اسلام آباد میں سونا اگلتے مٹی کے پہاڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کے مرکزی سیکٹر جی سیون سمیت دیگر قریبی سیکٹرز میں مٹی کے ڈھیر اور مٹی سے لدے ٹرک رواں دواں نظر آ رہے ہیں جو تقریباً ہر بلاک کے ساتھ مٹی کا پہاڑ کھڑا کرتے جا رہے ہیں۔ کراچی کے سمندر سے تیل تو فی الحال نہیں نکل پایا مگر اس مٹی سے لگتا ہے سونا ضرور نکلے گا۔ اسلام آباد جو کسی دور میں دی بیوٹیفل مشہور تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے جنگلوں، جنگلی حیات، گرین بیلٹ کی خوبصورتی ماند پڑتی جا رہی ہے۔

موسمیاتی تغیرات، نئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیرات اور عدم توجہ کی باعث اسلام آباد دن بہ دن خوبصورتی کے بجائے بدصورتی کی طرف جا رہا ہے اور اب ان مٹی کے پہاڑوں نے تو مزید اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ اسلام آباد میں ہر طرف مٹی ہی مٹی نظر آ رہی ہے۔ یہ قیمتی مٹی جس سے اسلام آباد کو سجایا جا رہا ہے یہ در اصل سیکٹر جی ایٹ اور جی سیون کے زیر تعمیر انڈر پاس کی ہے۔ بغیر پلاننگ کے فی الحال اس منصوبے پر کام تو جاری ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ماضی کے کرپٹ دور کا کوئی کانٹریکٹر جو تبدیلی حکومت کی ماحول دوست پالیسی پر گامزن ہو کر پورے اسلام آباد کو مٹی کا اسپرے کر کے کرونا وائرس سے بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

وزیر اعظم صاحب کی آئے روز کیمپ ڈیوڈ کی طرح اسلام آباد میں اپنے بنائے ہوئے دنیا کے خوبصورت باغیچے میں ایک تصویر نظر آ جاتی ہے اور بنی گالا سے وزیر اعظم ہاؤس تک ہیلی کاپٹر میں شاہی سفر اور کالے چشمے میں کہاں پتہ چلتا ہوگا کہ یہ مٹی کا طوفان جس کا رخ اسلام آباد کے شہریوں کی طرف ہے الرجی سمیت کئی اور بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقیاتی کام ہونے چاہئیں سیکٹر جی ایٹ اور جی سیون کا انڈر پاس بھی وقت کی اشد ضرورت ہے مگر پلاننگ کے ساتھ کام ہونے چاہیئں۔

جس طرح مٹی کے ملبوں کے رہاشی علاقوں میں پہاڑ بنائے جا رہے ہیں، جس طرح کانٹریکٹر اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ملی بھگت سے خرچہ بچانے کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹرک چلا کر مٹی بچھائی جا رہی ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پھر اسلام آباد کو صاف اور خوبصورت بنانے کے لیے مزید لاکھوں روپے کا پیکج مانگا جائے گا۔ بھلے ہی آپ کلین اور گرین پاکستان اور ملین ٹری پروجیکٹ میں اسلام آباد کو شامل نہ کریں مگر خدارا اس کو بدصورت ہونے سے بچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *