گہری سانس لینا ممنوع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام

پرائمری سکول سے ہائی سکول تک شعر کی تشریح والا کام سیکھتے رہے ہیں لیکن آج اس شعر کی جو تشریح کر رہا ہوں نا یقین کیجئے گا شاعر کی روح کانپ اٹھے گی

یار بھائی لوگوں کیا بتاؤں میں ان سانسوں کی کہ اس فانی و لاحاصل دنیا میں سانس لینا ہی مشکل ہو ئی وی ہے۔ کہیں غریب غربت سے اپنی سانسیں گنوا رہا ہے تو کہیں کرونا جیسے وائرس نے سانس لینا ممنوع کروا رکھی ہے اور اسلام آباد کے باسیوں کو تو ویسے بھی پولن الرجی آئے دن ہوئی رہتی ہے کہ ان سے سانس تک نہیں لی جا رہی ہوتی۔

اور یہ جو سانسوں کی مالا کے اشعار آپ سنتے ہیں نا میں نے بھی مختلف شاعروں سے ان کے منہ سے الفاظ سنے۔ ان کی ہر سانس پر اپنی سانس بند کرنا پڑتی تھی کیونکہ سنا بھی ہے اور دیکھ رکھا ہے کہ چڑھائی ہوئی ہو تو اچھے شعر نکلتے ہیں۔ مقصد قطعاً عظیم شعراء کی دل آزاری نہیں ہے ان کی قدر اور ان کے الفاط کی قدر تو اس حد تک ہے کہ عباس تابش کو کال کر کے ان کے شعر کی داد دی تھی میں نے۔

باقی رہی پیار، محبت، وفا اور حیا والی سانس تو ذرا ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ آج کل تو ایک نظر میں پیار ہو جاتا ہے اور دوسری جانب سے اسی لمحے انکار ہو جاتا ہے۔ کوئی کسی کا نام جپنے والا نہیں رہا، پیار سے انکار اور پھر پیار کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ آپ کا یا آپ کی X کسی کی بھی وقت Y بن کر آپ کے سامنے آجاتی ہے یا آجاتا ہے۔ وائے سے مراد جو حال میں آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور کسی کا XY آپکا Z بن جاتا ہے مطلب جس سے آپ کی شادی ہوتی ہے ذی ویسے بھی حرف آخر ہے اور شادی کے بعد کیا ہوتا ہے یہ تو پھر شادی شدہ ہی جانیں ہم تو ابھی کنوارے ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا ریاضی میں XYZ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کسی کا کچھ پتہ نہ ہو اور زندگی کا یہی حال ہے کہ کچھ پتہ نہیں کون کب تک ساتھ چلتا ہے اور کب ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور رہی بات حال کی تو جون خوب فرماتے ہیں

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئ

آج تو میں اچھا بھلا سوچ کر لکھنے بیٹھا تھا کہ سنجیدہ تحریر لکھوں گا مگر پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اور انے واہ لکھ دیا ہے کہ سب کچھ۔ دراصل کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اچھے اور خوبصورت الفاظ انسان کی زندگی بدل دیتے ہیں، انسان میں احساس پیدا کرتے ہیں اور انسان کو خوش اخلاق بناتے ہیں لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ گندے منہ سے اچھے الفاظ پسند ہی نہیں ہیں۔ جیسے بد اخلاق شخص سے اخلاق کی بات سننا، جھوٹے شخص سے سچ بولنے کی نصیحتیں سننا، بے وفا سے وفا داری کی باتیں، فوج اور عدالتوں سے سیاسی باتیں اور غدار سے وطن سے محبت کی باتیں۔ سیدھے الفاظ میں کہوں تو یزیدیت کے منہ سے حسینیت کی بات نہ تو زیب دیتی ہے اور نہ ہمیں گوارا ہے۔ باتیں تو دیواروں پر بھی کمال لکھی ہوتی ہیں لیکن بات عمل کی ہے۔

کس کے من میں پیا ہے اور کس کے من میں رام یہ تو خالق ہی جانے۔ ہماری نسل اپنے پیا کی ہو جائے یا اپنے رام کی ہو جائے یہ تو کیا ہی کہنا۔ مطلب مخلوق کو اتنا تو پتہ چل جائے کہ وہ اس دنیامیں کس وجہ سے آیا ہے۔ خداوند عالم نے ایک پتہ بھی بنا مقصد کے تخلیق نہیں کیا تو آخر اشرف المخلوقات کی پیدائش کا بھی تو کوئی مقصد ہوتا۔ اگر مقصد زیبائش ہی ہے تو انسان دو چیزوں سے ملکر بنتا ہے ایک انسان کا خاکی پتلا اور دوسرا اس کی روح اب تن پر لگانے والے کب اپنے من کی سوچیں گے اور کب روح کی طرف متوجہ ہوں گے اور کب اپنی روح کو کثافت سے پاک کرے گا یہ تو خود ہی سوچنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار حیدر

وقارحیدر سما نیوز، اسلام آباد میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے فرائض ادا کر رہے ہیں

waqar-haider has 35 posts and counting.See all posts by waqar-haider

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *