چین کی مشکل گھڑی اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کا معاملہ چین کی حالیہ تاریخ میں ایک ایسا قدرتی معاملہ ہے جس نے بلا شبہ چین کے عوام کو ایک غیر معمولی پریشانی میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ شہروں میں باہمی آمدورفت کو روک دینا چینی حکومت کا ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کے وجود میں آنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ چینی حکومت اس خطرے کو کس حد تک خطرہ تصور کر رہی ہے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں پاکستان کی ریاست کو یا عوام وہ اپنے چینی بھائیوں کے لئے دعا گو ہے۔ قومی نمائندے شہباز شریف سے بلاول بھٹو تک سب کے پیغامات واضح کر رہے ہیں کہ پاکستانی قوم کے دل اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔

مگر اس سب کے دوران ہی میڈیا اور سماجی میڈیا پر ایک ایسا گروہ بھی متحرک ہے جو ان سخت لمحات میں گھرے چینیوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنا رہا ہے۔ یہ درحقیقت وہ طبقہ ہے جو پاک چین دوستی کے حوالے سے منفی خیالات کا حامل ہے یا ان میں منفی خیالات بھر دیے گئے ہیں۔ جب سی پیک کا گزشتہ دورے حکومت میں آغاز ہوا ہی چاہتا تھا تو اس وقت بھی چینی صدر کے دورے پر تنقید شروع کر دی گئی تھی۔ جو کسی مثبت خواہش کے پیش نظر نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کے یکساں مفاد میں شروع کیے جانے والے منصوبے سی پیک کو پاکستانی عوام کی نظروں میں مشتبہ اور ضرر رساں ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔

اسی طرح اس وقت بھی اس قدرتی آفت کے ساتھ ساتھ وہ وہ وجوہات جوڑی جا رہی ہیں کہ دور کی کوڑی لانے سے بھی بات آگے کی محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً چینی کے داخلی سیاسی حالات جس میں سنکیانگ کا معاملہ موجود ہے سے اس قدرتی آفت کو جوڑا جا رہا ہے تا کہ پاکستان میں چین کے حوالے سے منفی خیالات کو پھیلانے میں کامیابی نصیب ہو۔ اس کے علاوہ چین میں کھانے پینے کے حوالے سے معاملات پاکستان سے برعکس ہیں اور ان برعکس معاملات کو کرونا وائرس سے جوڑا جا رہا ہے تا کہ ایک ایسا تصور قائم کیا جائے کہ ان کے ساتھ ہمارا گزارا نہیں۔

اسی نوعیت کے منفی خیالات کبھی سوویت روس کے متعلق بھی پھیلائے گئے تھے اور اب چین کے حوالے سے پھیلائے جا رہے ہیں۔ اس لئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کرونا وائرس ایک قدرتی آفت ہے اور قدرتی آفات کا شکار کوئی بھی ملک ہو سکتا ہے۔ اور ہو بھی جاتا ہے۔ یہ کوئی ماضی بعید کا قصہ نہیں جب 2010۔11 میں پنجاب بالخصوص لاہور پر ڈینگی کا جان لیوا حملہ ہوا تھا۔ جان لیوا اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ہمارے سے قبل سری لنکا میں ڈینگی مستقل حملہ آور تھی اور سری لنکا میں اس سے لاکھوں متاثرین جبکہ ہزاروں اموات ہوئی تھیں۔

جب یہ پنجاب کی حدود میں داخل ہوا تو اس نے آنے کے ساتھ ہی قہر سامانیاں مچانا شروع کر دی۔ شہباز شریف حکومت کو یہ ایک غیر معمولی چیلنج درپیش تھا۔ غیر ملکی ماہرین نے جب ان کو اس حوالے سے بریف کیا تو بتایا کہ صرف لاہور میں ہی ہزاروں اموات ہو جائیں گی۔ جس کو دنیا کے ماضی کے تجربات کی روشنی میں روکنا ممکن نہیں۔ حکومت کی پریشانی ازحد تھی مگر اس پریشانی کے سبب سے حوصلہ نہ ہارنے کا فیصلہ کیا گیا اور ڈینگی سے شہریوں کو بچانے کے لئے حکومت پنجاب تل گئی۔

تمام اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہوئے متحرک کر دیا گیا اور وزیر اعلیٰ صرف دفتر میں بیٹھ کر ہی ہدایات نہیں دیتے رہے بلکہ باہر فیلڈ میں نکل آئے۔ لیڈر جب خود میدان میں ہو تو ٹیم کے حوصلے اور کام کی استعداد بہت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً ڈینگی پر کامیابی سے قابو پانے کے لئے ہسپتالوں سے سرعت سے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا گیا کہ لاہور میں کون سے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ Geographic Information System کے ذریعے جب علاقوں کی شناخت ہو گئی تو ان کو فوکس کر لیا گیا۔

اور پھر اس کے نتیجے میں ڈینگی کے خلاف The Lahore Model of Success وجود میں آ گیا۔ وہ اموات کی تعداد کہ جس کو 25 ہزار متوقع کیا جا رہا تھا۔ انتھک محنت کی بدولت خدا کے فضل سے ایک ہزار کے نصف تک بھی نہ پہنچ سکی۔ سری لنکا نے 30 سالوں میں ڈینگی پر قابو پایا جبکہ پنجاب کی اس وقت کی صوبائی حکومت نے پہلے سال ہی معاملات کو بہت حد تک کنٹرول کر لیا اور اگلے دو برسوں میں تو قابو کی صورتحال قائم ہو گئی۔ اس سب کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بالکل واضح ہے کہ قدرتی آفات کو کسی مخصوص وجہ سے جوڑنا درست نہیں اور یہ آ ہی جاتی ہے۔

لہٰذا امید رکھی جانی چاہیے کہ ہمارے چینی بھائی بھی اس پر جلد قابو کر لیں گے۔ ضرورت صرف انتھک محنت کی ہے جس میں چینی مشہور ہیں۔ دنوں میں ہزار بستروں کے ہسپتال کھڑے کر لینا اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل، ویثرن اور محنت سب کچھ وہاں پر موجود ہے۔ کرونا وائرس کے حملے کے حوالے سے اور بھی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ حیاتیاتی جنگ کے ایک حملے کے طور پر بھی اس کو دیکھا جا رہا ہے۔ اس بات کے قطع نظر کہ حیاتیاتی جنگ کا یہ شاخسانہ ہے یا نہیں۔

ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ دنیا میں حیاتیاتی حملے کا امکان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور اگر اس نوعیت کی ہتھیار سازی کی گئی تو اس سے سپر پاورز کے علاوہ باقی ملک بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ جیسے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں سب ضرورت مند سر پٹ بھاگنے لگے۔ لہٰذا اس پر وقت سے پہلے ہی عالمی برادری کو اقدامات معاہدات کی ضرورت ہے جس میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہ ہو۔ ورنہ دنیا ایٹمی خطرے سے بڑے خطرے کے دہانے سے بھی آگے نکل چکی ہے اس کے علاوہ اسی طرح اس سے یہ سمجھنا کہ چینی معیشت کسی ایسے گرداب میں پھنس کر رہ جائے گی کہ جس کے سبب سے وہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور سی پیک کو مکمل کرنے کے لئے وسائل پیدا کرنے سے قاصر ہو جائے گی۔ حالات کا درست تجزیہ نہیں ہے۔ امید ہے کہ وہ اس وبا سے نقاصانات کے ازالے سے جلد کامیاب ہو جائیں گے کہ مشکل وقت میں دوستوں کے لئے پاکستانی قوم دست بدعا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *