اب کی بار چمن والوں سے اپنا حصہ پورا لیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی دلچسپ ہے کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے 16 ویں بار بھی مظفرگڑھ کے دورہ سے جان چھڑالی ہے۔ مطلب دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ استقبال کے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو پنجاب میں حکومت کرتے ہوئے ڈیرہ سال کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن تھل کے سات اضلا ع خوشاب، میانوالی، بھکر، لیہ مظفرگڑھ، جھنگ اور چینوٹ جانے کے لئے اتنے متحرک نہیں ہیں، جتنا بہاولپور، ملتان اور پھر ڈیرہ غازی خان کے لئے ہیں یا پھر جتنا وقت تخت لاہور کو دے رہے ہیں۔

ادھر ضلعی انتظامیہ مظفرگڑھ وزیراعلی عثمان بزدار کے استقبال کے لئے ہر بار سارے انتظامات کرتی چلی آرہی ہے، خاص طور پر ہر بار دو ہیلی پیڈ تیارکیے جاتے ہیں۔ جس میں سے ایک پر ہیلی کاپٹر نے اترنا ہوتا ہے جبکہ دوسرا ہیلی پیڈ اسٹینڈ بائی ہوتا ہے۔ جیسا کہ مظفرگڑھ سے رپورٹ ہوا ہے کہ 16 ویں بار وزیراعلی عثمان بزدار کا دورہ مظفرگڑھ منسوخ ہوا ہے۔ اس طرح جمع تفریق کریں تو پتہ چلتا ہے کہ محمکہ ہائی وے کی طرف سے ہر بار دوبار ہیلی پیڈ تیار ہوتے رہے ہی اور یوں مجموعی طورپر ڈیڑھ سال میں 32 بار ہیلی پیڈ تیار کیے گئے ہیں۔

اور وزیراعلی بزدار کے دورہ کے لئے دیگر انتظامات اس کے علاوہ ہیں کہ ہٹوبچو تخت لہور کے وزیراعلی آرہے ہیں، اس پر کتنا مال خرچ ہوا ہے، اس پر بات چلی تو کہانی کو ایک اور موڑ آئے گا جس کا انجام قابل تعریف پہلو پر ختم نہیں ہوگا۔ یہاں ایک اور بھی دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ مظفرگڑھ کے ارکان صوبائی اسمبلی نے پہلے کی طرح اس بار بھی اپنے اپنے انداز میں دعوی کیاتھا کہ وزیراعلی عثمان بزدار ان کی دعوت پر آرہے ہیں۔

اب سارے دعوے دار ارکان اسمبلی چپ ہیں کیوں کہ موصوف ایک بار پھر مظفرگڑھ کے ارکان اسمبلی کو اسی صورت حال سے دوچار کرگئے ہیں جوکہ وہ اس سے پہلے پندرہ بار ہوچکے ہیں، مطلب شرمندہ، شرمندہ۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار گڈ گورننس کے دعوے پر تو پہلے ہی اپنوں اورمخالفین کی طرف سے تنقید کی زد میں ہیں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبہ کی وزرات اعلی عثمان بزدار کے بس کی بات نہیں ہے۔ دوسری طرف موصوف ہیں کہ مخالفین کے منہ بند کرنے کے لئے اتنے میں بھی متحرک نہیں ہیں کہ پنجاب کے پسماندہ اضلاع کا دورہ کرسکیں خاص طورپر تھل جاسکیں، وہاں کے مسائل جان سکیں، دیوار کے ساتھ کھڑی عوام کو اپنائیت کا احساس دے سکیں کہ وہ لہور یا پھر ڈیرہ غازی خان کے وزیراعلی نہیں ہیں بلکہ پورے پنجاب کے وزیراعلی ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ صورتحال اسوقت پیدا ہوتی ہے کہ جب تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کی طرف سے اس با ت کا شدت کے ساتھ تکرار کیاجاتا ہے کہ پنجاب کواسلام آباد سے چلایا جارہا ہے، مطلب وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار تو نام کے وزیراعلی ہیں باقی کارروائی کرنیوالے اور حضرات ہیں۔ حکومتی اتحادیوں اور اپوزیشن کی طرف سے جونہی عثمان بزدار کے خلاف سیاسی میدان میں ایک ماحول بن جاتاہے تو وزیراعظم عمران خان اپنے وسیم اکرم پلس کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لہور پہنچتے ہیں اور ایک بار پھر وہی کہانی دھراتے ہیں کہ وزیراعلی عثمان بزدار ہی رہیں گے، ان جیسا وزیراعلی ہی پنجاب کو ضرورت ہے۔

ادھر مظفرگڑھ کی بات چلی تو مظفرگڑھ کا تعارف کروادوں کہ ضلع مظفرگڑھ ملتان سے متصل دریائے چناب کی غربی پٹی کے ساتھ واقع ہے۔ اس کے مغرب کے اضلاع میں ڈیرہ غازیخان ہے، مشرق میں اضلاع بہاولپور اور ملتان۔ شمال میں ضلع جھنگ اور جنوب کی سمت میں ضلع رحیم یار خان واقع ہے۔ ادھرلیہ جوکہ، مظفرگڑھ کی تحصیل تھا، اس کے ساتھ آکر ملتا ہے۔ مظفرگڑھ ضلع کا کل رقبہ آٹھ ہزار دوسو پچاس سکوائر کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

ضلع مظفرگڑھ کی شرقی پٹی ’خصوصا دریائے چناب سے متصل علاقہ زرخیز۔ زمینوں پر مشتمل ہے۔ جن میں زرعی اجناس اور آموں کے باغات کی بہتات ہے۔ جبکہ غربی پٹی اور دریاے سندھ کے قرب وجوار کا علاقہ زیادہ تر بنجر ہے۔ مظفر گڑھ چار۔ تحصیلوں کا ضلع ہے، جن میں علی پور، کوٹ ادو، مظفرگڑھ اور جتوئی شامل ہیں۔ مظفرگڑھ ضلع کا ایک بڑا حصہ تھل میں آتا ہے۔ مظفرگڑھ پنجاب کا خاصا پسماندہ علاقہ ہے۔ اس بات کے باوجود کہ مظفرگڑھ کے سیاستدانوں کو ملکی سطح پر شہرت کے علاوہ اقتدار کے ایوانوں میں شب وروز گزارنے کا بھرپور موقع ملا۔

مظفرگڑھ کے ان سیاستدانوں میں نوابزادہ نصراللہ خان ’میاں مشتاق احمد گورمانی‘ سردار عبدالحمید دستی اور ملک غلام مصطفے کھر کا نام لیا جاسکتا ہے جوکہ ملکی سیاست کے وہ کردار ہیں جن کے بغیر ملکی سیاست ایک وقت میں ادھوری تھی۔ میاں مشتاق احمد گورمانی 1937 میں عملی سیاست میں قدم رکھا ’اور پھر پنجاب کی وزرات تعلیم وصحت کے پارلیمانی سیکرٹری سے لے کر صوبہ بہاولپور کے وزیراعظم تک بنے۔ اسی طرح موصوف مغربی پاکستان کے پہلے گورنر بھی بنے۔

سردار عبدالحمید دستی ون یونٹ کے قیام تک پنجاب کے وزیراعلی رہے۔ ضلع مظفرگڑھ کی ایک اور نامور شخصیت نوابزادہ نصراللہ خان کی ہے۔ وہ نواب سیف اللہ خان کے فرزند ہیں۔ جو اپنے وقت میں آنریری اسٹنٹ کمشنر تھے جن کو انگریزوں نے خان بہادر اور نواب کا خطاب دیا تھا۔ وہ بھی قومی سیاست میں ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ادھر ملک مصطفے کھر جوکہ یار محمد کھر کے گھر 1937 میں پیدا ہوئے۔ ملک غلام مصطفے کھر 1962 ء میں قومی سیاست میں داخل ہوئے پنجاب کے گورنر اور وزیراعلی رہے۔

سیاست کے میدان میں بڑا نام کمایا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے زیرک سیاستدان کے ساتھ سیاسی میدان میں رہے۔ ان سارے مظفرگڑھ کے سیاستدانوں کی اقتدار میں اس حد تک موجودگی کے باجود مظفرگڑھ کو اپنے سیاسی قدکاٹھ کے مطابق آگے لانے میں ناکام رہے۔ مظفرگڑھ کے لوگ اپنے سیاستدانوں کے روارکھے گئے سلوک کے سبب ہر سطح پر مسائل کا شکار ہیں، عوام کو کوئی ایسی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے جوکہ اس کے عوام کو حق تھا، مطلب مظفرگڑھ ضلع تھل کے دیگر اضلاع کی طرح اسوقت میڈیکل کالج، ٹیچنگ ہسپتال سے لے کر یونیورسٹی سے محروم ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ تسلسل کے ساتھ پنجاب حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ 72 سال بعد تو یونیورسٹی اور میڈیکل کالج دے دیں تاکہ یہاں کے لوگوں کا اپنے ضلع میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا خواب تو پورا ہوسکے۔ لیکن ابھی تک تمام تر کوششوں کے باوجود تخت اسلام آباد اور لاہور کی طرف سے کوئی امید دینے کا پیغام بھی نہیں دیا گیا ہے۔ ایشو صرف تعلیم کا نہیں ہے بلکہ صحت کے حوالے سے بھی کوئی خاطر خواہ سہولتیں اس طرح حاصل نہیں ہیں جوکہ اس تاریخی ضلع مظفرگڑھ کے عوام کو ملنی چاہیں تھیں۔

ادھر تھل کے ایک اور ضلع لیہ کے ساتھ بھی وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار وہی کررہے ہیں جوکہ اس کے ساتھ جڑے ضلع مظفرگڑھ میں کیا ہے۔ لیہ سے بھی اطلاعات ہیں کہ چھٹی بار وزیراعلی عثمان بزدار کا دورہ منسوخ ہوا ہے، ہر بار ایک خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ اگلے ہفتے وزیراعلی عثمان بزدار لیہ آرہے ہیں لیکن پھر پتہ چلتاہے کہ وہ نہیں آرہے ہیں اور اب اگلی بار آئینگے۔ لیکن پھر وہی کہانی دھرائی جاتی ہے۔ اس بار لیہ گیا تو ڈاکٹر جاوید کنجال صاحب کے پاس صحافی محسن عدیل سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ سنائیں لیہ کے حالات اس دور حکومت میں کہاں تک بدلے ہیں تو دونوں صاحبان خاموش ہوگئے، اور معنی خیز خاموشی کے بعد بولے تو کہا خضر بھائی کچھ بھی نہیں بدلا، لیہ آگے جانے کی بجائے پیچھے جارہا ہے۔

وزیراعلی عثمان بزدار کی طرف سے بھی کوئی ایسا منصوبہ لیہ کے لئے نہیں دیا گیاہے کہ جس کا ذکر یہاں پر کرکے آپ کو خوشخبری دی جائے کہ ایسا ہونے جارہا ہے۔ تھل کی پسماندگی کی کہانی جو ضلع مظفرگڑھ سے شروع ہوتی ہے، لیہ، بھکر، میانوالی سے خوشاب پہنچتی ہے اور پھر جھنگ اور چینوٹ میں آجاتی ہے، اس کے تدارک کے لئے نہ 72 سال میں کچھ ہوا ہے اور نہ اب تبدیلی سرکارکی طرف سے ہورہا ہے۔ لیہ کے آزاد ارکان اسمبلی پنجاب میں تبدیلی سرکار خاص طورپر عثمان بزدار کو وزیراعلی بنوانے کے لئے ایسے دوڑے تھے کہ رہے نام اللہ کا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ انہی ارکان کی دعوت پر وزیراعلی عثمان بزدار لیہ آنے پر تیار نہیں ہے اور نہ ہی لیہ کو میڈیکل کالج، زرعی یونیورسٹی، ڈویثرنل ہیڈ کوارٹر سمیت ایم ایم روڈ مطلب قاتل روڈ کو دورویہ کرنے کا منصوبہ دینے تیار ہیں۔ اسی طرح لیہ کے موضع سمرا نشیب میں اوقاف کی چار مربع زمین پر قبضہ کی کہانی بھی وزیراعلی عثمان بزدار سمیت وزیراعظم عمران خان کے لئے کوئی بڑا سیکنڈل نہیں ہے۔ ہمارا تو خیال تھاکہ ضلعی انتظامیہ لیہ ڈپٹی کمشنر اظفر ضیاء کی سربراہی میں موضع سمرا نشیب کی اوقاف کی سرکاری زمین کے قابض کے خلاف بڑا ایکشن کرکے اس زمین کو وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق یونیورسٹی کے قیام کے لئے وقف کرے گی اور وزیرعلی عثمان بزدار لیہ آکر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھیں گے لیکن اب تک کی صورتحال سے تو لگتاہے کہ پنجاب حکومت اور لیہ انتظامیہ ایک سیاسی قابض کے آگے گھنٹے ٹیک چکی ہے۔ لیکن اس تلخ صورتحال کے باوجود تھل کے لوگ پراپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہاہے کہ

اب کی بار چمن والوں سے اپنا حصہ پورا لیں گے

کانٹے بھی تقسیم کریں گے پھولوں میں بھی حصہ لیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *