شجر حیات: ایک رمزیہ تمثیل، ایک ناول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کا پھیلا ہوا بیابان اور کہیں ایک تنہا شجر جس پر انواع واقسام کے دانش کے چمکتے ہو ئے موتی۔۔۔ یہ خواب نہیں، حقیقت ہے۔۔۔ یہ حرف و صوت کا افسانہ نہیں۔ اور نہ ہی لکیروں یا رنگوں کا جال ہے۔۔۔ کہانی تو کچھ اور ہے۔۔۔ ہم اس کی تلاش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے اپنے مسیحا کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ہم ہیں متاع کوچہ وبازار کی طرح۔ رنگ چہار جانب ہیں۔ رنگ، ہوا اور خوشبو۔ کہیں بھی جا سکتے ہیں۔۔۔ ایک مسافر کارزار حیات میں قدم رکھتا ہے اور پھر اپنی موج مستی میں یہ سفر طے کرتا ہے۔ کچھ رنگ اچھالتا ہے کچھ گیت گنگناتا ہے اور کچھ لفظوں کے موتی پروتا ہے۔۔۔ زمانہ اس کو تاک رہا ہے۔ ہر زمانے کی اپنی اپنی حقیقت ہے۔۔۔

میرے ایک دیرینہ رفیق نے اپنا حال ہی میں شائع ہونے والا ناول ’’شجر حیات ‘‘ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ اور میں چونکا، ریاظ احمد ایک لکھاری ہیں اور یہ عقدہ مجھ پر کتنے برسوں بعد عیاں ہوا۔۔۔ میں نے ہمیشہ انہیں کسی نہ کسی کتاب کے سرورق کا مصور ہی جانا تھا۔۔۔ انہوں نے کم بیش دس ہزار کتابوں کے سرورق بن ارکھے ہیں۔ ڈرامے لکھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے (لاہور) کے صدر ہیں۔ پاکستان مزدور کسان پارٹی کے دو سال تک صدر رہے۔ منسٹری آف انفارمیشن پاکستان سے ’’قائد تجھے سلام ‘‘ مضمون لکھنے پر ہنڈا سوک کار کا انعام حاصل کر چکے ہیں۔ الفریڈ ویبر کی کتاب ’’تاریخ فلسفہ‘‘ کا تدوین و ترجمہ کیا۔ ریاظ محض ایک مصور نہیں۔ ایک کہانی کار بھی ہیں، میں انہیں ایک مصور کے طور پر ہی جانتا تھا۔۔۔ ہمیشہ انہیں زوئے(ظ) والا ریاض کہتا۔۔۔ جو ان کا سگنیچر بھی ہے اور اب حقیقی نام بن چکا ہے۔

مرنجاں مرنج، دھان پان، فورتھ ائیر کے طالبعلم جیسے ریاظ احمد صدیوں سے ایسی ہی قدو قامت کے ساتھ آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ شائستہ مزاج۔۔۔ دھیمے سُروں میں بات کر نے والے۔۔۔ مسئلے کا حل تلاش کرنے والے۔۔۔ ہمیشہ سرگرداں اور مشتاق اور سراپا محبت۔

ناول ’’شجر حیات‘‘ کا انتساب کچھ یو ں ہے

’’اپنی محبوب ماں کے نام۔ جس کی ذات آج بھی مجھ میں زندہ ہے ‘‘

اور یہ اس کائنات کی ابدی سچائی ہے۔۔۔ ۔

اس ناول کی کچھ سطریں :

چہروں پر لکھی تمام کہانیوں کی زبان اور رسم الخط ایک ہے۔

زندگی ہمیشہ اپنے عشاق پر اپنے بھید اور رمزیہ رنگ آشکار کرتی ہے۔

محبت کائنات کی سب سے بڑی دانائی ہے۔

جدائی کا پہلا نوحہ انسان نے اس دن گایا جس دن ایک انسان نے دوسرے انسان کو غلام بنا کر اُسے اُس کے پیاروں سے جدا کیا، یہ وہی دن تھا جس دن سے ہجر کے انگاروں کا ادب شروع ہوا۔

حُسن سچ کی روشنی ہوتا ہے جیسے ایک سچ دوسرے سچ کی ضد نہیں ہوتا اسی طرح آسمان میں چمکتا ہوا چاند بھی سچ ہے اور سمندر میں جھلملاتا چاند کا عکس بھی جھوٹ نہیں ہے۔

’’شجر حیات‘‘ سیدھے سبھائو کا ناول ہی نہیں ہے۔۔۔ میں اسے ناول سے ماورا کچھ الگ نام دوں گا۔۔۔ اس میں دلچسپی اور تجسس کے تمام عناصر موجود ہیں۔۔۔ مگر یہ ناول نہیں ہے۔۔۔ کچھ اور ہے بقول ہمارے گلزار

صرف احساس ہے یہ

روح سے محسوس کر و

پیار کو پیار ہی رہنے دو

کوئی نام نہ دو ‘‘

درحقیقت یہ کہانی باغ کی کہانی ہے جو بہت سے مخفی کو عیاں کرتا ہے۔۔۔ سب کردار اتفاقیہ ملتے ہیں۔ زندگی بھی تو اتفاقیہ ہے۔۔۔

کہانی محبت ہوا اور خوشبو کی مانند ہوتی ہے۔ جو کہیں بھی جا سکتی ہے۔۔۔ وہ حدودو قیود کی پابند نہیں ہوتی ہے۔ ناول کی کہانی موت، مقدر، اور محبت کا بیانیہ ہے۔ موت کے بارے میں لکھتے ہیں’’موت پہیلی نہیں، خوف ہے، صدیوں میں گندھے ہوئے نامعلوم کا خوف، زندگی موت کے اصول پر نہیں، نفی کی نفی کے اصول پر قائم ہے، ایک بیج اپنا وجود کھو کر مرتا نہیں، ایک نیا وجود پا لیتا ہے۔ موت کو ہم انتقال بھی کہتے ہیں۔‘‘ مقدر کے بارے میں کہتے ہیں’’ہمارا مقدر صرف ہمارا مقدر نہیں ہوتا، ہمارے مقدر میں ہمارے خاندان، سماج، دنیا اور کائنات کا مقدر گندھا ہوتا ہے، بالکل ایسے جیسےایک پُھول کا مقدر ہوا، پانی، مٹی اور روشنی سے جڑا ہوتا ہے۔

محبت اُن کے نزدیک کائنات کی سب سے بڑی دانائی ہے۔

کہانی کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ اس کی آخری سطریں کچھ یو ں ہیں،

زندگی، زمین کی لاڈلی بیٹی، خوشبوئوں کی مہکتی کلی، لامحدود شکلوں، رنگوں، آوازوں اور ذائقوں کا رس بھرا جادو، حیرتوں بھرا رنگین معمہ، کائنات کی آفاقی معنویت، مسلسل بے کلی میں حوصلوں کا بہتا دریا، ایسے مست، جیسے یقین ہو کہ دریا ہمیشہ ہمیشہ بہتا رہے گا، جیون کی رنگ رنگیلی نائو صدا بہتی رہے گی، شعور کے بادبان ہوائوں کو گھوڑے بنا کر آگے بڑھتے رہیں گے، اسباق محبت کے گم گشتہ باب دریافت ہوتے رہیں گے اور زندگی، ممکن اور ناممکن سے بے پروا امکان کی انگلی پکڑے ہمیشہ مسکرانے پر اصرار کرتی رہے گی۔

سو یہ سچ کی جیت ہے۔

سو میرے دوست ریاظ احمد تمہارا یہ ناول ’’شجر حیات ‘‘ ایک رمزیہ تمثیل ہے۔ ایک مکالمہ ہے۔۔۔ کسی خیال یا خواب کی بازیافت ہے۔ مجھے تویہ تمہاری کہانی اپنی کہانی لگی ہے۔۔۔ اور یہی کسی کامیاب تخلیق کی نشانی ہوتی ہے۔۔۔

مگر یہ تو بتائو کتاب کیوں نہیں فروخت ہوتی۔۔۔ کتابوں کے سوداگر تو بہت ہو گئے۔ کیا کتاب کا کوئی خریدار بھی ہے۔۔۔ کب تک ہم لائبریریوں کے’ قبرستان‘ بھرتے جائیں گے۔۔۔ کاش اس شہر کا کوئی بھی فرد جب صبح اٹھ کر بازار جائے تو اپنی ٹوکری میں آلو ٹماٹر گوشت مرچیں ادرک کے ساتھ ایک آد ھ ’’شجر حیات ‘‘کی کاپی بھی خرید کر ڈال لے۔ کیا کتاب کا کوئی خریدار بھی ہے۔۔۔ میں بھی ایک ’کتب مینار ‘بنا کر بیٹھا ہوں۔ اور یہی سوچ رہا ہو ں کہ۔ کتابوں کے سوداگر ارب پتی ہو گئے۔ کتاب لکھنے والوں کے پاس بس خواب رہ گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *