کالج اساتذہ کی بھی سن لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنا ہے پنجاب کے کالج کیڈر کے اساتذہ ایک بار پھر سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ اور اس احتجاج کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ حکومت وقت اساتذہ برداری سے کیے گئے وعدے وفا نہ کر سکی۔ یاد دہانی کے لیے گوش گزار کرتا چلوں کہ پچھلے سال بھی کالج اساتذہ نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے احتجاجی مظاہرے کیے اور نوبت دھرنے تک آن پہنچی تھی۔

مارچ 2019 کے آخری ایام میں کالج اساتذہ نے مال روڈ پر دھرنا دیا اور اپنے حقوق کی خاطر مال روڈ پر ہی راتیں بسر کرنے پر مجبور ہوئے۔ کوئی بھی انسان اپنے پیاروں سے دور سڑک پر رات نہیں گزارنا چاہتا۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ کوئی بھی مہذب شہری احتجاج کا راستہ تب اختیار کرتا ہے جب پانی سر سے گزر جائے۔

بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے بار بار احتجاج کا راستہ اپنانا پڑتا ہے۔ کبھی آپ کو ڈاکٹر اور نرسیں روڈ پر دکھائی دیں گے، کبھی کلرک سڑکوں پر ڈیرے ڈالے نظر آئیں گے۔ ملازمین تو ایک طرف یہاں نان بائی سے لے کر تاجروں تک ہر کسی کو اپنے مطالبات کے حق میں ریلی نکالنی پڑتی ہے۔

ہماری حکومتیں عوام کو سبز باغ دکھانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں، ہر دفعہ عوام کو اپنے میٹھے میٹھے بول سے رام کر لیتی ہیں لیکن مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ عوام اپنے مطالبات پورے نہ ہوتے دیکھ کر ایک بار پھر سڑکوں کا رخ کرتی ہے اور حکومت ان کو ایک اور لالی پوپ تھما دیتی ہے۔ یوں احتجاج کا لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ہم لوگ پیدا ہی احتجاج کرنے کے لئے ہوئے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرے گا جب آپ کے ٹیلی ویژن پر احتجاج اور دھرنے کی خبریں نا چل رہی ہوں۔ ہمارے ہاں احتجاج کا موسم سدا بہار اور دائمی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ احتجاج سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں یا نہیں، سڑکوں اور ٹیلی ویژن کی رونقیں بہرحال بحال رہتی ہیں۔

اب کالج اساتذہ نے ایک بار احتجاج کا راستہ چنا ہے اور اس دفعہ وجہ حکومت وقت کی طرف سے کیے گئے وعدوں کا وفا نا ہونا ہے۔ یکم اپریل 2019 کو اساتذہ نے اس وقت دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا جب اساتذہ کمیونٹی اور حکومت پنجاب کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پا گیا۔ پنجاب حکومت کی نمائندگی وزیربرائے اعلی تعلیم راجہ یاسر ہمایوں اور کالج اساتذہ کی نمائندگی پی پی ایل اے کے صدر نے کی۔ اس معاہدہ کے مطابق حکومت پنجاب دو ہفتوں کے اندر اساتذہ کی پے پروٹیکشن کی سمری بنا کر فنانس ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا کر اسے جلد از جلد منظور کرا لے گی۔

کالج اساتذہ جو 2002 اور 2005 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے بعد کنٹریکٹ پر سلیکٹ ہوئے ان کو ریگولر کرتے ہوئے پے پروٹیکشن دی گئی تھی جبکہ 2009 اور 2012 کے درمیان سلیکٹ ہونے والے لیکچرار کو ریگولر ہونے پر پے پروٹیکشن نہیں دی گئی۔ اور بعد میں 2002 اور 2005 کے لیکچرار سے بھی پے پروٹیکشن واپس لے کر ان سے ریکوری شروع کر دی گئی۔ حکومت کے اس اقدام کو کچھ لیکچرار نے عدالت میں چیلنج کر دیا اور عدالت نے سٹے آرڈر دیتے ہوئے حکومت کو ریکوری کرنے سے روک دیا۔

دریں اثنا کالج اساتذہ اور حکومت پنجاب کے درمیان ہونے والے معاہدہ پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں لگ بھگ 10 سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن تبدیل کیے گئے۔ اور یوں اب تک کالج اساتذہ کا پے پروٹیکشن کا معاملہ کسی منطقی نتیجہ کے بغیر سرخ فیتہ کے گول چکر کاٹ رہا ہے۔

کالج اساتذہ نے ضلعی سطح پر احتجاج شروع کردیا ہے اور 3 فروری سے ڈویژن کی سطح پر احتجاج ریکارڈ کرایا جانا تھا لیکن محکمہ اعلی تعلیم کے حکام کے ساتھ کالج اساتذہ کے تازہ ترین مذاکرات کے نتیجہ میں اسے کچھ عرصہ کے لئے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اگر مقررہ مدت تک مطالبات کی منظوری میں پیش رفت نہ ہوئی تو اساتذہ ایک پھر مجبور ہو کر مال روڈ لاہور کا رخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ معلوم نہیں کون سی حکومت اپنے معمار قوم کو سڑکوں پر دھکے کھاتے ہوئے دیکھ کر سکون محسوس کرتی ہوگی لیکن یہ بات واضح ہے کہ اب تک حکومت وقت کالج اساتذہ کے مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آئی ہے۔ حکومت پنجاب سے گزارش ہے کہ کبھی ”کالج اساتذہ کی بھی سن لیں۔ “ تاکہ ان کی بھی شنوائی ہوسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *