میں کیوں لکھوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا۔ ہمیں کیوں کر لکھنا چاہیے؟ لکھنا کیوں ضروری ہے؟ میں لکھوں، تو کیوں؟ ایک لمبی فہرست ہے جو لکھتی ہے انہیں کوئی پڑھتا بھی ہے یا نہیں، میں نے لکھا تو کون پڑھے گا؟ آخر بڑے بڑے لکھاری موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہمارے لکھنے کا فائدہ؟ بات درست تھی۔ دماغ کے دریچے میں سوال سر اٹھاتا ہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ لکھاریوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ وہ بھی لکھ رہے ہیں جنہیں صرف پڑھنا چاہیے۔

وہ الگ زمانہ تھا جب لکھنے والے خال خال ملتے تھے۔ اب تو جو بھی پتھر اٹھائیں لکھاری ملتے ہیں۔ صرف لکھاری ہی نہیں بلکہ خودساختہ ادیب اور بڑے لکھاری۔ ادب کے نام پر بہت سی بے ادبیاں کی جاتی ہیں۔ بیت الخلائی اور قے آور تحاریر کی کثرت اس معاملے کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہے۔ باذوق قارئین شبہات میں پڑ جاتے ہیں کہ یہ لکھا کیا ہے؟ کیا؟ یعنی کچھ بھی!

ادب میں بے ادبیاں طبع نازک پر گراں گزرتی ہیں پر کیا کیجیے کہ دانش گردیاں ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر کی جاتیں ہیں۔ پوچھنے والا کون ہے؟ اور قلم کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہر ایرا غیرا خود ساختہ ادیب ہے جو لکھ رہا ہے۔ جب کہ بہت بہترین اور اعلیٰ لکھنے والے خاموشی اوڑھے رہتے ہیں۔ صرف پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ جب کہ انہیں لکھنا چاہیے۔ تحریری دنیا میں معیاری ادب تخلیق کرنے والے کمیاب ہیں۔ باذوق قارئین سر جھٹک کر رہ جاتے ہیں۔

خاصے جتن پر بھی اس تحریر سے معیار نام کی چیز پیدا نہیں کر سکتے۔ قاری کی سمجھ بوجھ کا خیال رکھتے ہوئے اچھا اور بہت بہترین لکھنے والے بھی موجود ہیں۔ فنِ تحریر کے اکابر موجود ہیں جن کے پاؤں کی خاک ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے۔ لیکن غیر معیاری لکھنے اور اس پر مستزاد سرقہ بازوں کا ہجوم ہے۔ سطحی اور ناقص تحریروں کی بہتات ہے۔ اپنی اپنی دکان پر الفاظ کا دھندا کرنے بیٹھے ہیں۔ چند سطریں رگید کر تخلیق کاروں میں خود کی شمولیت اعزاز سمجھتے ہیں۔ اور ان کی وہ ویسے ہی کھینچی ہوئی سطریں شائع بھی ہو جاتی ہیں۔ تو آپ کیوں کر نہ لکھیں؟

مشہور کہاوت ہے ”لکھنا ایک مستقل تخلیق کا عمل ہے۔ “ آپ کے پاس ایک اچھا اور بہترین آئیڈیا ہے۔ اور آپ سوچ رہے ہیں کہ میں اس پر لکھوں گا۔ لیکن پھر خیال اڑتے ہوئے آتا ہے کہ پڑھے گا کون؟ تو شاید وہ آئیڈیا آپ کے ساتھ ہی چلا جائے۔ سوچا جائے کہ ابوالکلام آزاد احمد نگر کی جیل میں بیٹھ کر یہ سوچتے کہ بھئی پڑھے گا کون؟ تو غبار خاطر جیسا بے مثال موتی ہمیں نہ ملتا۔ آپ کے پاس کچھ نیا ہو گا تو ہر کوئی آپ کو پڑھے گا۔

آپ کے پاس شعور و آگاہی کی شمع ہو گی تو سب روشنی پائیں گے۔ آپ کی تحریر سے راستا ملے گا تو لوگ ضرور چلیں گے۔ آپ کوئی تحریر پڑھتے ہیں۔ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اس موضوع پر تو میں اس سے اچھا لکھ سکتا تھا۔ لکھیے! پڑھا جائے گا۔ کوئی تحریر نظر سے گزری، کسی بھی نکتے پر بحث کی گئی تھی۔ آپ کو خیال گزرتا ہے۔ اس میں یہ بات، فلاں نکتہ بھی زیر بحث ہوتا تو بات سمجھ دانی میں زیادہ جلدی اترتی، آپ نے لکھا۔ اسے پڑھ کر سراہا جائے گا۔

کچھ موضوعات ایسے ہیں جن سے لکھنے والے کنی کتراتے ہیں۔ آپ نے ان پر روشنی ڈالی، مضبوط دلائل سے بات کو قارئین کی عدالت میں رکھا۔ پسند کیا جائے گا۔ آپ پڑھنے والوں کو کچھ نیا دیں گے، آپ کی تحریر میں مشاہدہ بول رہا ہوگا، اعداد و شمار، تازہ ترین معلومات دیں گے، چھپے خزانے ان پر وا کریں گے، اپنی تحریر کے ذریعے نت نئی باتیں، زندگی کی اونچ نیچ، مختلف رنگ اور رموز سکھائیں گے۔ تو آپ کو پڑھا جائے گا۔ آپ اپنی سوچوں کو اپنے بزرگوں سے ضرور مخفی رکھیں لیکن سیکھنے والوں کو محروم نہ کریں۔

بذریعہ تحریر آپ انہیں کچھ نیا سوچنے کو دیں۔ نئی راہیں متعارف کروائیں۔ تحریر کے ذریعے آپ اپنا کتھارسس کرسکتے ہیں۔ آپ کے پاس عمدہ مشوروں، زندگی کے تجربات، ان سے سیکھے اسباق کی پٹاری ہے تو ضرور کھولیے۔ آپ کے پاس کچھ نیا ہے، طاقتور دلائل ہیں، نئی سوچ ہے، سوچ بدلنے کے الگ زاویے ہیں تو لازماً لوگوں سے شیئر کریں۔

آپ سیر و سیاحت سے شغف رکھتے ہیں۔ سیاسیات پر عبور ہے۔ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں۔ شعبہ طب میں مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیل کے میدانوں کے اسرار جانتے ہیں۔ مذہبی علوم و فنون پر عبور ہے۔ شعبہ آئی ٹی یا کسی دوسرے فن کے ماہر ہیں۔ آپ اپنے تجربات افادہ عام کے لیے لکھ سکتے ہیں۔ آپ میں بڈھی روح بستی ہے۔ پرانی عمارتیں، پرانے لوگ، گاؤں دیہات کی پرانی زندگی۔ لوک گیت، پرانے کھیل پسند ہیں۔ آپ قارئین کو اپنا شراکت دار بنا سکتے ہیں۔ آپ صنف نازک ہیں۔ کھانے بنانے، صورت بنانے یعنی بناؤ سنگھار کے راز، موٹاپا بھگانے، شوہر کو رام کرنے کے طریقے جانتی ہیں تو آپ ٹپس دے سکتی ہیں۔ مختصر یہ کہ آپ کے پاس کچھ نیا ہے، طاقتور دلائل ہیں، نئی سوچ ہے، سوچ بدلنے کے الگ زاویے ہیں تو لازماً لوگوں سے شیئر کریں۔

سوال پھر وہی کہ کون پڑھے گا؟ تو یہی لوگ پڑھیں گے۔ قارئین کی ایک بڑی تعداد ہے جو بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتی ہے۔ مجھے خود تلاش رہتی ہے۔ نئے آئیڈیاز کی، نئے نکتوں کی، نئی تحریروں کی۔ الگ سے موضوعات پر لکھے شہ پاروں کی۔ بہترین لکھے گئے نثر پاروں کی، اس کے لیے میں مختلف ویب سائٹس ٹٹولتا ہوں۔ رسائل جرائد کھنگالتا ہوں۔ گوگل چچا سے مدد لیتا ہوں۔ نئے نئے لوگ سامنے آتے ہیں انہیں پڑھتا ہوں۔ تو آپ بھی کسی کی تلاش بنیں، لکھیں، ہم پڑھیں گے۔

اچھی بامقصد تحاریر دیں۔ آپ کو پڑھا جائے گا۔ ہاں البتہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ لکھنے کے لیے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ مطالعہ لکھنے کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ آج کل مطالعہ کا فقدان ہے۔ مشاہدہ ناپید ہے۔ لکھنے والے بغیر پڑھے، سقراط بقراط بنے پھر رہے ہیں۔ تحریر میں نہ روانی ہے نہ سلاست، نہ لفاظی ہے نہ ہی کوئی گر اور پتے کی بات، مقصد سے عاری، خالی خولی الفاظ ہیں فقط کھوکے۔ بس دو چار سطریں لکھ لیں تو بزعم خود لکھاری بن گئے۔

قلمکار بننا آسان نہیں یہ تو عمر بھر کا معاملہ ہے۔ یہ تو دھیمی آنچ پر پکنے والی ڈش ہے۔ اس کے لیے تو کتب کی کتب گھول کر پینی پڑیں گی۔ ادب کے اکابرین کو پڑھنا پڑے گا۔ ان کے لکھے موتیوں کو چننا پڑے گا۔ ان کی جلائی شمع سے روشنی حاصل کرنا ہوگی۔ ان کتابوں کو صحیفہ سمجھتے ہوئے اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا پڑے گا۔ تب جا کر کہیں شد بد ہوگی۔ ورنہ کورے کاغذ کسی کام کے نہیں ہوتے۔ آپ بے شک اوراق کالے کریں۔ ان اوراق سے فقط پتنگیں بنا کر اڑائی جا سکتی ہیں۔ ان سے زندگی نہیں ملتی۔ اگر آپ مطالعہ و مشاہدہ کے بعد تحریر لکھیں گے تو تحریر جاندار ہوگی۔ اس میں نکھار آئے گا۔ جس کا مطالعہ جتنا زیادہ ہو گا اس کی تحریر میں اتنا زیادہ نکھار آئے گا۔ اور وہی معیاری تحریر کہلائے گی۔

آپ نے مطالعہ کیا تو اب اس کو ڈسٹری بیوٹ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس سے حاصل شدہ سبق لکھیں۔ روشنی پھیلائیں۔ شعور و آگاہی کا دیا جلائیں۔ یاد رہے راستا دکھانے والوں اور ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں میں فرق ہوتا ہے۔ آپ کے پاس خاصا مطالعہ ہے۔ مشاہدہ کی کثرت ہے۔ تخیل کا گھوڑا تیار ہے مگر نہ لکھنے کا بہانہ بھی تراش رکھا ہے کہ وقت نہیں ملتا۔ ماحول میسر نہیں تو حوصلہ رکھیے آپ نہیں لکھ سکتے۔ ایک امریکی مصنف کا قول ہے۔

جو شخص لکھنے کے لیے مناسب وقت کے انتظار میں رہے گا وہ کچھ بھی لکھے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے گا۔ سو آپ وقت اور ماحول خود بنائیں۔ پڑھیں، لکھیں اور لکھتے رہیں۔ آپ کے حرف بول پڑیں گے۔ زندگی جی اٹھے گی۔ ہاں البتہ یہ ضرور یاد رکھیے کہ ہم کیا لکھ رہے ہیں؟ استحضار رہے کہ لکھے گئے حروف پر ہم ذمہ دار ہیں۔ جواب دہی ہمی سے ہونی ہے۔ مزید یہ کہ لکھنے والوں کو خوفِ فسادِ خلق کے ساتھ خوف فساد حلق کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کچھ تحریریں پڑھ کرگلے کو ناقابل برداشت قے کی تحریک ملتی ہے۔

قصہ مختصرآپ فطری لکھاری ہیں یا بالقوہ لکھنے کی صلاحیت حاصل کی ہے۔ دونوں صورتوں میں لازم ہے کہ آپ پڑھیں۔ مشاہدہ کی حس کو بیدار کریں، پھر لکھیں، تخیل کا گھوڑا دوڑائیں۔ لکھیں اور لکھتے چلے جائیں۔ آپ کو پڑھا جائے گا۔ بقول کسے آپ قلم کو زندہ رکھیں قلم آپ کو زندہ رکھے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *