معاملہ نہ یک پہلو ہوتا ہے نہ سیاہ یا سفید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلیے ہم مذہب کی بات تو سرے سے کرتے ہی نہیں مگر نظریہ یا نظام جو بھی لیں اس کے حامی ہوں گے تو اس کے گن گائیں گے اور مخالف اس کے نقائص گنوائیں گے۔ اسی طرح کوئی مسئلہ لے لیں، اس کا سبب بتاتے ہوئے حتمی طور پر کسی ایک بات کو قرار دے دیا جائے گا جیسے آج کسی نے سوشل میڈیم فیس بک پر تصویر شیئر کی کہ کسی شہر کا کوئی زرگر زیورات سازی چھوڑ کر پکوڑے بیچنے لگا ہے کیونکہ سونا مہنگا ہو گیا ہے۔

اب کسی نے اس تصویر پر عنوان دیا کہ عمران خان تبدیلی حکومت کی وجہ سے سونا مہنگا ہو گیا۔ یقین جانیں سونا مہنگا ہونے کی یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ درست کہ اس حکومت کے دور میں روپے کی قدر کم ہوئی بلکہ خاصی کم ہوئی مگر سونا مہنگا ہونے کے دوسرے اہم اسباب میں عالمی معیشت کی کسی حد تک کساد بازاری، اس کی وجہ سے سب سے زیادہ روس اور چین کی حکومتوں اور ان کی علاوہ دوسرے ملکوں کا بھاری مقدار میں سونا خریدنا ہیں، اس طرح طلب و رسد غیر متوازن ہونے سے سونا مہنگا ہو گیا۔ پھر سونے کے زیورات پہننے کا جنون برصغیر اور مشرق وسطٰی کی خواتین کے علاوہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ہو۔

دو روز پہلے میں سوویت یونین اور بعد میں روس کے ایک لیجنڈری ہدایت کار کی 1964 کی بلیک اینڈ وائٹ فلم ”رجسٹر شکایات دینا“ دیکھ رہا تھا۔ اس فلم میں ‌ ایک ریستوران میں خواتین میزبان اور دیگر عملہ خوش اخلاق نہیں ہوتا۔ ویسے یہ سوویت یونین کا المیہ رہا کہ وہاں چونکہ سبھی سرکاری کارندے ہوتے تھے، ان کی بلا سے گاہک آئے نہ آئے چنانچہ ان کے رویے ہر جگہ اکتاہٹ پر مبنی ہوتے تھے۔ اس کے اثرات آج بھی کسی حد تک ہیں اگرچہ سوویت یونین کو ہوا ہوئے تین عشرے بیت چکے۔

خیر ایک صحافی تجویز دیتا ہے کہ ریستوران کی میزبان خواتین کو مسکرانا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہو رہے ایک اجلاس میں ایک بڑا سرکاری عہدے دار کہتا ہے کہ ہاں میں مغربی ملکوں میں گیا ہوں وہاں سب مسکراتے ہیں مگر وہ یونہی تو نہیں مسکراتے۔ وہ تو پیسے کے لیے مسکراتے ہیں۔ اس پر تجویز دینے والا کہتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں یہاں بھی عوام کی خدمت میں مصروف لوگ مسکرائیں اور وہ پیسے کے لیے نہ مسکرائیں۔ مطلب یہ کہ بتانے والے معاشرے کی کمی کوتاہی اور نقائص کا ذکر ہر دور میں ہر طرح کرتے ہیں۔ ایسا نہیں تھا کہ سوویت یونین میں سب خامیاں تھیں یا سب اچھا تھا مگر اندازہ کیجیے کہ سرکاری سرمائے سے سرکاری سرپرستی میں بنائی گئی فیچر فلم میں یہ بات تب بتائی جا رہی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اگرچہ یہ مثبت پروپیگنڈہ تھا۔

مگر یہ تو ہوا کہ بات لوگوں تک دوہرے انداز میں پہنچ گئی پہلی تو یہ کہ مغرب میں لوگوں کی خدمات پر مامور لوگ مسکراتے ہیں یعنی اخلاق سے پیش آتے ہیں، پرانے خیال کے شخص نے اس کو دیکھا اور مانا بھی مگر اس کا ایک یک پہلو سبب بتا دیا کہ وہ پیسے کے لیے مسکراتے ہیں، ہو سکتا تھا کہ کچھ لوگ محض بہتر اخلاق کے اظہار کے طور پر ایسا کرتے ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی لوگوں پر ظاہر ہو گیا کہ ان کے ہاں ایسے اہلکار جھنجھلائے ہوئے ہوتے ہیں اور مسکراتے نہیں۔ لوگ ایسا کیے جانے کی توقع کرنے کی جانب بھی راغب ہوئے ہوں گے، سارے نہ سہی کچھ تو ضرور ہوئے ہوں گے اور یقیناً کسی نے انفرادی طور پر ہی سہی اپنا اخلاق سدھارا بھی ہوگا یا کم از کم کوشش کی ہوگی۔ لوگوں پر یہ بھی کھلا کہ محض مارکیٹنگ کے لیے ہی نہیں ویسے بھی مسکرانا چاہیے۔

ہم پیمانے کے یا اس طرف ہوتے ہیں یا اس طرف۔ ہمیں برطانیہ کی جمہوریت دکھائی دیتی ہے مگر تیسری دنیا کے جمہوری کہلانے والے ملکوں میں ہوتی جمہوریت کی پامالی دکھائی نہیں دیتی۔ ہم سب اچھا دیکھنا چاہتے ہیں، برا ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طنز نگار کہتا ہے کہ ہم مسلسل الاپتے ہیں، ہمارے سپاہی انتہائی نامساعد موسمی حالات میں لڑ رہے ہیں۔ ارے بھائی ٹھیک ہے مگر ہماری گلیوں میں جو گند کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، ان کو ہٹائے جانے اور صفائی کی ریت اختیار کرنے کا بھلا سپاہی کے نامساعد موسمی حالات میں لڑنے سے کیا تعلق ہے۔

اب ہم سارے مسائل کا کوڑا موجودہ حکومت پر ڈال دیں گے یہ دیکھے بن کہ عالمی قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کی مد میں ہمارے سالانہ بجٹ کا کتنا حصہ جاتا ہے۔ دفاع کی مد میں بجٹ کا معتد بہ حصہ مختص ہوتا ہے پھر کہیں جا کے سالانہ بجٹ میں اخراجات کے لیے خرچ کرنے کو میسر رقم کا جو ساتواں آٹھواں حصہ بچ رہتا ہے اس میں سے کتنا خورد برد ہوتا ہے اور کتنا کتنا کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے۔ تعلیم اور صحت کو تو بھول جاؤ، ترقیاتی منصوبوں پر بھی لگانے کو کچھ نہیں ہوتا۔

جو اب تک کرتے رہے وہ کاغذ کے نوٹ چھاپ چھاپ کے کرتے رہے۔ اس حکومت کے پاس تو اتنا بھی نہیں کہ نوٹ چھاپ لے کیونکہ روپے کی قدر ویسے ہی بہت کم ہو چکی۔

ہم ہیں ہی ایسے کج چشم کیونکہ کور چشم ہم ہیں نہیں۔ عورتوں کی حمایت کرنے لگتے ہیں تو انتہا کر دیتے ہیں۔ مخالفت کریں تو پاؤں کی جوتی بنا دیتے ہیں۔ کسی کی تعریف کرنے لگ جائیں تو اسے عرش پر بٹھا دیتے ہیں اور کسی کو گرانے پہ آئیں تو جب تک اسے پاتال تک دھنسا نہ لیں ہمیں چین نہیں آتا۔ ہم اپنی خو میں انتہا پسند ہے مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ ہمیں خود کو سدھار لینا چاہیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *