شریف برادران کی لڑائی تیز : مریم فیکٹر غالب آ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شریف فیملی کی عدم موجودگی میں، سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کی پاکستان میں قیادت کے حوالے سے شریف خاندان کے تضادات نے ایک نئی مشکل صورتحال پیدا کردی ہے۔ نون لیگ میں شہبازشریف گروپ کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی غیر موجودگی میں خواجہ آصف بطور اپوزیشن لیڈر پارٹی قیادت سنبھالیں جبکہ مریم نواز نے پارٹی قائد نواز شریف سے شاہد خاقان عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کی منظوری لے لی ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف کے دونوں بڑے بچے، مریم نواز اور حسین نواز پارٹی کو شہبازشریف گروپ اور مائنڈ سیٹ سے بچانے کے لئے پوری طرح سرگرم ہو چکے ہیں اور نواز شریف کے فیصلوں پر حسین نواز اور مریم نواز کی رائے غلبہ پارہی ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق مریم کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ چچا اس کے ساتھ ہاتھ کر گیا ہے جو پارٹی پر قبضہ کرنے کی غرض سے ایک طرف تو پارٹی قائد نواز شریف کو مریم سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگیا ہے، اور اسی لیے اب اگلے مرحلے میں مریم نواز کی لندن روانگی کا وعدہ نبھانے سے پیچھے ہٹ گیا ہے تو دوسری طرف خود لندن جا کر بیٹھ گیا ہے تاکہ نواز شریف کو دباؤ میں لا کر مرضی کے فیصلے کرواسکے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس بات کا یقین ہوجانے کے بعد ہی مریم نواز نے خود کو کچھ عرصہ کے لئے غیرفعال رکھنے کا روزہ توڑ دیا ہے اور اسی بدگمانی کی بنیاد پر وہ پارٹی پر چچا کی سوچ اور شہباز شریف گروپ کا غلبہ بڑھتے دیکھ کر قدرے بے قابو اور پارٹی سیاست میں پوری طرح متحرک ہوچکی ہیں۔

ادھر اسٹیبلشمنٹ ملک میں سیاسی استحکام لانے کی غرض سے مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لئے کپتان پر مزید دباؤ ڈالنے میں ناکام ہوگئی ہے، وزیراعظم نے کسی حریف کو ریلیف دینے کی بابت مقتدر حلقوں کو کورا جواب دے دیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ 14 فروری کو پاکستان کے ایک عظیم دوست اور مسلم امہ کے ابھرتے لیڈر، ترک صدر طیب اردگان کی پاکستان آمد سے قبل ملک میں داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کی فضا کو یقینی بنایا جاسکے۔ جس طرح نواز شریف اب پاکستان سے جاچکے ہیں، اسی طرح مریم نواز بھی ملک سے باہر چلی جائے تاکہ ملک میں سیاسی بے امنی، بے چینی اور خلفشار کے امکانات کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔

اس ضمن میں عمران خان کی زیر قیادت موجود سول سیٹ اپ پر مقتدر حلقوں کا دباؤ بتایا جاتا ہے مگر دوسری طرف کپتان کی حکومت یہ دباؤ قبول کرنے پر تیار نہیں اور کشمیر ایشو پر کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے والے مسلم دنیا کے واحد رہنما کی آمد سے قبل عمران خان ایک مزید کشمیری کو ملک سے جانے دینے پر آمادہ نہیں، کیوں کہ حکومت سمجھتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ شہبازشریف بھی بطور گارنٹر ساتھ ہی فرار ہوگیا حالانکہ کسی کی گارنٹی دینے کی صورت میں ضامن کا موجود اور دستیاب ہونا لازمی ہوتا ہے۔

حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ پورے کے پورے شریف خاندان کے ملک سے نکل جانے کے بعد اب مریم نواز ہی واحد گارنٹی پیچھے رہ گئی ہے، کم از کم مریم نواز کا ملک میں موجود رہنا حکومت کی فیس سیونگ اور اس کے اکلوتے بیانیے کی لاج رکھنے کے لئے ناگزیر ہے، اگر شریف فیملی کی اس اکلوتی گارنٹی کو بھی جانے دیا گیا تو پی ٹی آئی حکومت اور اس کے مینڈیٹ کی کیا ساکھ رہ جائے گی۔

لہٰذا کپتان نے یوم کشمیر پر آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے آغاز میں بظاہر تو وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے مفاہمت کے مشورے کا جواب دیا لیکن سنجیدہ حلقوں کے نزدیک وزیراعظم عمران خان نے در اصل یہ جواب مقتدر حلقوں کو اس دباؤ کا دیا ہے جو کشمیری نواز شریف فیملی کو مزید ریلیف دینے جانے کے لئے ان پر ڈالا جارہا ہے، اور یوں اصل میں کپتان نے اسٹیبلشمنٹ کو جواب دے دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *