عدل کا ترازو دست خطا میں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورٹ جسے اردو میں عدالت کہا جاتا ہے لفظ عدالت کا سنتے ہی ذہن میں جو پہلا خیال ابھرتا ہے وہ انصاف کا ہے۔ اور اگر عدالت عالیہ کا ذکر کیا جائے تو لگتا ہے کہ انصاف وہاں داخل ہوتے ہی مل جائے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ بات اگر ایک عام پاکستانی کی، کی جائے تو اس کو موت ہی بے مول مل سکتی ہے انصاف کے لئے شاید اس کو کئی زندگیاں درکار ہوں گی۔ عدالت کی عمارت کے سامنے آرائش کیے گئے ترازو کے دونوں برابر پلڑوں کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے انصاف کی نظر میں امیر غریب سب برابر ہیں اور دونوں طبقوں کو ذرا برابر ہیرا پھیری کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن حقیقت شاید اس کے برعکس ہے۔

بظاہر تو اس ترازو کی آنکھیں نہیں ہیں لیکن دورِ حاضر میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ترازو بینائی رکھتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے یہ اپنی پسند کے لوگوں کو پہچانتا ہے اور اسی کی طرف جھک جاتا ہے۔ عوام اس کے دونوں پلڑوں میں وزن دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے پیمانے کو برابر کرنے کی تگ و دو میں زندگی ہار جاتے ہیں۔

اکیسوی صدی کا ترازو آنکھوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی ہوگیا ہے۔ اب اس کی نظر انصاف کے متلاشی عام آدمی سے ہٹ کر عوام میں موجود سیاسی لوگوں پر ہے۔ اس کا مقصد حیات لوگوں کو انصاف دینا نہیں ہے بلکہ سیاستدانوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔ ماضی بعید اور قریب میں نظر دوڑائی جائے تو صاف دکھائی دے گا جب سے ہمارے کٹہرے سیاستدانوں کی اصلاح میں مصروف ہوگئے تب سے عوام انصاف سے محروم ہو گئے ہیں۔ معاشرہ افراتفری کا شکار ہے۔ قانون اور قانون کی بالادستی ماضی کی دھول بن چکا ہے۔ قانون کی غیر مساوی تقسیم نے لوگوں کو سزا اور جزا کے خوف سے بالاتر کردیا ہے۔ لوگ اپنے جرم کو قانون سے بالاتر اور دوسرے کی نیکی کو قابلِ سزا سمجھنے لگے ہیں۔

عدالتیں میمو گیٹ، راجہ رینٹل، حدیبیہ پیپرز ملز، پانامہ کیس اور سوئس کیس کو حل کرنے میں مصروف ہوگئی اور مظلوم عوام اپنی عدالتوں کی حدود میں قتل ہونے لگے۔

عوام کی بہتری میں لئے جانے والے ازخود نوٹس (سو موٹو) کی حیثیت محض سیاستدانوں کو چُن چُن کر نشانہ بنانا رہ گئی ہے۔ احتساب کو صرف سیاستدانوں سے منسوب کردیا گیا تو عوام بھی خود کو بے یارو مددگار سمجھنے لگے۔

اگر اپنے پڑوسی ملک بھارت کی عدلیہ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں ازخود نوٹس کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ جہاں اپنے ذہنی امراض میں مبتلا افراد کی موت پر، ایک وکیل کی طرف سے جھوٹا بیانِ حلفی عدالت میں جمع کروانے پر، امرناتھ یاترا کے دوران یاتریوں کی موت، پنچائت کے حکم پر خاتون کے ساتھ زیادتی اور ایک قانون دان کا عدالت کی حدود میں قلم کی سیاہی پھینکنے پر ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس ہمارے قوانین کے اختیارات اس قدر بے اختیار ہوگئے ہیں کہ آج لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ مجمع میں بچے قتل ہو جائیں، چلتی گاڑیوں میں مدرسے سے واپس گھر آنے والی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی ہو، سانحہ ساہیوال جیسے واقعات ہوں یا پھر سندھ یونیورسٹی کے مارروی ہاسٹل میں طالبہ ہو یا پھر بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ کی موت کا واقعہ ہو، کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا قتلِ عام ہو تو کوئی ازخود نوٹس سامنے نہیں آتا۔

سنگین جرائم سے نمٹنے کے لئے قانون سازی کر دی جاتی ہے لیکن قانون پر اس کے روح کے مطابق عمل کرنے سے سب گریزاں ہیں۔

اداروں کے سربراہان اپنے اپنے نظم و ضبط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر قانونی اقدامات کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کی ایک مثال سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے لے سکتے ہیں جو ایک لاڑکانہ کی چلتی عدالت میں دورانِ سماعت کیمرے کے ساتھ داخل ہو کر اس عدالت کے منصف کو تضحیک کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ خبر عالمی سطح پر ملکی عدالتی نظام کے لئے ایک سوالیہ نشان بن گئی۔

عدلیہ اور ججز حضرات کے لئے بنائے گئے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار ہمیں عدالت کی بجائے ہسپتالوں میں میڈیا ٹیم کے ساتھ دورے کرتے ہوئے خبروں کی سرخیوں میں نظر آئے تو کہیں لاڑکانہ کی عدالتوں میں کیمرے کے سامنے ایک معزز جج کا موبائل فون پھینکتے ہوئے دکھائی دیے۔

عدلیہ کے اعلیٰ سربراہ ہوتے ہوئے ڈیم فنڈ کے نام پر عطیہ مہم کا حصہ بنے تو کبھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ جلوہِ افروز رہے۔ دوسروں کا احتساب کرنے والا ادارہ اپنے اعلیٰ سربراہ کی طرف سے قانون شکنی کرنے پر اسے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے گریزاں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کرپشن کو سیاستدانوں کے لئے بدنامی کا داغ بنا دیا گیا ہے لیکن انصاف دینے والے اور دوسرے تمام ادارے اس لعنت سے بری الزمہ نہیں ہیں۔

اس تمہید کے بعد میں یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے اس کے خاص و عام میں قانون پر عمل کرنے کی ذمہ داری کا احساس ہونا بہت ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انصاف کا ترازو اندھا اور برابر ہو گا۔ انصاف کی نظر میں سب برابر ہوں اور انصاف دینے والے اداروں کی ترجیحات غریب عوام ہوں۔

جب معاشرے کا غریب طبقہ انصاف سے بہرہ ور ہوگا تو معاشرے میں استحکام آئے گا۔ لوگوں میں برداشت اور انصاف دینے والے اداروں پر اعتماد بڑھے گا جوکہ خوشحال پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فیاض مستوئی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *