے سوچنے کے لیے وقت لیا اور پھر جو فیصلہ کیا وہ شامین کے دل و دماغ کی دنیا تہہ و بالا کرنے کے لیے کافی تھا۔ وہ سپنے میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی ماں نے زمانے بھر کی لجاجت اپنے لہجے میں سمیٹ کر کہا تھا۔

”دیکھ بیٹی! اب ہماری عزت اور تمہاری چھ بہنوں کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ہر رشتے میں کچھ خامیاں اور خوبیاں ہوتی ہیں۔ تم یہ رشتہ قبول کر لو تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ “

”اماں! کیا کہہ رہی ہوں۔ میں بیس برس کی ہوں اور وہ بڈھا مجھ سے چالیس سال بڑا ہے۔ “ شامین چیخ اٹھی تھی۔

”رشتوں میں مرد کی عمر نہیں دیکھی جاتی تو یہ دیکھ کہ اس کے بنگلے میں تجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی۔ شہزادیوں کی طرح رہے گی تو وہاں میری شہزادی۔ پھر تیری چھ بہنیں ہیں کچھ ان کا خیال کر لے۔ عالمگیر ہمیں شادی کے خرچ کے لیے جتنے پیسے دے رہا ہے اس میں تو ہماری سب لڑکیوں کی شادی ہو جائے گی۔ “

”یعنی مجھے قربان کرنے کا فیصلہ کیا ہے آپ نے۔ پیدا ہوتے ہی گلا کیوں نہیں گھونٹ دیا میرا؟ “

”غصہ نہ کر، ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ۔ تُو تو میری سب سے اچھی بیٹی ہے۔ “

”اسی لیے مجھے بیچ رہی ہو؟ “

”چپ کر بد تمیز! اپنی ماں سے بات کرنے کی تمیز نہیں تجھے۔ “ اس کا ابا بیچ میں کود پڑا۔

”ٹھیک ہے میں زہر کھا لوں گی پھر میری لاش سے کر دینا اس بڈھے کی شادی۔ “ شامین غم و غصے سے کانپ رہی تھی۔

”ہاں ہاں کھا لو ساتھ ہمیں بھی دے دو۔ تیرا ابا کسی فیکٹری کا مالک نہیں ہے۔ سبزی بیچتا ہے۔ سات بیٹیوں کی شادی کیسے کریں گے ہم۔ کچھ تو سوچ“ اس کی ماں بھی چیخ اٹھی۔

”میں سوچوں، تو نے کچھ نہیں سوچا تھا“ شامین بولی۔

”چھوڑ بشیراں یہ پڑھ لکھ گئی ہے۔ بہت باتیں آ گئیں ہیں اس کو۔ اور میں رفیق سبزی والا تو اس کو کچھ سمجھا بھی نہیں سکتا۔ “ اس کے باپ نے طنزیہ انداز میں کہا۔

”یہی تو میں اس کو سمجھا رہی ہوں، رفیق سبزی والے کی بیٹی کو ایسا رشتہ کہاں مل سکتا تھا۔ اب اللہ نے مہربانی کی ہے تو یہ ناشکری اسے ٹھکرا رہی ہے“ اس کی ماں غصے میں تھی۔ میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کا فیصلہ بھی اٹل تھا۔

شامین پر پہرے لگا دیے گئے۔ اس کے ماں باپ پر اس کی کسی دلیل کا کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ غربت کی چکی میں پستے پستے شاید ان کے احساسات اور جذبات بھی پس کر ریزہ ریزہ ہو چکے تھے۔ شامین کا باغیانہ رویہ اس کے والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا تھا لیکن وہ بھی پسپائی اختیارکرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

شادی سے ایک رات پہلے شامین اپنے بیڈ پر بیٹھی اپنی زندگی پر غور کر رہی تھی۔ اس کے دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ اس نے سنجیدگی سے خود کشی کے مختلف طریقوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ اس کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی مگر اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے ایک تسلسل سے بہہ رہے تھے۔ کئی گھنٹے گزر گئے مگر اس کی حالت میں رتی برابر فرق نہ آیا تھا۔ تب اس نے خودکشی کا فیصلہ کر لیا۔ ہاں یہ خود کشی ہو گی مگر شاید کسی نے یہ طریقہ کبھی اختیار نہیں کیا ہو گا۔ اس نے اپنی ہتھیلی کی پشت سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے۔ ”اب میں کبھی نہیں روؤں گی۔ “ وہ خود کلامی کر رہی تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور کمبل سر تک کھینچ لیا۔

صبح کی سپیدی نمودار ہوئی تو اس کی ماں سب سے پہلے بیدار ہوئی۔ اس نے ناشتہ بنانا شروع کیا۔ باری باری باقی افراد بھی اٹھنے لگے۔ ناشتہ کرنے لگے مگر شامین ابھی تک بے سدھ پڑی تھی۔ اس کی ماں نے ایک دو بار اسے آواز دی۔ شامین کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ اس کی ماں کا دل لرزنے لگا۔ شامین نے خود کشی کی دھمکی دی تھی۔ آج تو اس کی شادی کا دن تھا۔ کہیں شامین نے کچھ کھا نہ لیا ہو۔ اس کی ماں کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ پراٹھا بنانا مشکل ہو گیا۔ وہ اٹھی اور ڈگمگاتے قدموں سے شامین کے بیڈ کی طرف بڑھی۔

شامین مکمل طور پر کمبل میں پوشیدہ تھی۔ اس کی ماں کمبل ہٹا کر اسے دیکھنا چاہتی تھی مگر کمبل ہٹانے کے لیے اس کا ہاتھ آگے بڑھتا ہی نہ تھا۔ آخر ہمت کر کے اس نے کانپتے ہاتھ سے کمبل ہٹایا۔ شامین نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو اس کی ماں کی جان میں جان آئی۔ ”اٹھو بیٹی سویر ہو گئی ہے۔ “ اس نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔

”میں نے کسی دفتر میں تو نہیں جانا، سونے دو ماں۔ “ شامین نے خلافِ توقع بڑے آرام سے کہا۔ اس کی ماں چپ چاپ پلٹ آئی۔ وہ زندہ سلامت تھی یہی خوشی اس کے لیے کافی تھی۔ بہر حال ابھی ڈر مکمل طور پر دور نہ ہوا تھا۔ دن گزر گیا۔ مختصر سی بارات آئی اور نکاح کا مرحلہ خیریت سے طے ہو گیا۔ اس طرح شامین بیاہ کر تین مرلے کے گھر سے تین ایکڑ کے بنگلے میں آ گئی۔

عالمگیر نے دروازہ کھولا تو سامنے بیڈ پر سرخ لباس میں شامین سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس کا جھکا ہوا سر اس کی شکست کی علامت تھا اس کے باوجود عالمگیر بغاوت کی سرسراہٹیں محسوس کر رہا تھا۔ عالمگیر نے گھونگھٹ اٹھایا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ شامین مسکرا رہی تھی۔ عالمگیر سوچ کر آیا تھا کہ مزاحمت کا سامنا کیسے کرنا ہے مگر یہاں تو سپردگی کا ایسا انداز تھا کہ وہ بن پیئے جھوم رہا تھا۔

اس خوابناک ماحول میں وہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہا تھا۔ ایک ایسا خواب جس سے وہ بیدار ہونا نہیں چاہتا تھا۔ تاہم وہ جب بیدار ہوا تو کھڑکیوں سے دھوپ اندر آ رہی تھی۔ اس بنگلے کا ایک حصہ ساجدہ بیگم یعنی بڑی سیٹھانی کا مسکن تھا۔ ساجدہ بیگم کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی وہ شادی کر چکی تھیں۔ ساجدہ بیگم کا واحد مشغلہ کھانا پینا تھا۔ ان کے لیے ایک ٹیم علیحدہ تھی۔ ہیڈ کک کی سربراہی میں وہ ٹیم ہروز طرح طرح کے کھانے بنا بنا کر ساجدہ بیگم کو کھلاتی تھی۔

سیٹھ عالمگیر کے پاس تو اس کے لیے اب زیادہ وقت نہ ہوتا تھا۔ لیکن ساجدہ بیگم نے اپنی تنہائی کا علاج ڈھونڈ لیا تھا۔ ساجدہ بیگم کے چند رشتہ دار بھی اس کے ساتھ ہی اس پورشن میں رہتے تھے۔ ان کا ایک کزن خالد اور اس کی بیوی خاص طور پر اس کے بڑے خیر خواہ تھے اور وقتاً فوقتاً سیٹھ عالمگیر کی جائیداد ہڑپ کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔

دراصل سیٹھ عالمگیر بڑا کایاں شخص تھا۔ اس نے بیوی کے نام پر برائے نام اثاثے رکھے تھے۔ سب کچھ اس کے اپنے نام تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیٹھ عالمگیر نے دوسری شادی کی تو ساجدہ بیگم بہت پریشان تھی کہ جائیداد میں ایک اور حصے دار آ گئی۔ ایسے میں اس کے اسی کزن خالد نے اسے سمجھایا کہ سیٹھ عالمگیر کا خمار چند مہینوں میں اتر جائے گا پھر شامین کو ہم ایسا بھڑکائیں گے کہ وہ طلاق لے کر چلی جائے گی۔

شامین کی شادی کو چند مہینے ہو چکے تھے۔ ایک شام عالمگیر شامین کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی۔ اس کے بدن پر سبز رنگ کا لباس تھا۔ شاید اس لیے کہ عالمگیر کا پسندیدہ رنگ سبز تھا۔ یہ رنگ اس کی گوری رنگت پر بہت بھلا لگ رہا تھا۔ گالوں کی لالی اور سرخ ہونٹ عالمگیر کی کمزوری بنتے جا رہے تھے۔ وہ بے حد خوب صورت لگ رہی تھی۔ عالمگیر کی آہٹ سن کر وہ پلٹی اور پھر آگے بڑھ کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ عالمگیر کا دل جھوم اٹھا۔

”کہاں تھے آپ؟ میرا تو دل ہی نہیں لگ رہا تھا آپ کے بغیر۔ “ شامین نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔

”اسی لیے تو آیا ہوں میری جان، مجھے یاد ہے آج تمہیں کھانے کے لیے باہر لے جانا ہے۔ “ عالمگیر مسکرایا۔

”مجھے پتا تھا آپ نہیں بھولیں گے۔ “ شامین بھی مسکرا اٹھی۔

”ساری دنیا کو بھول سکتا ہوں، تمہاری باتیں نہیں بھول سکتا۔ “

عالمگیر شامین کے ناز نخرے اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ اسے فائیو سٹار ہوٹل میں ڈنر کروانے لے گیا۔ خوابناک ماحول میں بڑے خوشگوار انداز میں ڈنر ہوا۔ واپسی پر کار کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے شامین نے اپنا سر عالمگیر کے کندھے پر رکھا اور یوں محبت بھری باتیں کرتے ہوئے وہ بنگلے تک پہنچے۔ عالمگیر کو ایسا لگتا تھا جیسے وہ پھر سے جوان ہو گیا ہے۔ شامین اس پر ایسے محبت نچھاور کرتی تھی جیسے برسوں کی پیاسی ریگستان کی زمین پر یکا یک بادل مہربان ہو جائے۔

اب عالمگیر کے لیے شامین سے ایک پل بھی دور رہنا ممکن نہیں تھا۔ شامین اس کے گلے کا ہار بن کر رہتی تھی۔ ایسے میں جب وہ کوئی فرمائیش کرتی تو عالمگیر فوراً سے پیشتر اسے پورا کرتا تھا۔ شامین کے ابا اور اماں کو خبریں ملتی رہتی تھیں۔ وہ جہاں بے حد خوش تھے وہیں انتہائی حیران بھی تھے کہ شامین میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ کیا یہ وہی شامین ہے جس نے اس رشتے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ خود کشی کی دھمکی دی تھی۔ وہ جب تنہائی میں اس موضوع پر بات کرتے تو ایک دوسرے کو سراہتے تھے کہ انہوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا۔

ان کی بڑی خواہش تھی کہ شامین کبھی ان سے ملنے کے لیے گھر آئے اور ایک دو دن ان کے ساتھ گزارے مگر شامین کو فرصت ہی نہیں تھی۔ ایک روز اس کا باپ اس سے ملنے گیا۔ شامین کو پتا چلا تو اس نے فوراً اپنے ملازمین کی فوج کو اس کی خاطر داری پر لگا دیا۔ پھر انتہائی قیمتی ساڑھی پہن کر اپنے باپ سے ملنے ڈرائنگ روم میں آئی۔ اس کا باپ اسے دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔ وہ واقعی ایک سیٹھانی لگ رہی تھی۔ اس کا باپ لاکھ انکار کرتا رہا مگر شامین نے اسے کھانا کھلا کر ہی رخصت کیا۔ کھانا بھی ایسا کہ اس کے باپ نے انواع و اقسام کے اتنے کھانے ایک میز پر اس پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ شامین اصرار کر کر کے ایک ایک چیز اسے خود پیش کرتی رہی۔ ایک ایک ڈش کو چکھتے چکھتے ہی اس کا پیٹ بھر گیا۔

گھر واپس جا کر اس نے اپنی بیوی کو یہ بات بتائی تو کھل اٹھی۔ ”واہ ہماری بیٹی تو راج کر رہی ہے“

”یہ سیٹھ عالمگیر تو ہمارے اندازے بھی زیادہ امیر ہے“ رفیق بولا۔

”اس نے بتایا نہیں ہم سے ملنے کب آئے گی؟ “ بشیراں نے یک دم سنجیدہ ہو گئی۔

”آئے گی، اس نے وعدہ کیا ہے“ رفیق کا لہجہ امید سے بھرا تھا۔

پھر ایک دن وہ آ گئی۔ سیٹھ عالمگیر کی پراڈو ان کی گلی سے کچھ دور رکی تھی۔ کیونکہ گلی تنگ تھی۔ لیکن رفیق اور بشیراں کے منہ حیرت سے کھل گئے جب انہوں نے دیکھا کہ شامین کے پہلو میں سیٹھ عالمگیر بھی چلا آ رہا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سیٹھ عالمگیر اپنے ڈرائیور کے ساتھ شامین کو بھیج دے گا۔ بہر حال ان کی دوڑیں لگ گئیں۔ انہوں نے اپنے طور پر اس کی بھرپور سیوا کرنے کی کوشش کی۔ شامین جس محبت سے باتیں کرتی تھی اس سے اس کی ماں کو بڑا حوصلہ ہوا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ شامین اس کے پاس رک جائے چناں چہ اس نے کہہ دیا۔

”بیٹی شامین آج رات یہیں ٹھہر جاؤ ناں۔ تم سے ڈھیروں باتیں کرنی ہیں۔ بیاہ کے بعد تم کبھی ہمارے پاس نہیں ٹھہریں۔ “ اس نے ایک لمحہ توقف کیا پھر سیٹھ عالمگیر کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی لجاجت سے کہا۔

”آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں“

سیٹھ عالگیر نے دو تین لمحے سوچا پھر کھنکار کر گلا صاف کیا مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات کرتا شامین بول اٹھی۔

”کیسی بات کرتی ہو ماں! مجھے تو اپنے گھر کے سوا کہیں نیند ہی نہیں آتی۔ اور عالمگیر بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بس اب ہم جائیں گے۔ “

اس کی ماں ہونٹ بھینچ کر رہ گئی۔ سوچ رہی تھی کہ اس کی بیٹی پہلے بھی کم نہیں تھی پر اب کافی بے شرم ہو گئی ہے۔

”اچھا کھانا تو کھا کر جاؤ“ بشیراں نے دبی دبی آواز میں کہا۔

”رہنے دو ماں۔ تکلف نہ کرو۔ ویسے بھی آج مجھے شاپنگ کے لیے جانا ہے۔ آئیں جی ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ “ شامین نے آخری جملہ عالمگیر کی طرف دیکھتے ہوئے ادا کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ عالمگیر بھی فوراً اٹھ گیا۔ شامین نے اس شام اچھی خاصی شاپنگ کی۔ کئی قیمتی لباس خریدے۔ پھر جب وہ اپنے بیڈ روم میں پہنچے تو شامین نے ایک ایک لباس پہن کر دیکھا۔ وہ ایک لباس پہنتی اور مختلف زاویوں سے عالمگیر کو دکھاتی پھر اسے اتار کر دوسرا پہنتی اور عالمگیر کی رائے لیتی۔

”جانی! اب بس کرو ناں۔ کب تک یہ ماڈلنگ چلے گی“ عالمگیر نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔

”جو حکم سرکار“ وہ فوراً آگے بڑھی اور عالمگیر کے بازوؤں میں آ گئی۔ عالمگیر ایک نشے کی سی کیفیت میں تھا۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے شامین بھی ایک نشہ ہے اور وہ اس کا عادی ہو گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ شامین کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھے۔ چناں چہ وہ اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ خواہ یہ خوشی زمین کا کوئی ٹکڑا ہو، کوئی مکان ہو یا فیکٹری کے شئیرز ہوں۔ بڑی سیٹھانی جس خواب کو پورا کرنے کی خواہش میں بوڑھی ہو گئی تھی۔ شامین نے اس کی تعبیر پالی تھی۔ عالمگیر اس پر اندھا اعتماد کرنے لگا تھا۔

ایک دن جب وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا تو اسے ایک پارسل ملا۔ یہ پارسل ایک کوریئیر کمپنی کے ذریعے بھجوایا گیا تھا۔ پارسل پر پرسنل لکھا ہوا تھا اسی لیے اس کے عملے نے اسے فوراً اس کے آفس میں بھجوا دیا تھا۔ اس نے پارسل کھولا۔ پہلے ایک تہہ شدہ کاغذ نظر آیا جس پر چند ہدایات لکھی ہوئی تھیں۔ جیسے اگر آپ کے پاس کوئی ہے تو اسے باہر بھیج دیں، براہ کرم پہلے دروازہ بند کر لیں، مکمل تنہائی میں پیکٹ کھولیں۔ وہ اس وقت اکیلا ہی تھا۔ اس نے دروازہ تو بند نہ کیا مگر پیکٹ کھول دیا۔ اندر کسی کی برہنہ تصویر تھی۔ تصویر آدھی تھی چہرہ نہیں تھا۔ تصویر بلر بھی تھی اس کے باوجود وہ ایک سیکنڈ میں جان گیا کہ وہ شامین کی تصویر تھی۔

تصویر دیکھتے ہی وہ اچھل پڑا۔ سینڈر کا نام عجیب سا تھا، راجہ گدھ۔ اسے یقین تھا کہ وہ نام جعلی ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ تصویر بھیجنے والا یا تصویر بنانے والا کون ہو سکتا ہے۔ اس کے دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اس نے فوراً انٹرکام پر اپنی سیکرٹری سے کہا کہ کوئی اس کے کمرے میں نہیں آئے گا۔ وہ غور سے تصویر کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر وہ اٹھا اور اسی وقت گھر چلا آیا۔ سیدھا اپنے بیڈ روم میں آیا۔ شامین ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ عالمگیر کو اپنے سامنے دیکھ کر جیسے کھل اٹھی۔

عالمگیر تھکے تھکے انداز میں صوفے پر ڈھے گیا۔ شامین فوراً اس کے پاس آ گئی۔

”خیریت آج آپ اس وقت آئے ہیں اور آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی۔ چائے بنا کر لاؤں آپ کے لیے؟ “ اس نے عالمگیر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔

”جانی! تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے“ عالمگیر نے سنجیدگی سے کہا۔

”بتائیں ناں کیا بات ہے؟ “

”تم خود ہی دیکھ لو“ عالمگیر نے کوٹ کی جیب سے تصویر نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔

شامین دھک سے رہ گئی۔ ”یہ تو میں ہوں لیکن میری ایسی تصویر کس نے بنائی؟ “ اس نے پریشان ہو کر کہا۔

”میں خود پریشان ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تصویر کپڑے بدلتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ اتنی جرات کون کر سکتا ہے۔ “ عالمگیر نے پریشانی کے عالم میں کہا۔ پھر وہ اٹھا اور کمرے میں خفیہ کیمرہ تلاش کرنے لگا۔

”آپ کیا کر رہے ہیں؟ “ شامین بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

”اس کمرے میں کوئی خفیہ کیمرہ لگایا گیا ہے“ عالمگیر نے تیزی سے کہا۔ ان دونوں نے کمرے کا چپہ چپہ چھان مارا، باتھ روم کا بھی انچ انچ دیکھ لیا لیکن کوئی کیمرہ نہ ملا۔ آخر تھک ہار کر وہ بیٹھ گئے۔ انہیں کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ پارسل بھیجنے والے کا بھی پتا نہ چل سکا۔ عالگیر سوچ بچار کرتا رہا اور اگلے دن ایک اور پارسل ملا۔ عالمگیر اس وقت بھی اپنے آفس میں تھا اور اس کا مینیجر عتیق اس کے پاس بیٹھا تھا۔ اس نے عتیق کو فوراً باہر بھیج دیا پھر پیکٹ کھولا۔

آج درجن بھر تصویریں تھیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ یہ نیوڈز تھیں اور سب شامین کی تھیں۔ اب تو صاف پتا چل رہا تھا کہ اس کے بیڈ روم اور باتھ روم میں تصویرین بنائی گئی تھیں۔ اس تصویروں کے ساتھ ایک کاغذ پر ایک تحریر بھی تھی جو کمپیوٹر سے کمپوز کی گئی تھی۔ اس کی نظریں تحریر پر پڑیں۔

”عالگیر! بہت عیش کر لی تم نے۔ اب قیمت چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ فوری طور پر شامین کو طلاق دے دو۔ شامین صرف میری ہے اور تم اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ تمہارے پاس صرف ایک دن کا وقت ہے۔ اگر کل بارہ بجے تک تم نے شامین کو طلاق نہ دی تو تم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ جو شخص تمہارے بیڈ روم اور باتھ روم میں گھس کر خفیہ کیمرے لگا سکتا ہے وہ اور کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ اور ہاں پولیس یا کسی خفیہ ادارے سے ملنے کی ہرگز کوشش نہ کرنا کیوں کہ تم مجھ تک کبھی نہیں پہنچ سکو گے۔ ویسے بھی اگر میری پسند کا کھلونا مجھے نہ ملے تو میں اسے توڑ دیتا ہوں۔ فقط تمہارا ہمدرد، راجہ گدھ“

موسم سرد تھا اس کے باوجود عالمگیر کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ معاملہ ایسا تھا کہ وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتا تھا۔ شامین کی ایسی تصویروں کا معاملہ وہ کیسے کسی سے ڈسکس کرتا۔ وہ سیدھا گھر پہنچا۔ شامین کو ساری بات بتائی۔ وہ بھی پریشان تھی۔

”اب بتاؤ شامین یہ کون ہے؟ “ عالمگیر نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔

”میں بتاؤں؟ جانی آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ مجھے کیا پتا یہ منحوس کون ہے؟ “ شامین نے رو دینے والے لہجے میں کہا۔

”دیکھو میری بات کا برا نہ ماننا لیکن مجھے یہ تمہارا کوئی پرانا عاشق لگتا ہے“ عالگیر نے خیال ظاہر کیا۔

”مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ آپ کے الفاظ ہیں۔ آپ تو اچھی طرح جانتے ہیں سوائے پڑھائی کے میری اور کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے تو محبت پہلی بار ہوئی ہے اور وہ بھی شادی کے بعد آپ سے۔ میں تو آپ کے سوا کسی کا تصور بھی نہیں کر سکتی اور آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں۔ اگر یہی بات ہے تو اپنے ہاتھوں سے میرا گلا گھونٹ دو۔ مجھے مار ڈالو میں اف تک نہیں کروں گی۔ میں مر سکتی ہوں لیکن آپ سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ لیکن میں ایسے الزامات بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ مجھے مار دیں، مار ڈالیں مجھے۔ “ شامین رندھی ہوئی آواز میں بولتے بولتے رونے لگی اور روتے روتے عالگیر کے سینے سے لگ گئی۔ عالمگیر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے۔

”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں تو کہہ رہا تھا کہ آخر یہ ہے کون؟ “

”آپ اسے چھوڑیں آپ میرا گلا دبا کر مجھے مار دیں۔ “ شامین نے عالمگیر کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی گردن پر رکھ دیے۔

”اوہو جانی! بس کرو، کیوں مجھے شرمندہ کر رہی ہو۔ میں بھی تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں، تم پر پورا بھروسا کرتا ہوں۔ میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا۔ مجھے ایک بار پتہ چل جائے کہ یہ ہے کون؟ “ عالمگیر نے اسے بھینچتے ہوئے کہا۔

کئی لمحے گزر گئے۔ پھر جیسے شامین نے کچھ سوچتے ہوئے سر اٹھایا۔

”جانی! مجھے ایسا لگتا ہے یہ کوئی باہر کا آدمی نہیں ہے۔ باہر سے کس کی اتنی جرات ہو سکتی ہے کہ ہمارے بیڈ روم تک پہنچ جائے اور کیمرے لگائے۔ “

”تم نے میرے منہ کی بات چھین لی۔ میں خود یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کوئی گھر کا آدمی ہی ہے۔ “ عالمگیر نے سر ہلایا۔

”تو پھر اب کیا کریں؟ “

”تم پریشان نہ ہو۔ میں اس مسئلے کو حل کرتا ہوں“ عالمگیر اٹھ کھڑا ہوا۔

”آپ کہاں جا رہے ہیں؟ “ شامین نے گھبرا کر کہا۔

”ڈونٹ وری، میں کہیں باہر نہیں جا رہا۔ ابھی آتا ہوں۔ “ عالمگیر کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ بنگلے کے دوسرے حصے کی طرف جا رہا تھا۔ جہاں اس کی پہلی بیوی ساجدہ رہتی تھی۔ آج بڑے دنوں بعد وہ اس پورشن میں آیا تھا۔ ساجدہ صوفے پر بیٹھی ٹی وی سیریل دیکھ رہی تھی۔

”زہے نصیب! مل گئی فرصت آپ کو ادھر آنے کی؟ “ ساجدہ نے اسے دیکھا تو حسبِ معمول طنز کیا۔

”ساجدہ بیگم میں دیکھ رہا ہوں تمہارے لہجے میں زہر گھلتا جا رہا ہے۔ “ عالمگیر نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

”بہت خوب! تم نے میری زندگی میں زہر گھول دیا تو پھر میرے لہجے میں زہر کیوں نہ گھلے گا۔ “ ساجدہ نے منہ بنایا۔

”لگتا ہے بڑا دکھ ہے تمہیں شامین کی مجھ سے شادی کا۔ حالاں کہ یہ میرا حق ہے۔ “

”اور میرا حق؟ سیٹھ عالمگیر میرا بس چلے تو تمہاری شامین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دوں۔ کسی بھول میں نہ رہنا ہو سکے تو اپنی پیاری شامین کو مجھ سے بچا کر رکھنا میں اسے چھوڑوں گی نہیں۔ “ لگتا تھا جیسے ساجدہ کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا ہے۔

”اس کا مطلب ہے تم شامین کے خلاف کچھ بھی کر سکتی ہو۔ “ عالمگیر نے بھی غصے سے کہا۔

”کروں گی، ضرور کروں گی، جاؤ جو ہو سکتا ہے کر لو۔ “ ساجدہ پھنکاری۔

”میرے بیڈ روم میں خفیہ کیمرے تم نے لگوائے تھے؟ “

”خفیہ کیمرے؟ “ ساجدہ ایک دم گڑبڑا گئی۔

”ہاں خفیہ کیمرے اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس کام میں تمہارے بھائی خالد نے تمہارا خوب ساتھ دیا ہو گا۔ کیوں کہ اسی کی نظر میری جائیداد پر ہے اور تمہارا بڑا خیرخواہ بنتا ہے۔ “ عالمگیر کا لہجہ زہریلا تھا۔

”ایک بات آپ بھی کان کھول کر سن لیں، میں خالد بھائی کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتی۔ وہی تو ایک میرے خیرخواہ ہیں۔ آپ نے تو شامین کی صورت ایک ناگن کو میرے سینے پر لا بٹھایا ہے کہ مجھے ڈستی رہے۔ لیکن میں اس کا زہر نکال دوں گی سارا۔ “ ساجدہ بھی تڑپ اٹھی۔

”ادھر ادھر کی باتیں مت کرو۔ سیدھی بات کرو۔ تم یہی چاہتی ہو کہ میں شامین کو طلاق دے دوں۔ چوبیس گھنٹے کے اندر“ عالمگیر چیخا۔

”چوبیس گھنٹے بھی نہیں، ابھی دو اسے طلاق۔ ابھی دو۔ “ ساجدہ اس سے زیادہ زور سے چیخی۔ عالمگیر کی سانس غصے سے پھولنے لگی۔

”ٹھیک ہے ساجدہ بیگم! میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ تم ابھی اور اسی وقت اس گھر کو چھوڑ کر دفع ہو جاؤ۔ میں نے یہ بنگلہ بھی شامین کے نام کر دیا ہے۔ “ عالمگیر کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ ساجدہ گنگ ہو گئی۔ اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ عالمگیر ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ عالمگیر پلٹا اور تیز تیز قدم اٹھاتا واپس آ گیا۔ اپنے بیڈ روم میں داخل ہو کر اس نے دیکھا کہ شامین بیڈ پر نیم دراز سسک رہی تھی۔ اس کے آنسو تکیے کو بھگو رہے تھے۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

”بس بس اب میں نے سب کچھ ٹھیک کر دیا۔ “

”بس مجھ سے ایک وعدہ کریں آپ مجھے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ میں آپ کے بغیر مر جاؤں گی“ شامین کی آواز خمار آلود تھی۔ عالمگیر نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

چند دن میں سارے معاملات ٹھیک ہو گئے۔ ساجدہ اپنے کزن خالد اور دیگر عزیزوں کو لے کر چلی گئی تھی۔ اس کے بعد نہ کوئی پارسل ملا تھا نہ دھمکی۔ عالمگیر خوش تھا کہ اس نے اپنی ذہانت نے مجرم کو نہ صرف پکڑ لیا تھا بلکہ اسے سزا بھی دے دی تھی۔ اس کے بڑھاپے میں شامین کی جوانی نے ایسے رنگ بکھیرے تھے کہ اسے ساری دنیا ہی رنگ و نور میں ڈوبی نظر آتی تھی۔ پھر ایک دن عالمگیر کے دل میں کانٹا سا لگا۔

وہ شامین کے ساتھ ایک پارٹی میں تھا۔ پارٹی میں سب بڑے لوگ تھے۔ مرد و خواتین جدید تراش خراش کے ملبوسات میں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتے تھے۔ میوزک بج رہا تھا۔ مشروبات کا دور چل رہا تھا۔ شامین کے لیے یہ سب اب اتنا نیا نہیں رہا تھا۔ وہ بھی وہسکی کا گلاس تھامے انجوائے کر رہی تھی۔ عالمگیر کے بزنس پارٹنرز بھی محفل میں موجود تھے۔ ایک خاتون اس سے کوئی ضروری بات کرنے لگی۔ بات طویل ہوتی چلی گئی۔ عالمگیر کن اکھیوں سے دیکھ رہا تھا کہ اس کا مینیجر کچھ فاصلے پر اس کی بیوی شامین سے خوش گپیوں میں مصروف ہے۔

اس کا خیال تھا کہ شامین اس سے فرینک ہونے کی بجائے ایکسکیوز کر کے اس کے پاس آ جائے گی۔ اکثر ایسا ہی ہوتا تھا لیکن آج ایسا لگ رہا تھا جیسے شامین خود اس پر اداؤں کی بجلیاں گرا رہی ہے۔ اسے بہت برا لگ رہا تھا۔ پھر اچانک شامین لڑکھڑائی تو مینیجر نے اسے تھام لیا۔ شامین اس کے سینے سے لگ گئی۔ عالمگیر فورا اس کی طرف بڑھا۔

”کیا ہوا جانی! اس نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔

”کچھ نہیں جانی! یہ آپ کے مینیجر بہت فنی ہیں، بہت پیارے ہیں۔ بہانے بہانے سے مجھے گلے لگا رہے ہیں۔ “ شامین کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔

”سوری سر انہوں نے زیادہ پی لی ہے۔ “ مینیجر بولا۔

”اٹس او کے! آپ جائیے“ عالمگیر نے کہا۔ پھر وہ شامین کو لے کر پارٹی چھوڑ کر واپس آ گیا۔

گھر آتے ہی شامین نے سوری کہا۔ اور اس سے خوب محبت جتائی۔ لیکن یہ محض نکتہ آغاز تھا۔ اس کے بعد ایسے واقعات ایک تسلسل سے ہونے لگے۔ عالمگیرکی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ شامین جب بھی کسی مرد سے ملتی تھی اتنے پیار سے ملتی تھی کہ اسے شک ہونے لگتا تھا لیکن عالمگیر کے سامنے وہ سارا ملبہ اسی مرد پر ڈال دیتی تھی اور عالمگیر سے خوب پیار جتاتی تھی۔ اس کے دوغلے رویے سے عالمگیر کا سر چکرا کر رہ گیا تھا۔ وہ اپنی آنکھوں پر یقین کرے یا شامین کی محبت بھری باتوں اور اداؤں پر۔

اب تو صورتِ حال اس قدر عجیب ہو چکی تھی کہ عالمگیر کا بعض اوقات دل چاہتا تھا کہ اپنے بال نوچ لے۔ شامین ڈرائیور کے ساتھ بات کرتی تھی تو لگتا تھا جیسے وہ اور ڈرائیور عشق کرنے لگے ہیں۔ شامین مالی کے پاس کھڑی ہوتی تھی تو لگتا جیسے ان دونوں کا معاشقہ چل رہا ہے۔ عالمگیر جہاں بھی اسے لے کر جاتا تھا کسی نہ کسی مرد سے اس کا افئیر معلوم ہوتا تھا لیکن شامین کی باتیں ایسی تھیں جیسے عالمگیر کے بغیر وہ ایک پل زندہ نہیں رہ سکتی۔

آخر اس کا ضبط جواب دینے لگا۔ اس نے دو تین بار شامین کو غصے سے ڈانٹ دیا کہ فلاں سے اتنے قریب ہونے کی ضرورت نہیں وہ تمہیں چھو رہا تھا۔ شامین رو پڑتی تھی اور قسمیں کھاتی تھی کہ عالمگیر کے سوا وہ کسی کو دیکھنا تک پسند نہیں کرتی۔ وہ کہتی تھی:

”جانی آپ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ آپ کو ساری دنیا سے حسد محسوس ہوتا ہے لیکن ساری دنیا سے تو نہیں لڑ سکتے۔ ایسا مت سوچا کریں“

عالمگیرکیا کرتا وہ ایک عجیب پریشانی میں تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اسے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ پیش قدمی خود شامین کی طرف سے ہوتی ہے۔ دوسرے مرد شہہ پا کر اس کی طرف ملتفت ہو جاتے تھے۔ اسی بات پر اسے انتہائی غصہ آتا تھا لیکن شامین اس سے محبت کا اظہار ایسے ایسے طریقوں سے کرتی تھی کہ اس کا دماغ چکرا کر رہ جاتا تھا۔

شامین کے والدین اس سے ملنے شاز و نادر ہی آتے تھے۔ لیکن ایک دن انہیں یہ روح فرسا خبر ملی کہ عالمگیر نے خود کشی کر لی ہے۔ خبر سنتے ہی شامین کی ماں دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ اس کا باپ بھی انتہائی غم زدہ تھا۔ وہ بھاگم بھاگ اس کے بنگلے پر پہنچے۔ شامین نے کالی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور بے تحاشا رو رہی تھی۔ عالمگیر کی لاش ڈرائینگ روم میں پڑی تھی۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ریوالور تھا۔ پولیس موجود تھی۔

شامین نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ عالمگیر ایسے تھے تو نہیں بہت حوصلے والے تھے۔ مگر پتا نہیں کیوں یہ قدم اٹھا بیٹھے۔ بزنس میں نقصان تو ہوتا رہتا ہے۔ رات ان کی ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی گھر آئے تو بڑے پریشان تھے۔ پھر اچانک خود کو گولی مار لی۔ سینے میں گولی لگی تھی۔ نشانہ دل کا لیا تھا۔ اس لیے نہ بچ سکے۔

شامین نے پولیس انسپکٹر کو قائل کر لیا تھا۔ کارووائی پوری ہونے کے بعد عالمگیر کو دفن کر دیا گیا۔ آہستہ آہستہ سب افسوس کرنے والے بھی رخصت ہو گئے۔ اب شامین کے پاس اس کے ماں باپ بیٹھے تھے۔

”بیٹی جو اللہ کی مرضی صبر کرو۔ “ اس کے باپ نے ایک بار پھر اس کی افسردہ حالت کو دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ سارا دن روتی رہی تھی۔

”بیٹی اب تم بہت اکیلی ہو گئی ہو۔ تم کہو تو ہم بھی یہیں آ جائیں۔ تمہارے ساتھ رہنے کے لیے۔ یہ بنگلہ بھی تو تمہارے نام ہے ناں۔ “ اس کی ماں نے آہستہ سے کہا۔

شامین نے غور سے ان دونوں کی طرف دیکھا پھر مسکرا اٹھی۔

”ہاں نہ صرف یہ بنگلہ بلکہ عالمگیر کی اسی فی صد جائیداد میرے ہی نام ہے۔ میں اب کوئی معمولی عورت نہیں ہوں۔ بہت امیر ہوں آپ کے اندازوں سے کہیں زیادہ۔ “

”بیٹی شامین! پھر تو فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم آج ہی یہاں منتقل ہو جاتے ہیں۔ “ اس کی ماں بولی۔

” شامین؟ کون شامین؟ ارے میں شامین نہیں ہوں۔ شامین تو آپ کی بیٹی تھی، وہ شامین مر چکی ہے۔ میں مسز عالمگیر ہوں۔ مسز عالمگیر نے یہ مقام بڑی محنت سے خود پر جبر کر کے حاصل کیا ہے۔ نیوڈزبنانے سے لے کر مردوں کو رجھانے تک کیا کچھ نہیں کیا لیکن آپ نہیں سمجھیں گے۔ آج میں کامیاب ہو ں اور مسز عالمگیر اپنی کامیابی میں کسی کو حصہ دار نہیں بنا سکتی۔ اور ہاں میں بہت تھک گئی ہوں، اب میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔ براہ کرم اب آپ بھی اپنے گھر تشریف لے جائیے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ “ شامین نے بات ختم کرتے ہی انگڑائی لی اور اطمینان کی گہری سانس لیتے ہوئے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *