‘ہمارے والدین خفیہ طور پر پورن کی کاروباری سلطنت چلارہے تھے’

جاجہ محمد - بی بی سی سٹوریز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیری اور کیرن
بیری اور کیرن

کیرن اور بیری میسن کے لیے اس کیرئیر کا انتخاب کوئی ایک واضح متبادل نہیں تھا اور یہ ایک ایسا کیرئیر تھا جس کے بارے میں وہ کھل کر بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن کئی برسوں تک اس جوڑے نے لاس انجیلس میں ‘گے پورن’ یعنی ہم جنس پرستوں کے لیے پورن فروخت کرنے والی سب سے معروف دکان چلائی اور پورے امریکہ میں بالغوں کے استعمال کا سازو سامان فروخت کیا۔

کیرن نے شکاگو اور سنسناٹی کے معروف اخبارات میں بطور صحافی کام کیا۔ بیری نے فلم انڈسٹری میں سپیشل افیکٹس انجیئیر کے طور پر کام کیا اور ان کے کیرئیر کی اہم فلموں میں ’سٹار ٹریک‘ اور سائی فائی فلم ‘2001 سپیس اوڈیسی’ شامل ہیں۔ ان دونوں کی ملاقات یہودیوں کی ایک سنگلز نائٹ کے دوران ہوئی تھی۔ ان کے تینوں بچے یہودیوں کی عبادت گاہ کنیسا جاتے تھے، عبادت کرتے تھے اور سکول میں محنت سے پڑھائی کرتے تھے۔

سنہ 1970 کی دہائی میں ایک موجد کے طور پر کام کرتے وقت بیری نے گردوں کے ڈائلیسیز کی مشینوں کے لیے ایک سیفٹی آلہ تیار کیا تھا لیکن جس کمپنی کو وہ یہ آلہ فروخت کرنا چاہتے اس نے اتنی مہنگی انشورنس پالیسیوں کا مطالبہ کیا جن کو خریدنا بیری کی حیثیت نہیں تھی اور اسی وجہ سے یہ پروجیکٹ ختم ہوگیا۔  اس کے بعد بیری کے خاندان کو معاشی تنگی کا سامنا پیش آیا اور گھر میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

اسی وقت کیرین کی نظر ایل اے ٹائمز میں نوکری کے ایک اشتہار پر پڑی۔ نوکری تھی پورن انڈسٹری کے بڑے تاجر اور پبلشر لیری فلنٹ کی کمپنی کا بنایا ہوا سازوسامان اور ہسلر میگزین کو عوام میں فروخت کرنا۔ اس نوکری کے توسط سے میسن جوڑے نے پورن انڈسٹری میں قدم رکھا اور یہ دونوں بہترین تاجر ثابت ہوئے۔ کاروبار کی شروعات کے چند ہفتوں میں ہی بہت زیادہ محنت کیے بغیر کیرن اور بیری کو 5000 آرڈر موصول ہوئے جس کو وہ پورے ایل اے میں کار کے ذریعے پہنچاتے تھے۔ ہسلر محض ایک پورن میگزین تھا لیکن فلنٹ نے بعض ایسے پورن میگزینز کو بھی خرید لیا تھا جن کے مالک نقصان کی وجہ سے ان کی اشاعت بند کرنے والے تھے۔ بیری اور کیرین ان میگزین کو بھی فروخت کرنے لگے۔

چند برسوں بعد جب لاس اینجیلس کی سب سے مشہور ہم جنس پرستوں سے متعلق پورن مواد فروخت کرنے والی گے شاپ ‘بک سرکس’ معاشی مشکلات میں پھنس گئی تو کیرین اوربیری نے اس کو خرید لیا۔ یہ 1982 کی بات ہے جب انھوں نے اس شاپ کا نام بدل کر ‘ سرکس آف بکس’ رکھ دیا تھا۔ اس دکان میں صرف پورن مواد ہی نہیں ملتا تھا بلکہ وہ ایل اے کی ہم جنس پرست برادری کے لیے ملاقات کا بھی مقام تھا۔

میکا کی سالگرہ کی تصویر

بیری اور کیرین کے تین بچے، میکا، ریچل اور جوش جب بھی دوکان پر آتے تھے انہیں سخت ہدایات تھیں کہ وہ دوکان میں رکھی ہوئی کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ اور انھیں یہ بھی ہدایت تھی کہ وہ اپنے دوستوں کو دوکان کا نام نہ بتائیں۔ کیرین بتاتی ہیں،’ہم بالکل یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے بچوں کو یہ پتہ چل جائے کہ ہم کیا کام کرتے ہیں۔ ہم اپنے کاروبار کی بات نہیں کرتے تھے۔ ہم لوگوں کو صرف یہ بتاتے تھے کہ ہم کتابوں کی ایک دوکان کے مالک ہیں۔‘

سب سے بڑے بیٹے میکا کو ایک دن اپنی والدہ کی کار کے پچھلے حصے میں غلطی سے ایک فحش ویڈیو ہاتھ لگ گئی( اسے اس بات کا بے حد افسوس ہوا کہ وہ بیٹامیکس ٹیپ ان کے گھر میں رکھے وی ایچ ایس پلیئر پر نہیں چل سکا)۔ ریچل کو 14 برس کی عمر میں ان کے دوستوں نے ان کے والدین کے اس راز کا انکشاف کیا۔ 14 برس کی عمر میں اسے صحیح سے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ پورن ہوتا کیا ہےلیکن وہ یہ بات سن کر وہ سکتے میں پڑگئی تھی۔

ان کے والد بیری بہت پر سکون طبیعت کے مالک تھے لیکن ان کی والدہ کیرین بہت مذہبی اور اصول پسند تھیں۔ ریچل کی نظر میں وہ دونوں معمولی سے تاجر تھے، ایک ایسا خاندان جو صرف ایک دوکان چلاتا تھا۔ ریچل بتاتی ہیں، ’صرف یہ تصور کہ یہ لوگ کچھ ایسا کررہے تھے جو ہماری اقدار کے منافی تھا، میرے والدین کی شبیہہ کے برعکس بات تھی’۔

جوش بتاتے ہیں، ’ہمارا خاندان ایک روایتی خاندان تھا۔ ہم ہمیشہ ایک اچھا خاندان بننے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔‘

کیرین اور بیری کی رہنمائی میں سرکس آف بکس کمرشل طور پر ایک بے حد کامیاب دوکان تھی اور بہت جلد ہی انھوں نے شہر کے سلور لیک علاقے میں اس کی ایک برانچ بھی کھول دی تھی۔ انھوں نے خود گے پورن ویڈیو بنانے کا کام بھی شروع کردیا تھا جس میں بعد میں ’کیری گرانٹ آف پورنو‘ کہلائے جانے والے اداکار جیف سٹرائکر اداکاری کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے پورن ڈسٹری بیوشن کا کاروبار بھی شروع کردیا جو تقریباً ان کی تباہی کا سبب بن گیا تھا۔

بیری اور کیرین بچوں کے ساتھ

امریکی صدر رونالڈ ریگن نے پورنوگرافی یا فحش فلموں بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ ایک طرح کی ’آلودگی‘ ہے۔ انھوں نے اپنے اٹارنی جنرل ایڈون میسی کو اس انڈسٹری کی تفتیش کے احکامات دیے جس کے بعد 1986 میں 2000 صفحات پر مشتمل میسی رپورٹ شائع کی گئی۔ اسی دوران پورن انڈسٹری سے متعلق بعض نئے قانونی اقدامات متعارف کرائے گئے جس سے میسن خاندان کے کاروبار پر دباؤ پڑنے لگا جس کے بعد صرف جان پہچان کے لوگوں کو فحش مواد فروخت کرنا محفوظ تھا۔

لیکن ایک دن دوکان پر کام کرنے والے ایک ملازم نے ایک غلطی کردی۔ ایک صارف نے تین فلموں کا آرڈر دیا اور ان کو ’جوز ویڈیو سٹور’ پر پہنچانے کے لیے کہا۔ اس ملازم نے یہ پتہ دوکان کے ڈیٹا بیس میں داخل کردیا اوریہ فلمیں بذریعے ڈاک بھیج دی گئیں۔ اصل میں اس صارف کا تعلق امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی سے تھا۔ اس دوکان پر بالکل ہالی وڈ کی فلموں کی طرح چھاپہ مارا گیا۔ ایف بی آئی کے ایجنٹس بندوقیں تان کر دوکان کے اندر داخل ہوئے اور میسن جوڑے پر مختلف ریاستوں میں فحش مواد فروخت کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا۔ بچوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ بیری کو پانچ برس تک کی سزا اور بڑی رقم کے جرمانے کا سامنا تھا اور خدشہ تھا کہ دوکان بند کردی جائے گی۔ مگر میسن کے وکیل نے ہمت نہیں ہاری اور انھوں نے عدالت میں دلیل پیش کی کہ میسن جوڑا آزادی اظہار کے قانون کے تحت محفوظ ہیں اس بات پر زور دیا کہ جرمانے سے ان کا خاندان بری طرح متاثر ہوگا۔ آخر میں بیری نے اقرار جرم کیا۔ عدالت نے انھیں جیل بھیجے بغیر چھوڑ دیا اور ان کی دوکان بھی بند نہیں ہوئی۔

اسی کی دہائی میں ایڈز کی وبا کے دوران بیری اور کیرن مثالی مالکان ثابت ہوئے۔ بیری اُن ملازموں کے گھر جاکر ملاقات کرتے تھے جو بیمار ہوگئے تھے یا جنہیں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ اس وقت ایچ آئی وی وائرس کا ہونا انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا تھا۔ جن ملازموں کو ایڈز کی بیماری ہوجاتی تھی وہ کام پر نہیں آسکتے تھے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کی ہیلتھ انشورنس خارج کیے جانے کا خدشہ تھا۔ لیکن کیرن ان ملازموں کو اُن دنوں آکر کام کرنے کی اجازت دیتیں جن دنوں وہ بہتر محسوس کرتے تھے اور وہ یہ بات کسی کو نہیں بتاتی تھیں۔

’ميں ان کو کام پر آنے کی اجازت دیتی تھی اور انھیں نقد ادائیگی کرتی تھی جو کہ غیر قانونی تھا لیکن انھیں اپنے کام سے محروم رہنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ کام کرنا ضروری ہے۔‘

بہت سارے ملازم ایسے تھے جن کے اپنے خاندان سے روابط نہیں تھے لیکن ان کے گھر والے اپنے بچوں کے مرنے کے بعد بیری اور کیرن کو فون کرکے ان سے ان کے بارے میں معلومات لیتے تھے۔ بیری اور کیرن کے ایل اے کی ہم جنس برادری کے ساتھ طویل اور گہرے تعلقات کے باوجود ان کے گھر میں جنسیت کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔ اس کے باوجود بھی ان کی بیٹی ریچل خفیہ طور پر ایک ہم جنس پرست کی زندگی گزارنے لگی اور اس کے بارے میں اس کے والدین کو کچھ نہیں معلوم تھا۔ ریچل بتاتی ہیں، ’میں گے کلب گئی۔ میرے پاس کم عمر ہونے کا ایک شناختی کارڈ تھا۔ میں ڈریگ شوز دیکھنے جاسکتی تھی۔ میں ان ساری باتوں کے بارے میں بہت جوش میں تھی۔‘

بیری اور کیرین
ویسٹ ہالی وڈ دکان کے باہر بیری اور کیرین

حالانکہ اپنے ہم جنس ہونے کے بارے میں انہوں نے کبھی کھل کر اعلان نہیں کیا۔ ریچل ہمیشہ سے ہی بہت آرٹسٹک اور باغی تھیں اس لیے جب دسویں کلاس کے آخر میں ہونے والی سکول پارٹی یعنی پروم میں وہ اپنے ہمراہ ڈانس کرنے کے لیے اپنی ایک دوست لڑکی کو لے کر گئیں تو کسی کو تعحب نہیں ہوا۔‘ لیکن سب سے چھوٹا بیٹا جوش جو خاندان کا سب سے ہونہار اور کامیاب بچہ تھا اور اپنے کندھوں پر اپنی والدہ کی امیدوں کا سارا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، وہ اکیلے ہی اپنے دل میں دبے ایک راز سے جدوجہد کررہا تھا۔

جوش بتاتے ہیں، ’میں نے اپنی ماں کی ساری امیدوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی، میں ہر کام میں پرفیکٹ ہونا چاہتا تھا۔‘ جس دن جوش واپس کالج جانے والے تھے، اس سے ایک رات پہلے ان سے یہ راز اور اپنے دل میں نہیں رکھا گیا انھوں نے کاغذ کی ایک پرچے پر لکھ ہی دیا اور پھر قلم اور پرچہ پھینک دیا۔ اس پرچے پر لکھا تھا: ’آئی ایم اے گے‘ ، یعنی ’میں ہم جنس پرست ہوں‘۔

یہ لکھنے سے پہلے انھوں نے گھر چھوڑنے کی ساری تیاری کرلی تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کا یہ راز کھل جانے بعد انھیں گھر سے نکال دیا جائے گا۔ وہ بتاتے ہیں، ’میں نے اپنی فلائٹ بک کرالی تھی اور ٹکٹ کی رقم بھی ادا کردی تھی کیونکہ جس ردعمل کے بارے میں، میں سوچ رہا تھا وہ بالکل ممکن تھا۔‘ البتہ ان کی والدہ کیرن کا جو ردعمل تھا وہ کچھ ایسا تھا جو ماں اور بیٹے دونوں کو تا عمر یاد رہے گا۔

کیرن یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں: ’میں نے کہا تم یقین کے ساتھ یہ بات کہ رہے ہو؟ تم ایسا کیوں کررہے ہو؟ خدا مجھ کو سزا دے رہا ہوگا۔ مجھے کسی کے بھی ہم جنس پرست ہونے سے کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن میں اس بات کے لیے تیار نہیں تھی کہ میرا خود کا بیٹا ہم جنس پرست ہوسکتا ہے۔‘

کیرن کو بعد میں اس بات کا احساس ہوا کہ انھوں نے جوش کا دل دکھایا ہے، لیکن ان کو بیٹے سے اس کی جنسیت کے بارے میں بات کرنا بھی مشکل لگتا تھا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے جذبات سے صحیح طریقے سے نمٹنے کے لیے انھیں مدد کی ضرورت ہے۔ وہ بتاتی ہیں،’مجھے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک ہم جنس پرست بچےکی ماں ہونا کیسا ہوتا ہے۔‘

’میں پی ایف ایل اے جی ( پیرینٹس اینڈ فرینڈز آف لیسبیئن اینڈ گے) نامی تنظیم میں شامل ہوگئی۔ مجھے اس بات کو تسلیم کرنا تھا کہ والدین کی بچوں کے لیے اکثر بعض امیدیں ہوتی ہیں لیکن یہ والدین کا مسئلہ ہے نہ کہ بچوں کا۔‘ ’بات جب میرے اپنے بچے کی آئی تو مجھے لگا کہ ہم جنس پرستوں کے بارے میں میرے بعض خیالات ہیں جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔‘ بعد میں بیری اور کیرین دونوں ہی اس تنظیم کے سفیر بن گئے اور دوسرے والدین کو ان کے بچوں کی جنسیت سمجھنے اور اسے قبول کرنے میں ان کی مدد کرنے لگے۔

جاش

اس صدی کی ابتدا میں انٹرنیٹ عام ہونے لگا تو بیری اور کیرن کی دوکان سرکس آف بکس کی مقبولیت کم ہونے لگی اور گمنامی کا شکار ہوگئی۔ اس دوکان کی سلورلیک میں واقع برانچ 2016 میں بند ہوگئی اور ویسٹ ہالی وڈ میں واقع دوکان اس برس فروری میں بند ہوگئی۔

ریچل بتاتی ہیں، ’جب یہ سٹور بند ہوا تھا تو لوگوں کے ردعمل پر یقین نہیں آیا۔ لوگ سٹور کے اندر آرہے تھے اور رو رہے تھے۔ لوگ مرکزی دروازے سے داخل ہورہے تھے اور ہم رو رہے تھے۔‘

بہت سارے پرانے اور وفادار صارفین اور ملازم دوکان بند پر بہت افسردہ تھے کیونکہ ایک زمانے میں ایل اے کی ہم جنس پرست برادری کے لیے یہ دوکان چند محفوظ مقامات میں سے ایک تھی۔ کیرن بتاتی ہیں کہ آخر میں وہ ایسی مالکن بن کر کاروبار نہیں چلا سکتی تھی جیسا وہ بننا چاہتی تھیں۔ کاروبار سست پڑ گیا تھا اور ملازمین کو وہ مراعات نہیں دے سکتی تھی جیسی ان کو ماضی میں ملتی تھیں۔ ’میں نے ان لوگوں کے ساتھ تب تک کام کیا جب تک میں کرسکتی تھی۔ یہ لوگ تعلیمی پروگرامز میں اپنا نام درج کرا چکے تھے اور کم از کم ان کے پاس پارٹ ٹائم ملازمتیں ہیں۔ مجھے اس دوکان کو بند کرتے وقت زیادہ تکلیف نہیں ہوئی۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11994 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp