ڈال دو یہ بھی نواز شریف پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل حکومتی کارندے اور مہنگائی کے درندے ہر جگہ ملک میں خوفناک مہنگائی، بے روزگاری، معاشی بد حالی اور سیاسی عدم استحکام کی ذمہ داری پچھلی حکومت اور نواز، شہباز پر ڈال کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ بالکل اس طالب علم کی طرح جسے استاد صاحب کسی بھی موضوع پر مضون سنانے کے لیے کہتے تو وہ ”میرا بہترین دوست“ پر رٹا رٹایا مضمون سنا لیتا۔ استاد محترم (ابن انشا والے نہیں) اپنے شاگرد کی اس حرکت سے بہت تنگ تھے۔ ایک دن انہوں نے بہت سوچ کر زمینی لوگوں اور چیزوں سے تعلق منقطع کرتے ہوئے شاگرد کو حکم دیا کہ وہ ہوائی جہاز پر مضمون سنائے کیونکہ اس سے قبل وہ ”ریل، بس و کار کے سفر اور“ میری گائے ”سے لے کر“ میرا مقصد حیات ”تک ہر جگہ وہی دوست والا مضمون سنا کر استاد محترم کو کئی بار زچ کر چکا تھا

استاد محترم نے تو بھرپور انداز سے اپنی استادی دکھانے کی ٹھانی مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ شاگرد ارجمند بھی استادوں کے استاد ہیں۔ اس نے مضمون شروع کیا اور چند جملوں کے بعد ہی اپنے رٹے رٹائے مضمون ”میرا بہترین دوست“ کی پٹڑی پر چڑھ گیا۔ ایک دن میرے والد صاحب نے ہمیں بتایا کہ اس ہفتے ہم بذریعہ ہوائی جہاز کراچی جائیں گے۔ ہم سب بہن بھائی بہت خوش ہوئے اور بے چینی سے اس دن کا انتظار کرنے لگے جس طرح پچھلے دنوں جنرل مشرف کی سزا سن کر محکمہٕ زراعت مضطرب ہو گیا تھا۔

خدا خدا کر کے وہ دن آ ہی گیا اور ہم ہوائی اڈے پہنچے۔ بورڈنگ وغیرہ کی کارروائی سے فراغت کے بعد ہم سب جہاز میں بیٹھ گئے۔ خوش قسمتی سے مجھے کھڑکی والی نشست مل گئی۔ جہاز نے ٹیک آف کیا اور فضا میں بلند ہو گیا۔ میں نے نیچے دیکھا تو ہرے بھرے کھیت، باغ، بل کھاتے دریا نہایت حسین دکھائی دیے۔ اچانک میری نظر باغ میں ٹہلتے ہوئے اپنے بہترین دوست پر پڑی۔ اور استاد محترم اپنے پلان کی مکمل ناکامی پر یوں سر پکڑ کر بیٹھ گئے جس طرح وزیر اعظم عمران خان نواز شریف کے لندن سدھارنے پر اپنا سر اور مقتدرہ کے پاٶں پکڑ کے بیٹھ گئے تھے۔ ساری کلاس جو کچھ دیر پہلے مریم نواز کی طرح دم سادھے بیٹھی تھی، حریم شاہ کی مانند کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔

جب سے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان اور اسٹیبلشمنٹ کے خاص مہمان مولوی احسان اللہ احسان سکیورٹی فورسز کی تحویل سے اس طرح فرار ہوئے جیسے مکھن سے بال، حکومتی ترجمان شیریں بیان اس قومی سانحے کے ڈانڈے بھی کسی نہ کسی طرح نواز شریف سے ملانے کے لیے مضطرب ہیں۔ احسان اللہ نے محفوظ مقام پر پہنچ کر اس فرار کو اللہ تعالٰی کی نصرت کا نتیجہ قرار دیا۔ اسی حوالے سے ہمیں پاکستانی سیاست کے کسی رمز شناس کا یہ قول زریں یاد آیا کہ پاکستان میں حکومتیں تین الف یعنی اللہ، امریکہ اور آرمی کی رضا سے آتی جاتی ہیں۔

یقیناً احسان اللہ کی آزادی بھی اکیلے کسی ایک کردار کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس کے پس پردہ بھی یہ تینوں کردار کارفرما ہوں گے۔ باقی جہاں تک اللہ اور قسمت کے لکھے کا تعلق ہے تو اس پر کسی کا کیا زور۔ احسان اللہ احسان جیسا شقی القلب جس نے سینکڑوں معصوموں کو خاک و خون میں نہلا دیا تھا اگر تین سال کے بعد سخت ترین اور کڑے محاصرے سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تو اسے اللہ کی مرضی اور قسمت کا لکھا سمجھ کر سب کو قبول کر لینا چاہیے۔ اسی طرح نواز شریف کا پانامہ کیس میں پکڑے جانا اور خاندان سمیت اذیت ناک سزا سے گزرنا بھی ان کے مقدر میں لکھا تھا، کسی کا کیا دوش؟

البتہ شیخ رشید، فواد چوہدری، فردوس آپا اور فیاض الحسن چوہان جیسے نابغے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ احسان اللہ کا فرار بھی نواز ہی کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ اس حوالے سے وہ دلچسپ واقعہ تو سب نے سن رکھا ہو گا کہ ایک تفتیشی صاحب روایت کے مطابق ایک عادی مجرم کی چھترول کرتے ہوئے ایک ایک کر کے اس کے جرائم کا آموختہ بھی دہرا رہا تھا کہ اسی دوران میں ایک اہلکار اہلکار نے تفتیشی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ ماشا اللہ آپ باپ بن گئے ہیں۔

چھترول کھانے والا مجرم سمجھا کہ ایک اور واردات اس کے کھاتے میں ڈال دی گئی ہے۔ لہٰذا فوراً نعرہ زن ہوا کہ ڈال دو ڈال دو۔ یہ بھی مجھ پر ڈال دو۔ مگر ہمیں اس موقع پر احسان اللہ پر بھاری احسان کرنے والوں کا طریقہٕ واردات دیکھ کر معمولی سی تحریف کے ساتھ ایک مشہور ملی نغمے کا ایک مصرع یاد آ رہا رہا ہے کہ

یوں دی ”تمھیں“ آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *