ہم بچوں کو جو سکھائیں گے وہی ہمارے سامنے آئے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں نفسا نفسی کا عالم تو تھا ہی مگر حالیہ چند برسوں میں خود غرضی کی شدت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے اتنی تیزی سے کہ ایک بھائی کی ترقی سے دوسرا بھائی یا پھر بھابی خوش نہیں ہوتے۔ جب رشتوں میں یہ دوسرے تیسرے بلا وجہ کی مداخلت کرتے ہیں اور عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے صرف طنز کے تیر ہی چلاتے ہیں تو یہاں بلا سبب ہی دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ رشتے کمزور ہوتے ہوتے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔

جب کسی معاشرے میں رشتے اور تعلق اپنی اہمیت کھو دیں تو وہاں جنم لینے والے معاشرتی المیے ناسور بن کر معاشرے کی جڑوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر عفریت بن کر اسے نگل جاتے ہیں۔ یقین کریں میرے شہر میں، میرے دیس میں اور میرے سماج میں اور بھی غم ہیں سیاست اور سیاسی مداریوں کے تماشوں کے سوا۔

میں اخبار میں، ٹی وی چینلز پر، ڈراموں میں، معاشرے میں غرض ہر جگہ انسانی اور سماجی خود غرضی کا مشاہدہ بہت مدت سے کر رہی ہوں اور سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخر ہم کس رتھ پر سوار ہیں کہ اپنے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ یہ معاشرہ انسانوں نے تحفظ اور اپنی بقاء کے لیے بنایا تھا تاکہ کوئی ان کی جان و مال ناجائز طور پر غضب نہ کر لے اور معاہدہ عمرانی اس کی واضح شکل ہے۔

مگر کیا آج کا انسان پڑھ لکھ کر اتنا چھوٹا ہو گیا ہے کہ اسے اپنے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا، وہ غلط ہو کر بھی صحیح ہے اوردوسرے سچے ہو کر بھی جھوٹے۔ لگتا ہے اب نئے سرے سے کوئی نیا معاہدہ عمرانی کرنے پڑے گا۔ جس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض کو قانونی اور اخلاقی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ارے بھائی یہ تو روحانی بیماری تھی جو پہلے صرف چیدہ چیدہ لوگوں کو لاحق تھی مگراب ایک سماجی ناسور کی شکل اختیا ر کر چکی ہے۔

جبکہ ہمارے ڈرامہ چینلز جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں دو بہنیں ہیں اور ایک عدد امیر لڑکا جس کے حصول کے لیے کوئی ایک بہن اخلاقیات اور رشتوں کی دھجیاں بکھیر رہی ہے اور یہی حال ایک لڑکے کا ہے کہ بھابھی پسند آ گئی ہے تو اس کو حاصل کرنے کے لیے بھائی کی جان اور عزت کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب دکھانے کا کیا مقصد ہے؟ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی ہم اس حد تک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں یا ہمارے ہاں بھی رشتوں کا دیوالیہ ہو چکا ہے؟ دوسری جانب گھروں میں آنے والی بہویں اپنے گھروں سے کیا تعلیم لے کر آ ہی ہیں؟ وہ رشتوں کو جوڑنے کی بجائے انہیں توڑنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

ایک اور پہلو جس کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے بہن اور بھائیوں کے آپس میں بہت سارے راز ہوا کرتے ہیں جن کا ہماری اولادوں پر کوئی حق نہیں ہوتا مگر ہمارے ہاں تو رام لیلا ہی نرالی ہے ایک طرف ہم اپنے بہن بھائیوں کے ماضی اپنے بچوں کو بتاتے ہیں تو دوسری جانب اپنی گندی اولاد بیٹا یا بیٹی بھی ان کے لائق بچوں کو دینا چاہتے ہیں اور جب یہ بیاہ کر آتی ہیں تو آ کر اپنی خالہ یا پھوپھی یا کوئی بھی رشتہ ہے ان کا جینا حرام کر دیتی ہیں کیونکہ ان کی ماؤں نے سبق ہی ایسا پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ وہ لڑکیاں اپنے رشتوں کا احترام ہی کرنا نہیں چاہتیں۔

رشتے تیزی سے اپنا حسن کھو رہے ہیں جس کی اہم ترین وجہ تربیت ہے جو نہیں رہی اور اگر ہو بھی رہی ہے تو وہ احترام کے عنصر سے خالی ہے۔ تو کیا آج کی ماں تربیت کے حوالے سے بانجھ ہو چکی ہے یا حرام کی کمائی پر پلنے والے احترام کرنا ہی نہیں جانتے۔ کچھ تو ہو رہا ہے ایسا جو انسان کو انسانیت کے سب سے نچلے درجے پر لے آیا ہے کہ رشتوں کی اہمیت اور احترام ختم ہو گیا ہے، اولڈ ہومز بن رہے ہیں۔ جہاں اولادوں والے جا کر آبا دہو رہے ہیں تو کیا یہ وہی ماں باپ ہیں جنہوں نے اپنے بڑوں کو تسلیم نہیں کیا تھا، ان کی عزت نہیں کی تھی؟

تو سیانے سچ کہہ گئے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ عزت کا بدلہ تو عزت ہی ہوتا ہے مگر جب ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ دوسروں پر فرض ہے کہ وہ ہماری عزت کریں اور ہم جو مرضی کریں کوئی ہمیں روکے نہ اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی نصیحت کرے۔ آخر ایسا کب تک چلے گا؟ مجھے یاد ہے کہ میرے استاد سر شاہد اکثر خاندان بنانے اور اس میں عورت کا کردار اس حوالے سے ہم سے باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر کیا اب تعلیمی ادارے بس کاروباری ادارے بن کر رہ گئے ہیں وہاں تربیت کا کوئی بھی عنصر موجود نہیں ہے۔

یعنی آج کی نسل بد نصیب ہے کہ گھر میں ماں ٹی وی کے آگے بیٹھی ہے یا شوہر کے ساتھ مل کر گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محنت کر رہی ہے اور تعلیمی ادارے صرف تعلیم دے رہے ہیں کہ اس مضمون کو ایسے کرنا ہے ایسے کرنا ہے اور زندگی کا مضمون کدھرچلا گیا ہے۔ جس کی طرف کسی کی توجہ نہیں جا رہی اور عبد اللہ حسین کی اداس نسلیں اب گمشدہ نسلیں بنتی جا رہی ہیں جن کا حال ہی بے حال ہے اور بد حالی کایہ سفر اس طرح جاری ہے۔

ہمارا میڈیا ہماری نسلوں کی زبوں حالی کا سب سے بڑا کردار ہے جو ڈرامہ کے نام پر جو کلچر دیکھا رہا ہے وہ کوئی مثبت سوچوں کو ہموار نہیں کر رہا۔ باقی رہ جاتے ہیں ہم کالم نگار تو شاید اب سماجی مسائل ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ سیاست، سیاست اور بس سیاست۔ اس نے یہ کر دیا اور وہ یہ کر رہا ہے۔ تمام اسلامی ملکوں میں نفرت کے سائے ہیں اور کوئی ایک دوسرے سے ملنے کا روادار نہیں۔ یہ ہو گیا تو پاکستان میں یہ ہو جائے گا۔ داعش، القاعدہ، طالبان اور اس سب کے چکروں میں پستے ہیں صرف اور صرف عوام۔

ارے صاحب ہم جس ملک میں رہتے ہیں اور معاشرہ جس کے ہم سب بنیادی کردار ہیں اس کی طرف کسی کی توجہ ہے یا نہیں، بس جب کوئی المیہ کسی اندہناک واقعے کی صورت میں رونما ہو جائے تب کالم بھی آتے ہیں اور ٹی وی چینلز پر ٹاک شو بھی ہوتے ہیں۔ مذہبی تربیت کی بات کی جائے تو جب سے جنرل ضیاء الحق نے اسلامی تاریخ کو اسلامیات بنا دیا ہے معاشرہ بھی مجموعی طور پر مذہب سے دور ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ماں اور مولوی نے خدا کو بس عذاب دینے والا، قہاری و جبار بنا دیا ہے جس وجہ سے بچوں کے دلوں میں خدا کے لیے محبت نہیں خوف اور ڈر پیدا ہو رہا ہے اور یہی وہ خوف ہے جس کو شکاری شکار کی بنیاد بنا ڈالتے ہیں اور جنت کے تعاقب میں نہ ان کو دین ملتا ہے اور نہ دنیا۔

ہم کس طرف جا رہے ہیں اور موجودہ معاشرتی بگاڑ کا کیا حل ہو سکتا ہے مل کر سوچنا ہو گا۔ معاشرتی بگاڑ پر خاموشی کسی قتل کے عینی شاہد کی خاموشی کے مترادف ہے جس کی وجہ سے مجرم آزاد رہتا ہے اور قانون خاموش تماشائی اور انصاف کبھی نہیں ملتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *