اہم مسئلہ تیزی سے بڑھتی آبادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری تیز بڑھتی آبادی تمام اہم مسائل کی روٹ کاز ہے۔ دنیا میں بیشتر ممالک کی آبادی 30 سے 40 لاکھ ہے لیکن ہمارے ملک کی ہر سال اتنی آبادی بڑھ رہی ہے۔ مطلب ہم ہر سال ایک پورا ملک پیدا کررہے ہیں اگر اس تیزی سے آمریکا یا کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی آبادی بڑھنا شروع ہوجائے تو وہاں بھی ہمارے جیسے مسائل پھوٹ پڑیں۔ دنیا کا کوئی بھی طاقتور ملک ہر سال 40 لاکھ اضافی لوگوں کو خوراک، اسکول، ڈرینیج، انفراسٹرکچر، روزگار، اور تربیت نہیں دے سکتا، ایسے میں استحصالی طبقوں کو خوب اسپیس مل جاتی ہے اور ہمارے یہاں نیم جاگیردارانہ سرمائیدار اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے اسے مزید آگے بڑھانے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔

جب معاشی تنگ دستی بڑھے گی تو بچوں کی تربیت میں بنیادی کمی رہہ جائے گی اس سے ایک بند معاشرہ جنم لے گا جس کی پیداوار غیر تہذیبی ہوجائے گی۔ پھر ایسے معاشرے میں والدین معاشی تنگ دستی اور زیادہ بچوں کی اچھی تربیت پر دھیان نہیں دے پا رہے ہوتے جس سے ان کی تربیت کرنے کا خال پیدا ہوجاتا ہے اور والدین بچوں کی تربیت مدرسہ کے تنگ ذہن مولوی، اسکول کے آدھے پڑھے استاد اور بدبودار سوسائٹی پر چھوڑ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی نفسیاتی طور پر بہت سارے تعمیری کاموں کو حرام، حلال کے فتوؤں کی بھنٹ چڑھا دیا جاتا ہے، کہیں عقائد کے نام پر پابندی تو کہیں کلچر کے نام پر جذبات کے قتل ہوتے ہیں۔ اب اس پراسس سے ایک ایسی نسل تیار ہوجاتی ہے جو ڈری سہمی اور طرح طرح کی فسٹریشن کا شکار ہوتی ہے، فسٹریشن کی کیفیت میں رہنے والی نسل ہر وقت ان پابندیوں کو توڑنے کے جتن کرتی رہتی جو ان کے اعصابی، جسمانی ضروریات پورا کرنے میں رکاوٹ ہوں۔

یہ ہی وجہ ہے سو میں نوے مرد جنسی فسٹریشن کا شکار ہوتے ہیں ان کی ضروریات پر معاشرے سماج رسم رواج سب نے مل کر پابندی عائد کررکھی ہے۔ انہیں کسی بھی خوشی کے موقعے کو سلیبریٹ کرنے نہیں دیا جاتا ان پر حرام حلال کی لکیریں کھیچیں جاتی ہیں۔ ایسے ملکوں میں چوری ڈکیتی، رشوت، حقوق صلب ہونا، ریپ، قتل، خود کے غیر محفوظ ہونے کا احساس شدت سے ستاتا رہتا ہے۔

اب دیکھیں ایک مسئلہ تھا جس نے ہزاروں سماجی مسئلوں کی بنیاد رکھ دی اور اچھی تربیت نہیں، اچھے اسکول نہیں، روزگار نہیں، لوگوں کو ذہنی، جسمانی آزادی کا احساس نہیں، صحت کی سہولیات نہیں، کوئی سوشل سکورٹی نہیں اب ایسے بند معاشرے سے آپ کس بات کی امید رکھتے ہیں؟

یہاں لوگ ذہنی مریض بے حس بن چکے ہیں، جہاں ہر روز راستوں گلیوں میں گاڑیوں کے نیچے آیا، دھماکوں سے اڑے جسمانی لوتھڑے، انسان قتل ہوتا دیکھتے ہیں، خون دیکھتے خاموشی سے گزر جاتے ہیں ان پر کوئی گہرا اثر نہیں ہوتا کیونکہ وہ بے حس ہوچکے ہیں ”اب ایسے معاشرے کو نفسیاتی طور سرعام ریپ کے مجرم کو پھانسی کی سزا کوئی خوف نہیں دلائے گی بلکہ وہ اس باربیرک عمل کو وقتی طور پر انتقامی جذبات کو ٹھندا کرنے اور سوسائیٹی کو مشغلے کے طور انجواء کریں گی۔ “ حکومت کو چاہیے تیزی سے بڑھتی آبادی پر کنٹرول کرنے کے لئے ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات کرے، قرار داد منظور کرکے دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے، تیسرا بچہ پیدا کرنے پر سخت پنلٹی جرمانہ عائد کرے، چوتھے بچے پر باپ کو 6 ماہ کی بامشقت قید کی سزا دیں۔

جذباتی سوچ والوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس تحریر کا مقصد قطعی نہیں کہ میں کسی ریپسٹ قاتل کی سزا کی مخالف ہوں بس مجھے تو اس طریقے کار پر اختلاف ہے جو آج پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ہے،

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *