وقار عظیم کی کتاب اور حکمرانوں کے ”قومی خطاب“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اختر وقار عظیم نے ”پاکستان ٹیلی وژن“ میں متعدد عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات سے مزین ایک کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ کے نام سے مرتب کر رکھی ہے۔ اُن کی کتاب پڑھ کے لگتا ہے کہ وہ جہاں بھی گئے کچھ دلچسپ واقعات ان کے ارد گرد ضرور رونما ہوئے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں متعدد حکمرانوں کے ”قوم سے خطاب“ سے لے کر دیگر تقاریب کی خاطر ٹیلی وژن سے اپنا رشتہ بطریق احسن بیان کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں ٹیلی وژن کراچی سے نشریات کا آغاز نومبر 1967 ء میں ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر ایوب تھے۔ صدر تقریب میں پہنچے تو انہیں ایک اونچی کرسی پر بٹھایا گیا جو اس موقع کے لیے خاص طور پر بنوائی گئی تھی۔ کرسی پر تازہ رنگ کیا گیا تھا جو ابھی خشک نہ ہوا تھا۔ صدر کرسی پر بیٹھے تو اُن کے سوٹ پر رنگ کے کئی دھبے پڑ گئے۔ منتظمین کے لیے یہ خاصی شرمندگی کی بات تھی۔ صدر ناخوش تو ہوئے لیکن اپنی تقریر میں خفگی کا اظہار نہ کیا۔

صدر کی تقریر سے پہلے وزیر اطلات خواجہ شہاب الدین کو استقبالی کلمات کہنا تھے۔ منتظمین نے اُن کے لیے بھی مضحکہ خیز صورت پیدا کردی۔ ڈائس صدر کے قد کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ وزیر صاحب تقریر کرنے ڈائس کے قریب پہنچے تو ٹیلی وژن کے ایک ملازم نے نہایت پھرتی سے ایک اسٹول لاکر سامنے رکھ دیا تاکہ وزیر اس پر کھڑے ہوکر تقریر کر سکیں۔ یہ دیکھ کر سامنے بیٹھے لوگ ہنسنے لگے اور ملازم کی مستعدی خواجہ شہاب الدین کے لیے خاصی سبکی کا باعث بن گئی۔

اختر صاحب مزید لکھتے ہیں : یحیٰی خان کے آخری دنوں کی ایک تقریر دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔ اسلم اظہر صاحب ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ یحیٰی خان آئے تو انھوں نے سلیٹی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا، ٹائی بھی اسی مناسبت سے تھی اورجیب میں گہرے سلیٹی رنگ کا رومال جھانک رہا تھا۔ بالوں میں کنگھی بھی کر رکھی تھی۔ ٹی وی کے میک اپ کرنے والے نے چہرے پر پاؤڈر لگانے کے بعد کنگھی جنرل صاحب کی طرف بڑھائی تو انہوں نے نہایت غصے میں کہا ”بالوں کو ہاتھ مت لگانا“۔

ذوالفقار بھٹو کا معاملہ مختلف تھا۔ میک اپ وغیرہ کے تکلف میں پڑتے نہیں تھے، ریکارڈنگ کے لیے آتے تو کرسی پر بیٹھتے ہی تقریر شروع کر دیتے تھے۔ ایک روز حسب معمول بھٹو صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہی تقریر شروع کر دی لیکن کیمرے میں براہ راست دیکھنے کی بجائے ان کا رخ دائیں طرف رکھے ہوئے ٹی وی سیٹ کی طرف تھا جس میں اُن کو تصویر نظر آرہی تھی۔ میں نے اسٹوڈیو میں موجود اپنے نائب پروڈیوسر مرغوب الرحمن سے کہا وہ یوسف صاحب سے کہہ کر ریکارڈنگ دوبارہ شروع کروا دیں۔

یوسف صاحب نے وزیر اعلی حنیف رامے کی طرف اشارہ کر دیا اور حنیف رامے نے گورنر عاشق قریشی کی طرف رجوع کا حکم دیا۔ گورنر نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ وزیر اعظم کو روکنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ میرے کہنے پر جس کیمرے پر ریکارڈنگ ہو رہی تھی اسے وزیر اعظم کے سامنے لے جانے کی کوشش کی گئی تو اس دوران کیمرے میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی اور اُس میں گھوں گھوں کی آوازیں آنے لگیں۔ بھٹو خاموش ہوگئے اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”کیا آپ کو معلوم نہیں ہے وزیر اعظم پاکستان قوم سے خطاب کر رہا ہے یہ کیا گھوں گھوں لگا رکھی ہے“۔ کوئی جواب دینے کی بجائے ہم نے خراب کیمرہ بند کر دیا، اسی دوران نائب پروڈیوسر نے وزیر اعظم کی رہنمائی کی کہ انہیں کس کیمرے میں دیکھ کر خطاب کرنا ہے تو بھٹو نے غصے میں جواب دیا ”مجھے پتا ہے“۔ بھٹو صاحب نے جاتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا وہ حصہ نکال دینا جس میں، میں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

ضیاء الحق کے بارے میں لکھتے ہیں : ”ایک دن ضیاء الحق تقریر کے لیے آئے تو ان کے ساتھ ایک طغریٰ بھی تھا جس پر لکھا تھا“ العظمت اللہ ”انہوں نے کرسی کے پیچھے ایک طرف طغریٰ بھی لگوا دیا جس کا سائز اتنا بڑا تھا کہ اُس کے ساتھ صدر کی تصو یر بنانے میں ہر مرتبہ بے حد دشواری ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ اپنے ساتھ کرسی بھی لیتے آئے اور پھر یہی کرسی اُن کی ریکارڈنگ کے وقت استعمال ہوتی رہی جسے تقریر کے بعد سنبھال کے رکھ دیا جاتا تھا۔ ضیاء الحق اپنے لباس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ انھیں اپنی شیروانی میں پڑا ہلکا سا جھول بھی پسند نہ تھا۔ ضیاء الحق کو اپنی ہر تقریر کے بعد نیا نغمہ نشر کروانے کا بھی بڑا شوق تھا۔

وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ٹیلی وژن کے پروگرام ”خبرنامے“ کی مدبر بھی رہیں۔ بیرونِ ملک سے پڑھائی کر کے واپس آئیں تو ”انکاؤنٹر“ کے نام سے انگریزی میں ایک پروگرام کرنا بھی شروع کیا۔ ایک مرتبہ تقریر کرنے کے لیے آئیں تو معمول کے مطابق جنرل منیجر کے کمرے میں بیٹھ گئیں۔ ایک آدھ مرتبہ انہوں نے کچھ کہنا چاہا لیکن چپ رہیں۔ ناہید خان نے مجھے مخاطب کر کے کہا آپ سے وزیر اعظم کچھ کہنا چاہ رہی ہیں۔ میرا خیال تھا ریکارڈنگ کے حوالے سے کچھ پوچھیں گی، انہوں نے کہا ”ابھی میں نے ٹی وی سنٹر کی طرف آتے ہوئے ویگن کے اڈے پر ایک بھٹے والا دیکھا ہے، اس سے وہ بھٹے تو منگوا دیں“۔

اس دن وزیر اعظم نے چائے کے بجائے ایک بھٹا ہی کھایا۔ لباس کے معاملے میں بے نظیر خاصی لا پرواہ تھیں، نئے نئے فیشن کی طرف اُن کو توجہ کم ہوتی تھی۔ اپنی پہلی تقریر کے لیے ٹی وی آئیں تو انہوں نے پاکستانی جھنڈے کی مشابہت سے سبز رنگ کا شلوار قمیض کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصے تک شلوار قمیض کے سوٹ پر بلیزر نما کوٹ پہن کر ٹی وی پر تقریریں ریکارڈ کرواتی رہیں۔ آخر میں کوٹ کی جگہ شال نے لے لی۔ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر رکھنا اُن کی سیاسی مجبوری تھی۔

میاں نواز شریف نے پہلی مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی تقریر ریکارڈ کروائی تو ان کے ساتھ آٹھ دس لوگ اسٹوڈیو آئے، شاید ان سبھی نے مل کر وزیر اعظم کی تقریر تیار کی تھی۔ میاں نواز شریف کی تقریر میں کوئی تسلسل نہیں تھا اور شاید وزیر اعظم کو تقریر دیکھنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا، اس لیے انہوں نے کئی مرتبہ رُک رُک کر ریکارڈنگ کروائی۔ وزیر اعظم جتنی مرتبہ تقریر کرتے ہوئے رکے ان کے ساتھ آئے ہوئے لوگ ان کی میز کو کچھ اس طرح گھیر کر کھڑے ہو جاتے کہ اسٹوڈیو میں موجود کیمروں میں سے کسی پر بھی وزیر اعظم کی تصویر نہ بن سکے اور پھر ہر شخص اپنی رائے کا اظہار ضروری سمجھتا تھا۔ نواز شریف کے انٹرویو اور خبروں کی کوریج میں اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا کہ ان کی تصویر میں سر کا پچھلا حصہ دکھائی نہ دے کیوں کہ ان کے سر کے اس حصے میں بال کچھ کم تھے جنہیں دکھانا وزیر اعظم کو ناپسند تھا۔

جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد ان کی تقریر کی ریکارڈنگ سے پہلے ایک دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کافی دیر تک یہ طے نہیں ہوا کہ جنرل صاحب تقریر وردی پہن کر ریکارڈ کرائیں گے یا عام لباس میں۔ وجہ یہ تھی کہ سری لنکا سے واپسی میں جنرل صاحب نے سوٹ پہن رکھا تھا اور وردی کراچی اترنے پر تیار نہیں تھی اس لیے وہاں موجود ایک کمانڈو کی قمیض پہن کر مشرف نے تقریر ریکارڈ کرائی۔ ریکارڈنگ کے بعد ہمارے کراچی سنٹر کے چیف کیمرہ مین کی فرمائش پر انہوں نے ایک گروپ فوٹو بھی بنوایا جس میں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا گیا کہ تصویر میں سوٹ کی پتلون نظر نہ آئے۔

وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کھیلوں کے پروگرام میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ سادگی کے معاملے میں وزیراعظم جمالی کچھ کم نہ تھے۔ ایک مرتبہ وزیر اعظم کو ہنگامی صورت میں قوم سے خطاب کی ضرورت پڑی تو ان کے گھر پر ہی ریکارڈنگ کا وقت طے ہوا۔ ہم ان کے گھر پہنچے تو وہاں کوئی ایسی چوڑی اور اونچی میز نہ ملی جس پر مناسب طریقے سے مائیکروفون رکھ کر ریکارڈنگ کی جاسکتی۔ ایک چھوٹے سے اسٹول پر بہت سی کتابیں رکھ کر اس حد تک اونچا کیا گیا کہ اس پر مائیکروفون لگایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے خوش دلی سے ریکارڈ نگ کروائی اور شکریہ ادا کیا۔

سبھی وزرائے اعظم کی تقاریر کا دورانیہ عموماً اندازے سے زیادہ ہوجاتا ہے کیوں کہ ریکارڈنگ کے دوران تقریر میں ردوبدل یا کمی اور اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن معین قریشی کا معاملہ مختلف تھا، انہوں نے تقریر سے پہلے اس کے نشر ہونے کا وقت طے کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کا دورانیہ تقریباً پچاس منٹ ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے اپنی تقریر اکاون ( 51 ) منٹ میں مکمل کر لی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ہمارے ملک کے پہلے وزیراعظم یا حکمران تھے جنہوں نے اپنی تقریر خود لکھی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *