ایک کتاب میلے کا کانوں سنا حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہو ر بہا ر کی آمد کا اعلان میلو ں کے آغاز سے کر تا ہے اور اتنے میلے لگتے ہیں کہ لاہو ی میلہ لوٹ لوٹ کے نہیں تھکتے۔ بلکہ دوسرے شہرو ں سے مہمانو ں کو بلاتے ہیں اور اپنی سیاحت کا شوق بھی پورا کر تے ہیں۔ یک نہ شد دو شد کے مترادف گٹھلیاں بھی نہیں گنتے اور آم بھی کھاتے ہیں۔

ابھی ”ناجائز محبت“ کے مہینے کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جی سی یو نیورسٹی نے ترکی کے اشتراک سے ایک ادبی کانفرنس کا انقعاد کر لیا۔ شہر کا شہر مہمانو ں سے بھرا ہو اتھا۔ میلو ں کا شہر ہے میلہ لگا ہوا تھا۔ اور یقین کر نے والی بات نہیں کہ مقالات کا بھی میلہ لگا ہوا تھا۔ جس کے نتائج بس اتنے ہی نکلے کہ ”استاد، استاد ہو تا ہے“ ”جیسے باپ باپ ہو تا ہے“۔ استاد مقالہ لکھ کر نہیں لاتا۔ اس کی دسترس اتنی ہو تی ہے کہ وہ سب کچھ باپ کی طرح فوری سنبھال لیتا ہے۔ اس میلے کے بعد ہر فرد کے ظرف کی باری تھی۔ وہ بہار کی ہواؤں کے سنگ سرگوشیاں کر تی پھر رہی ہے کہ سلام فرعون تجھ پہ کہ موسی کو اپنے محل میں پالا۔

اچھا نماز کا وقفہ دیجئے کیونکہ ہم کتاب میلے کا حال سنانے نکلے ہیں

جی، یہ ایک سورج سے سجی روشن صبح تھی۔ جب ہم کتاب میلے کی سیر کو چلے تھے۔ اس بار ٹھان لی تھی کہ بھئی قاری نہیں ہے، کتاب نہیں بکتی، ملکی معشیت بد ترین حالات میں ہے۔ اس کو چلانے کے لئے پھر پرانے ڈاخٹر کو بلا نے کا ارداہ ہے تو ہم بھی بچت کے اصولو ں پہ کابند رہتے ہو ئے۔ کوئی کتاب نہیں خریدیں گے۔ ظالم محبوب کی طرح اس بار کتابو ں سے بے رخی برتیں گے۔ جس میں ہم کامیاب رہے۔ ٹھرکیو ں کی طرح کتابوں کو دیکھتے رہے۔ ان کو ہم پہ غصہ آ رہا تھا۔ مگر قانون چونکہ صرف آئین کی کتابو ں میں ہے۔ اس لئے یہ کتابیں ہم پہ حراس کرنے کا پر چہ درج نہیں کروا سکیں۔

مگر کہا نی یہ نہیں ہے۔ کہانی تو کچھ اور ہے۔

ہم جس کتابی سٹال پہ کتابوں کا دیدار کر نے کی، ٹھرکی نیت سے کھڑے ہو تے۔ عین کسی پچھلے سٹال سے کوئی تلاوت با آواز بلند لگا دیتا۔ تو کبھی کسی سٹال کے سامنے کو ئی کسی بچے کو مائک تھما دیتا ہے کہ بھئی کو ئی حمدیہ کلام پیش کرو۔ ادھر ہم نے خشونت سنگھ کی کتاب تھا می نہیں ادھر کسی نے اصلاحی خطبہ کی آواز بلند فرما ئی نہیں۔ ادھر ہم نے تارڑ صاحب کا کوئی سفر نامہ پکڑا نہیں کہ ادھر سے آتی اک خاتو ن تارڑ صاحب کی کتب کے سٹال پہ کھڑی ہو کر فرماتی ہیں کہ شاید وہ وہاں بیٹھ کر بھی لکھتے ہیں۔ جہا ں انسان اپنا معدہ کا نظام درست رکھنے کے لئے دن میں کئی بار جاتا ہے۔ یو ں ہمارا سارے کا سارے رومانس رفو چکر کر نے والوں نے اس بار کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔

ابھی ناول افسانے کا سو چا بھی نہیں تھا۔ کہ واصف علی واصف سے ملنے گئے تو پتا چلا وہ بھی جا چکے ہیں۔ گویا ان کو علم تو تھا کہ ہماری نیت اس بار ٹھیک نہیں۔ اسی لئے ہمیں خطبے و کلام با آواز بلند سنائے جا رہے تھے۔ حالانکہ ”ہم سب“ نے جب پچھلے سال ایک بلاگ ”خدا سے ڈرو“ لگایا تھا۔ ہمیں اس طرح کے مسائل و وسائل کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔ مگر عین ایک سال میں حالات اس قدر بد ل گئے ہیں کہ لوگو ں نے یہ بات سنجیدہ ہی لے لی ہے۔ جیسے کچھ لو گوں نے چین جا کر علم حاصل کر نے کو اتنا سنجیدہ لے لیا کہ۔ وہ  ”کرونا“ سے بھی خوف زدہ نہیں ہیں۔

کیا تھا کہ اگر وہ دیدار یار کروا دیتی۔ ہائے اب شاعر کو عشق سے بھی نہ روکو۔

ہوا کچھ یو ں کے ایک حسین نو جوان خاتون شاعرہ ایک سٹال پہ سنجیدہ کھڑی تھیں۔ کتابوں سے باتیں کر رہیں تھیں۔ ہم بھی پشت ان کی طرف کیے ایک کتاب قصہ یوسف زلیخاں اٹھائے۔ بچپن کو یاد کر رہے تھے۔ کہ اک سرگوشی کی سی آواز حال میں لے آئی۔ ایک صاحب ان حسین خاتون کے پاس آئے راز داری سے کہنے لگے آپ کل کے مشاعرے میں آئیں ناں۔ رونق بڑھ جائے کی مشاعرے کی۔ اس بے چاری نے معذرت فرمائی کی سرمیں مشاعرے نہیں پڑھتی۔ صرف لکھتی ہوں۔

فرمانے لگے چلیں اچھا اتنی اجازت عطا فرمائے کہ آپ کی فوٹو مشاعرے میں لگا دیں۔ اس نے عاجزی سے یہ اجازت بھی دے دی کیو نکہ اسے اتنی تو خبر تھی بعد میں اس کا غذ سے شاعروں نے کیچپ والے ہاتھ ہی صاف کر نے ہیں۔ لیکن یقین نہ کیجئے گا کہ اس نے مشاعرہ نہ پڑھ کر بھی مشاعرہ لوٹ لیا ہے۔

سیمیں کر ن کا تیسرا افسانو ی مجموعہ بھی اسی میلے کی دلہن بنا اور سیمیں خود بھی آنکھو ں سمیت مسکرا تی دلہن لگ رہی تھی۔ بہت سے ادیب ملنے ملانے نکلے تھے اور ادبی غیب پرو گرام منقعدکرتے ہو ئے اپنی پرانی منزلو ں کو لوٹ گئے۔ چائے خانے سجے ہوئے تھے۔ جس قدر کتابیں خریدنے والے تھے اسی قدر کیفیزکی رونق میں اضافہ کر نے والے بھی تھے۔

لیکن جوسب سے حسین منظر تھا، وہ تھا۔ ان والدین کا جو بچوں کو اپنے ساتھ لائے تھے اور ان کو کتابیں خرید کر بھی دے رہے تھے۔ گو یا ہم کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتابو ں کی آخری صدی نہیں ہے۔ یہ بچے امید کی کرن ہیں۔ جو ایک دن سورج بن کر چمکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *