بھلا ہوا نسیم شاہ ورلڈ کپ کھیلنے نہیں گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نسیم
ٹیم کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو، کنڈیشنز کتنی ہی نامانوس کیوں نہ ہوں، کوچز اور کپتان ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم بہترین کھیل پیش کریں گے۔ ہمارے نوجوان کھلاڑی بہت صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اس میچ سے پہلے بنگلہ دیشی کوچ رسل ڈومنگو اپنے نئے لڑکوں سے بہت مثبت توقعات کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ دوسرے دن کی بے تحاشہ پٹائی کے بعد بھی ان کے بولنگ کوچ اوٹس گبسن کہہ رہے تھے کہ ہمارے سیمرز بہت ٹیلنٹڈ ہیں، بس تھوڑا وقت چاہیے۔

شان مسعود نے مگر انھیں کوئی وقت نہیں دیا۔ نہ ہی بابر اعظم نے کسی سیمر کو اپنے قدم جمانے دیے اور نہ ہی اسد شفیق یا حارث سہیل کسی ’ٹیلنٹڈ‘ سیمر کو خاطر میں لائے۔

کیونکہ یہ سیم اٹیک کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو اور نوجوان بولر کتنے ہی دلچسپ کیوں نہ ہوں، پیس ایک ایسی چیز ہے جو ہر کنڈیشن اور میچ کی ہر صورتِ حال میں کسی بھی کپتان کا سب سے مؤثر ہتھیار ہوتا ہے۔

جبکہ بنگلہ دیشی بولنگ اٹیک میں صرف ابو جاید وہ بولر تھے جو پیس کی ابتدائی حد یعنی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب پہنچ پائے۔ عبادت حسین اور روبیل حسین محض کوشش کرتے پائے گئے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پیس بھی کوئی حتمی ہتھیار نہیں ہے۔ محمد عباس کے سپیڈ چارٹ پر نظر دوڑائیے تو پیس کا سارا مفروضہ ہی ایک دم ڈھے جاتا ہے۔

عباس بمشکل 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچتے ہیں اور ان کی اوسط رفتار 125 کے لگ بھگ رہتی ہے مگر لائن اور لینتھ کی ایسی کمال مہارت رکھتے ہیں کہ کسی بلے باز کو ٹک کر کھیلنے ہی نہیں دیتے۔

نسیم
بھلا ہوا کہ مصباح نہیں مانے اور نسیم شاہ ورلڈ کپ کھیلنے نہیں گئے ورنہ کم عمر ترین بولر کی ہیٹ ٹرک کا اعزاز شاید پاکستان کے حصے میں نہ آتا

پہلے دن کی وکٹ عباس کی بولنگ کے لیے نہایت سازگار تھی۔ قیاس یہ کیا جا رہا تھا کہ وکٹ پر موجود گھاس بلے بازوں کے طوطے اڑا دے گی اور بیٹنگ کرنا نہایت دشوار ہو گا۔ صبح کے سیشن کے اوائل میں تو معاملہ کچھ ایسا ہی تھا مگر دھوپ نکلنے کی دیر تھی کہ گھاس ایک دم سوکھ گئی اور وکٹ بلے بازوں کے لئے نہایت سازگار ہو گئی۔

اس کے باوجود مومن الحق کے بلے باز بڑا ٹوٹل بنانے میں ناکام اس لیے رہے کہ پاکستانی بولنگ کا صبر آزما ڈسپلن کوئی نہ جھیل پایا اور وکٹ پر مشکل وقت گزار لینے کے بعد بھی سبھی بلے باز جلد بازی کی خواہش میں گرتے چلے گئے۔

اظہر علی کی قیادت میں سب سے مثبت پہلو یہ رہا ہے کہ ان کے بولر ایک طرح کے میکانکی ڈسپلن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کے پاس واضح پلان بھی ہیں اور ان پلانز کو لاگو کرنے کی مہارت بھی موجود ہے۔

جب کوئی بولنگ اٹیک پہلی اننگز میں مخالف ٹیم کو تین سو رنز نہ کرنے دے تو بیٹنگ لائن کا خون سیروں بڑھ جاتا ہے۔ یہ اعتماد ہمیں شان مسعود میں بدرجۂ اتم نظر آیا۔ بابر اعظم بھی اسی اعتماد کی خوشگوار دھوپ میں ہاتھ تاپتے دکھائی دیے اور حارث سہیل نے لوئر آرڈر کے ساتھ بہت خوب نبھائی۔

آج کا دن مگر بنگلہ دیشی بولنگ اور بیٹنگ کے لئے خاصا خوش کن تھا۔ پیسرز نے صبح کے سیشن میں وکٹ کی نمی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد جب سکور کارڈ کا قرض اتارنے کا وقت آیا تو تمیم اقبال بھی بہت مصمم نظر آئے۔

مومن الحق نے شانتو کے ساتھ جو پارٹنرشپ لگائی، اس نے پاکستان کی جارحیت کے آگے بند باندھ دیے۔ ایک لمحے کو ایسا لگا کہ بنگلہ دیش نہ صرف خسارہ پورا کر لے گا بلکہ بآسانی پاکستان کو دو سو رنز سے زائد کا ہدف دینے میں بھی کامیاب رہے گا۔

مگر جوں جوں راولپنڈی میں سورج ڈھلنے لگا اور سائے لمبے ہونے لگے، نسیم شاہ نے اپنی زندگی کی تین یادگار ترین گیندیں کروا ڈالیں۔ یہ وہ وکٹ بن چکی تھی کہ جہاں سے نہ تو شاہین آفریدی کو کوئی خاطر خواہ سیم موومنٹ مل رہی تھی نہ ہی عباس کو کوئی خاص مدد۔

ایسے مواقع پر کسی بھی کپتان کا سب سے بہترین ہتھیار پیس ہوتا ہے۔ پرانے گیند کے ساتھ نسیم شاہ نے جو ’لیٹ موومنٹ‘ پیدا کی، نہ تو شانتو اس کا کوئی جواب دے پائے نہ ہی محمود اللہ۔ رہے تائج الاسلام تو وہ بیچارے نائٹ واچ مین کے طور پر وہاں کیا کرتے جہاں مڈل آرڈر کے مستحکم ترین بلے بازوں کو بھی کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

کچھ ہفتے پہلے انڈر 19 ٹیم کے کوچ اعجاز احمد مصر تھے کہ مصباح الحق انڈر 19 ورلڈ کپ کے لئے نسیم شاہ کو ریلیز کریں تاکہ ان کی موجودگی پاکستان کو انڈر 19 ورلڈ کپ کے لئے فیورٹ ٹھہرا دے۔ مگر مصباح نہیں مانے اور نسیم شاہ نہیں گئے۔

بھلا ہوا کہ مصباح نہیں مانے اور اچھا ہوا کہ نسیم شاہ ورلڈ کپ کھیلنے نہیں گئے ورنہ کم عمر ترین بولر کی ہیٹ ٹرک کا اعزاز شاید پاکستان کے حصے میں نہ آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12800 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp