گلاسگو میں خاتون سکول ٹیچر نے کم سن طالبہ کو دودھ پلانے کا اعتراف کر لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں نرسری کلاس کی خاتون ٹیچر نے جنسی تسکین کیلئے معصوم بچی کے ساتھ’ بریسٹ فیڈنگ گیم ‘کھیلنا شروع کر دی۔ برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے مطابق  ٹیچر نے نرسری کلاس کی ایک طالبہ جس کی عمر چار سے چھ سال کے درمیان تھی سے کہا کہ وہ ایک گیم کھیلتے ہیں جس میں طالبہ شیر خوار بچی کا جبکہ وہ خود ماں کا کردار اداکریں گے ۔ اس دوران خاتون ٹیچر نے بچی کو گود میں لٹا کرایسا ظاہر کیا جیسے ماں بچے کو دودھ پلا رہی ہو تاہم ٹیچر نے اس معصوم بچی کو کچھ ناقابل بیان احکامات بھی دیئے اور جنسی تسکین حاصل کی۔

اتوار کو ڈیلی مرر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 1986 سے 1989 کے درمیان پیش آیا تھا جس کا انکشاف اس طالبہ نے تین دہائیوں کے بعد کیا ہے۔ طالبہ کا دعویٰ ہے کہ وینڈی میک گل نامی ٹیچر نے (جو اب ریٹائرڈ ہوچکی ہیں) اسےان دنوں یہ ہدایت بھی کی تھی کہ وہ اس بات کو راز رکھے اور کسی کو نہ بتائے۔ تین دہائیوں تک بچی نے اس واقعے کا کسی سے بھی ذکر نہیں کیا۔ تاہم کچھ عرصہ قبل طالبہ نے عدالت میں کیس کر دیا۔ جس پر پولیس نے وینڈی میک گل کو گرفتارکیا اور مقدمہ چلنا شروع ہو گیا۔

گزشتہ دنوں دوران سماعت ٹیچر نے (جو اب 48 برس کی ہیں) اعتراف کرلیا ہے کہ وہ اس وقت ٹین ایجر تھیں اور انہوں نے یہ سب کیا تھا۔ تاہم ایسا انہوں نے زندگی میں ایک بار ہی کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے میک کو ضمانت پر رہائی دے دی ہے تاہم ان کا نام جنسی حملہ کرنے والوں کی سرکاری فہرست میں درج کر دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply