شادی کب کر رہی ہو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیشنل مصروفیت کی بنا پر بہت عرصے بعد اپنے کچھ ر شتے داروں سے ایک شادی کی تقریب میں ملاقات ہو ئی۔ دل میں عجیب سا جوش بھی تھا کہ بہت عرصے بعد کچھ رشتے داروں سے ملاقات ہو رہی ہے۔ مگر میرا سارا جوش تب غارت ہوا جب میں شادی کی تقریب میں شر کت کے لئے گئی تو گلے ملتے ہی میر ی ایک جاننے والی آنٹی نے مجھ سے پو چھا کہ ”شادی کب تک کر رہی ہو؟ ہائے ابھی تک منگنی بھی نہیں کروائی؟ کیا وجہ ہے؟ ۔ کہنے لگی کہ تمہیں معلوم ہے کہ 25 سے 30 کے درمیان بھی اگر لڑ کی شادی نہ کر ے تو اُس کو شادی پر روپ نہیں آتا۔

اُس کا منہ پکا لگتا ہے اس سے پہلے کہ تم تیس تک پہنچو اور تمہارا منہ پکا لگے تم شادی کر لو۔ آنٹی کی یہ بات سن کر میں دنگ رہ گئی کہ تیس تک پہنچنے میں ابھی کچھ سال باقی ہیں تو یہ مجھے ڈرا رہی ہیں اگر 30 تک پہنچ گئی تو یہ مجھ سے جینے کاحق ہی چھین لیں گی۔ پھر ساتھ ہی کہنے لگی کہ تیس کے بعد تو لڑکی کو لڑ کا بھی کنوارا نہیں ملتا صرف کوئی رنڈوا، طلاق یافتہ، یا پھر بڑی عمر کا انکل ہی ملتا ہے۔ اس لئے میری مانو تو ابھی ہی کر لو ورنہ تم بہت پچھتاؤ گی۔

میں جو دل میں جوش اور سج سنور کر اس خوشی سے شادی کی تقریب میں شر کت کے لئے سینکڑوں میل سفر کر کے آئی تھی میں ان کے سوالوں سے بوکھلا سی گئی۔ چو نکہ وہ آنٹی ر شتے میں مجھ سے کافی بزرگ تھیں اس لئے مجھے کوئی جواب ہی نہیں مل پا رہا تھا۔ بس اپنا آپ ایک مجرم کی طرح کٹہرے میں نظر آرہا تھا ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس شادی میں شر کت کر کہ مجھ سے قتل سے بھی بڑا کو ئی جرم ہو گیا ہے۔ قتل کے جرم میں تو پھر بھی ایک بار پھانسی دی جاتی ہے اور کام ختم، لیکن یہ جو ان سوالوں کے ذریعے مجھے بھیانک مستقبل کی نوید سنائی دی جارہی تھی وہ سب میری برداشت سے باہر تھا۔

میں نے خود کو سنبھالا اور چہر ے پر مسکراہٹ سجا کر آنٹی سے پو چھا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں قدرت کے فیصلوں کے سامنے نہ کر سکتی ہوں؟ اگر اللہ میر ی شادی کروانا چاہے تو کیا میرے میں اتنی طاقت ہے کہ میں اس کے فیصلے کو رد کر سکوں۔ بہت حیرت سے وہ آنٹی میر ی شکل دیکھنے لگی اور کہتی ہیں کہ تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن میں تو وہی بتا رہی ہوں جو سچ ہے۔ پھر میں نے اُن سے چو چھا کہ میری شادی نہ کر نے سے، میرے منہ پر پکا پن آنے سے، آپ یا آپ کے خاندان کا کو ئی بڑا نقصان ہو گا؟

تو کہنے لگیں کہ میرا کیا نقصان ہونا ہے؟ میں نے تو 20 سال کی عمر میں اپنی بیٹی بیاہ دی تھی۔ میں نے کہا وہ بیٹی جس کا خاوند اُس کو روز اس کو مار کر ذلیل کر کے آپ کے گھر بھیج دیتا ہے اور جس کے بچوں کا خرچ بھی آپ اُٹھاتیں ہیں۔ تو کہنے لگی کہ خاوند چاہے بھنگی ہو، نشئی ہو، کاہل ہو یا ہاتھ اُٹھاتا ہو لیکن ہوتا تو سر کا سائیں ہی ہے۔ خاوند کا ہونا ضروری ہے اُس کا نام ساتھ لگ جائے تو لڑکی محفوظ ہو جاتی ہے۔

مجھے اُن کا جواب سن کر کوئی حیرت نہیں ہو ئی کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی سوچ ہے کہ خاوند کا ہونا ضروری ہے اُس کا آپ کی ذات کو عزت دینا ضروری نہیں۔ میں نے اُن سے کہا کہ ہم لو گوں کو مشورے دیتے وقت اُن چیزوں میں ٹانگ کیوں اڑاتے ہیں جن میں انسان خود بے بس ہو تا ہے۔ ر شتے دار شادی نہ ہو نے، نو کری کے چلے جانا پر، بچہ نہ ہو نے پر طعنے دینا کیوں اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ کوئی کسی سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ نو کری چلی گئی ہے، گزارا کیسے ہو رہا ہے؟

تین وقت کی روٹی بھی مل ر ہی ہے یا نہیں۔ ایسی محافل میں انسان نہ جانے اپنے اندر اور باہر کی کتنی جنگیں لڑ کر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر شرکت کرتا ہے۔ اور لوگ چند لمحوں میں انسان کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے خودساختہ شادی کی عمر سیٹ کر دی ہے اور اُن کو لگتا ہے کہ اگر کوئی اُس عمر کو فالو نہیں کر رہا تو اُس کو اپنی زندگی جینے کا بھی حق نہیں ہے۔ کہنے کو یہ کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں تو پھر ہم زمین پر بسنے والے بے بس لو گوں سے سوال کیوں کر تے ہیں۔

سیدھی سی بات ہے کہ کیا ہم لو گ اتنے طاقت ور ہیں کہ ہمارا مالک ہمارا رشتہ بنائے اور ہم اپنی ضد میں رہیں اور شادی نہ کریں۔ شادی لیٹ نہیں ہو تی بس بہتر وقت پر ہو تی ہے اور وہ بہتر وقت مالک نے آسمان پر طے کیا ہو تا ہے۔ تیس سے زیادہ عمر ہو یا کم، ملتا وہی ہے جو نصیب میں لکھا ہو۔ اس حادثے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ہم جتنا بھی پڑھ لکھ کر خود کو مضبوط کر لیں اس معاشرے کی پسماندگی ہمیں کبھی کبھار توڑ کر رکھ دیتی ہے۔

ہم اس پسماندہ سوچ کے سامنے خود ریت کی دیوار ثابت ہو ہی جاتے ہیں۔ کو شش کیا کریں کہ اگر کسی کو خوشی دے کر اُس کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے الفاظ کے نشتر چلا کر جینا تو محال نہ کریں۔ ابھی تک شادی نہیں کی؟ شادی ہوئی ہے تو بچہ کیوں نہیں؟ مرد کا دماغ تو خراب نہیں جو تم پر ہاتھ اُٹھائے تم میں ہی نقص ہو گا، نو کری کیسے چلی گئی؟ تم نے ہی محنت نہیں کی ہو گی، ایسے فضول سوال انسان کو جیتے جی مٹی میں دفن کر دیتے ہیں۔

اسی ذہنی پسماندگی کی وجہ سے ہمارے ہاں ڈپریشن جیسا مر ض عام ہوتا جا رہا ہے اور خود کشی کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ سب انسان جیسے رنگ، جسمانی خدوخال، میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایسے ہی نصیبوں سے بھی مختلف ہیں۔ اس لئے رب کی تقسیم کو دل سے قبول کیجیے اور آسانیاں تقسیم کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *