تبدیلی کی ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی سرکار کے تخت اقتدار پر براجمان ہوتے ہی پاکستانیوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کی زہریلی خبریں زندگی کا معمول بنتی جا رہی ہیں اور اس تبدیلی نے تقریبا تمام ہی شعبہ ہائے زندگی سے منسلک لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بائیس سالہ جدوجہد اور نوے دن میں تبدیلی کے انتخابی نعروں نے ستر سال سے پسی ہوئی پسماندہ قوم کے جذباتی لوگوں خصوصا نوجوانوں میں انقلاب کی ایسی خواہش پیدا کی کہ انہوں نے اپنی تمام امیدیں تبدیلی سرکار سے باندھ لیں اور اگر کسی نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اسے ملک دشمن اور غدار سمجھتے ہوئے تبدیلی کی جستجو میں اپنے والدین کی تربیت اور سماجی رشتے بھی داؤ پر لگادیے۔

تبدیلی کی اس جستجو میں پڑھے لکھے نوجوان پیش پیش تھے جنہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی بنیاد پر بیروزگاری میں اضافے اور تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کے انعام سے نوازا گیا۔ بس اسی پہ اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ بیرون ملک پہلے سے سکالر شپ پہ موجود طالب علموں کے لیے مختص بجٹ میں بھی کٹوتی کر دی گئی۔ ان تمام اقدامات نے نہ صرف اس طبقے میں موجود تبدیلی کا کیڑا مارنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کی امیدیں اس حد تک توڑ دیں کہ اب اگلے کچھ سال تبدیلی کے نام پہ کسی جھانسے یا شارٹ کٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔

زرعی شعبہ سے منسلک کسانوں اور دیگر محنت کشوں کے حالات بھی قابل رحم ہیں ایک طرف تو اچھے بیج، کھادوں اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے دوسری طرف ٹیوب ویل چلانے کے لیے درکار ڈیزل کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ستم ظریفی کا یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکا بلکہ رہی سہی کسر ٹدی دل اور دیگر قدرتی آفات پوری کر دیتے ہیں اور یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کرنے سے قاصر ہے۔

تبدیلی کی اس جستجو نے سب سے زیادہ نقصان صنعتی اور کاروباری شعبے کو پہنچایا ہے۔ ایک طرف تو ملکی کرنسی کی قدر کم ہونے درآمدی خام مال اور ذرائع توانائی مہنگے ہو گئے دوسری طرف مہنگائی بڑھنے اور ملکی صارفین کی قوت خرید کم ہونے سے نہ صرف لوکل کھپت کم ہوگئی ہے بلکہ اشیاء کی پیداوری لاگت بڑھنے سے برآمدات میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا نتیجتا سرمایہ دار کارخانے بند کر رہے ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

تبدیلی سرکار کے پہلے ڈیڑھ سال میں تقریبا ایک لاکھ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو کر بیروزگار ہو چکے ہیں اور معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 2020 جس کو وزیر اعظم ترقی اور خوشحالی کا سال قرار دیتے ہیں اس میں اگر اسی صورتحال کا تسلسل برقرار رہا تو بیروزگاری کی شرح پچھلے سالوں سے کہیں زیادہ ہو گی۔

اگر معیشت کا جائزہ لیں تو صورتحال اور بھی گھمبیر ہے مہنگائی کی شرح جنوری 2020 میں 14 فیصد سے زیادہ رہی اسی وقت فوڈ انفلیشن یا کھانے پینے کی چیزوں میں مہنگائی 25 فیصد سے زیادہ رہی جس کا سادہ سا مطلب ہے کہ روزمرہ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں ایک چوتھائی اضافہ ہوا اسی پر بس نہیں بلکہ گندم اور چینی کی قلت اور اور ملک بھر میں آٹے کے بحران نے اس حکومت پر نا اہلی کی چھاپ مزید گہری کر دی۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ وزیر اعظم نے اس بحران سے نمٹنے اور وجوہات جاننے کے لیے جو کمیٹی بنائی وہ جناب جہانگیر ترین اور خسرو بختیار پر مشتمل تھی جو بذات خود چینی اور آٹے کی صنعت سے منسلک اور مبینہ طور پر اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان کے شرح سود کو 13.25 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھنے پہ سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گیا ہے جس کا نتیجہ رواں ہفتے سٹاک مارکیٹ کے کریش کرنے پہ نکلا اور پچپن ہزار پوائنٹس والی پاکستان سٹاک ایکسچینج مستقل طور پر چالیس ہزار پوائنٹس کی سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش میں بھی ناکام نظر آ رہی ہے۔ ٹیکس وصولی کا ٹارگٹ ایک بار آئی ایم ایف سے کم کروانے کے باوجود بھی حکومت 5238 ارب روپے کا ٹارگٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام نظر آ رہی ہے اورگزشتہ سات مہینے کے اعداد وشمار کے مطابق ابھی تک اپنے دیے گئے ہدف سے 387 ارب روپے پیچھے ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی پہلے ہی غیر معینہ مدت کے لیے رخصت پر جا چکے ہیں اور حکومت ان کے متبادل کے طور پر کچھ ناموں پر غور کر رہی ہے۔ ملکی قرضے کی بات کریں تو حکومت اپنے ابتدائی اٹھارہ مہینوں میں تقریبا 11000 ارب روپے کا قرضہ لینے کے باوجود کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے سے قاصر ہے۔

حکومتی ٹیم کا جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ نا اہل اور غیر سنجیدہ لوگوں کو چن چن کر عمران خان کی کابینہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جنہیں اپوزیشن سے زیادہ اپنے سکینڈلزاور بیانات سے خطرہ ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی منتخب حکومت اور مقتدر حلقوں کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود ملکی حالات دن بدن حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک آ چکی ہے میڈیا کو ڈرا دھمکا کر کنٹرول کرنے کے باوجود نا اہلیاں عیاں ہونے سے روکنے میں ناکامی پر وزیر اعظم نے قوم کو میڈیا سے دور رہنے کا مشورہ دے دیا ہے اور لگے ہاتھ یہ بھی فرما دیا ہے کہ ”اصل سکون تو قبر میں ہے“۔

ہاں البتہ عارضی طور پر سکون چاہیے ہو تو حوروں والے انجیکشن سے کام چلایا جا سکتا ہے اور تو اور مجوزہ ٹیکوں کی قلت کا حل بھی شہریار آفریدی صاحب نے عمران خان کی مشاورت سے سوات میں فیکٹری لگا نے کی تجویز دے کر نکال لیا ہے۔

اگر اس ساری صورتحال کی وجوہات کا جائزہ لیں تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو حکومت مشکل حالات میں ملی لیکن یہ جواز کافی نہیں ہے کیونکہ 2013 میں مسلم لیگ کو بھی ایسے ہی حالات میں عنان حکومت سنبھالنی پڑی لیکن تبدیلی کے علمبرداروں کے پاس اپنے دعوؤں کے برعکس نہ تو کوئی ویژن تھا نہ ہی وہ تجربہ کار ماہرین کی ٹیم سامنے لا سکے جس کا وہ انتخابی مہم میں تواتر سے ذکر کرتے رہے تھے نتیجتا ملک کے دو صوبے پارٹی کی اندرونی سیاست کی نذر ہو کر نا تجربہ کار نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر غیر ضروری تجربوں کی بٹھی میں جھونک دیے گئے جس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔

دوسری بڑی وجہ بیوروکریسی اور میڈیا سے غیر ضروری محاذ آرائی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں آئے دن بیوروکریسی میں تبادلوں اور نیب کی طرف سے ہراسانی کی وجہ سے کاروبار مملکت ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ میڈیا جسے نومنتحب حکومت کی سپورٹ کرنے، اس کے اچھے کام اجاگر کرنے اور پہلے 90 دن اس پر تنقید نہ کرنے کا حکم ملا۔ طاقتور حلقوں کے اس حکم پر عمل بھی کیا گیا لیکن جب مستقل غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی اور حکومت نے میڈیا پر ہونے والی تنقید پر کان دھرنے کی بجائے اسے دھمکیوں، اشتہارات کی تقسیم اور میڈیا عدالتوں سے کنٹرول کرنے کی جس نے بھی میڈیا اور حکومت میں موجود خلیج کو وسیع کردیا۔

رہی سہی کسر وزرا کے غیر سنجیدہ بیانات، سکینڈلز، اقرباء پروری اور کرپشن کی داستانوں نے پوری کردی جس سے بھی حکومتی ساکھ کو دھچکا لگا ایک اور اہم وجہ اداروں میں اصلاحات کے عمل میں غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی ہے۔ پولیس اور ٹیکس سسٹم اس کی روشن مثالیں ہیں یہی نہیں بلکہ 65 کے قریب حکومتی ادارے جو ہر سال ملکی خزانے کوتقریبا 195 ارب روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں اصلاحات کے منتظر ہیں۔

انتقامی احتساب اور الزامات کی سیاست بھی موجودہ گھمبیر صورتحال کو اس نہج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں اور میگا پروجیکٹس مکمل کرنے والے اہم بیورو کریٹس کی نیب کی جانب سے انکوئری کی سٹیج پر گرفتاریوں اور ہواؤں کا رخ بدلنے کے بعد ان میں سے بیشتر کی رہائی نے بھی انتقامی احتساب اور حکومتی کارکردگی کا پول کھول کر احتساب کے نعروں کو جھوٹا اور کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے وسیع القلبی سے اپنے گزشتہ اقدامات کا جائزہ لیں اور اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لیے خالصتا ملکی مفاد میں سب سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پالیسیاں بنائیں اور اپنی حدودوقیود میں رہ کر ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ ملک اب مزید غیر ضروری اور ناکام تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply