پانچ روزہ کتاب میلہ اور حکومتی رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھے فروری سے ایکسپو سنٹر میں شروع ہونے والا انٹرنیشنل کتاب میلہ دس فروری بروز پیر کو اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور یہ میلہ بھی ہمیشہ کی طرح کئی ان گنت کہانیاں اور واقعات ہمارے دامن میں بھر گیا۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی حکومتی سنجیدگی بالکل صفر رہی۔ گزشتہ برس تو سننے میں آیا تھا کہ جب صدرِ مملکت عارف علوی کو کتاب میلے میں مدعو کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ وہ ملک سے باہر ہوں گے حالانکہ کتاب میلے والے دن وہ بمعہ فیملی مری میں سیر و تفریح کرتے دیکھے گئے جس پر ادبی دوستوں اور قلم کاروں کی طرف سے حکومت کو انتہائی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اب سننے میں یہ آیا ہے کہ اس دفعہ تو حکومتی عہدیداران نے انتہا ہی کر دی یعنی جب صدرِ مملکت سے ایکسپو سینٹر میں ہونے والے اپنی نوعیت کے اس منفرد کتاب میلے کے افتتاح کا کہا گیا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت فرما لی کہ وہ کہیں اور مصروف ہیں۔ انتظامیہ نے دیگر عہدیداران سے بھی وقت مانگا مگر حکومتی مشینری کے تمام ”اہلِ علم“ کسی نہ کسی مصروفیت کا کہہ کر انکار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیرِ تعلیم تک نے بھی معذرت فرما لی کہ ان کے پاس بھی کتاب میلے میں شرکت کا وقت نہیں وہ کہیں اور مصروف ہیں۔

اس کے بعد بھی کئی اہم وزراء سے وقت مانگا گیا اور تمام وزیر بے چارے حکومتی کاموں اور فلاحی کاموں میں مصروف تھے یعنی یہ سمجھ لیا جائے کہ حکومت کے پاس کتاب کلچر کو فروغ دینے اور علم و ادب کے لیے وقت نہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ کوئی اہم فلاحی کام نہیں۔ آخر کار کسی تعلق اور وسیلے سے جناب اعجاز چودھری کو بلایا گیا جنہوں نے اس کتاب میلے کا افتتاح کیا۔ میرا خیال ہے کہ گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ سمیت فیاض الحسن چوہان ’فواد چودھری اور شفقت محمود کو تو ہر حال میں اس میلے کا حصہ بننا چاہیے تھا کیونکہ یہ تینوں وزارتیں علم و ادب کے حوالے سے اہم ترین ہیں مگر کیا کیا جائے ہماری بے چاری حکومت ڈینگی‘ کرونا وائرس ’مہنگائی اور میاں برادران کی بحث سے باہر آئے تو اسے کچھ عوام کی بھی سوجھے۔

کتنے دکھ کی بات ہے کہ پوری دنیا میں کتاب کے فروغ کے لیے صدر سے لے کر عام حکومتی عہدیداران تک ہمہ تن مصروف ہوتے ہیں مگر ہمارے وزراء اور حکومتی شہزادے کتا ب کی اہمیت سے بالکل بھی واقف نہیں یا اگر واقف ہیں بھی تو ان کے لیے یہ کوئی اہم کام نہیں۔ ہمارے چہیتے وزیر اعظم تو کہا کرتے تھے کہ یہ ملک علم و ادب کا گہوارہ بنے گا اور یہ کون سا گہوارہ ہے جہاں اتنے برے کتاب میلے میں کوئی حکومتی وزیر نظر نہیں آیا اور یہاں تک کہ وزیر تعلیم تک نہیں پہنچ سکے۔

اس حوالے سے علمی و ادبی حلقوں میں بہت زیادہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ حکومت کیا کتاب کلچر کے معاملے میں سنجیدہ نہیں یا حکومت ایسے عوامی میلے میں اس لیے زشریک نہیں ہوتی کہ وہ عوام کے سوالات کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ اگر تو یہ سچ ہے کہ حکومتی عہدیداران کو مدعو کیا اور اس کے باوجود کوئی حکومتی ذمے دار اس میلے میں شریک نہیں ہو سکے تو انہیں عوام کو جواب دینا ہوگا۔ کوئی بھی صحت مند معاشرہ کتاب کے بغیر ترقی نہیں کرتا اور یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں عوام تو کتاب سے جڑنا چاہتی ہے مگر حکومتی غیر سنجیدگی انہیں پیچھے دھکیل رہی ہے۔

میں پانچ روز کتاب میلے کا حصہ رہا اور کچھ گھنٹے وہاں گزاراتا رہا اور یقین جانیں سب سے زیادہ تنقید پنجاب کی کابینہ پر کی گئی کہ کسی وزیر کے پاس ایک گھنٹے کا بھی وقت نہیں تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے وزیر اعلیٰ پانچوں روز چند ورزاء کی ڈیوٹی لگاتے کہ وہ ایک ایک گھنٹہ اس کتاب میلے میں شریک ہوں اور عوام کے ساتھ کتاب کلچر کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مگر بات پھر وہاں آ کر رک جاتی ہے کہ حکومت مریم نواز کو بیرونِ ملک بھیجنے یا نہ بھیجنے کی بحث سے باہر آئے تو اسے کتاب میلے کی ہوش آئے۔

مجھے حکومت کی اس طرح کے کاموں میں بھی غیر سنجیدگی دیکھ کر اب تو افسوس ہونے لگ گیا ہے کہ ہم کیا سوچ کر اس حکومت کو سپورٹ کرتے رہے ’پاکستان کے کئی نامور اہلِ قلم عمران خان کی حکومت لانے میں پیش پیش رہے مگر ادبی اداروں اور ادبی کاموں میں اس حکومت نے غیرسنجیدگی سے اب وہی اہلِ قلم اس حکومت کے خلاف ہو گئے۔ یہ سچ ہے کہ قلم کار عزت چاہتے ہیں‘ وہ چاہتے ہیں کہ مانہیں اون کیا جائے مگر یہاں تو اہلِ قلم کانفرنسوں کا بھی سلسلہ ختم ہو گیا اور حکومتی سطح پر علمی و ادبی سیمینارز ہونا بھی بند ہو گئے۔

ایک حوالے سے میں آج بھی نواز شریف کو داد دوں گا کہ پاکستان میں ادبی کانفرنسوں کا سلسلہ سب سے زیادہ مسلم لیگ نون کے دورِ حکومت میں رہا اور اس کے بعد اب آپ ادبے اداروں کا حال دیکھ لیں کہ کیا کر دیا گیا۔ کئی ادبی ادارے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کر رہے تھے ان سب کو ضم کر کے اداروں کی شناخت تک مٹا دی گئی۔ کام کرنے والے لوگوں کو چھٹی کروا دی گئی اور کرپشن کا واویلا کر کے اپنی مرضی کے لوگ سیٹوں پر بھرتی کیے جانے لگے۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان جہاں علم و ادب کو ”کھڈے“ لگا دیا گیا۔ اردو سائنس بورڈ ہو یا مقتدرہ قومی زبان یا اکادمی ادبیات پاکستان، یہ سب ادارے کیوں بنائے گئے تھے اور ان کا کام کیا ہے۔ حکومت بے چاری ایک کتاب میلے میں شریک نہیں ہوسکتی کانفرنس کروانا یا ادبی اداروں کو فنڈز دینا تو بہت دور کی بات ہے۔

قارئین ایک طرف تو یہ حکومتی رویہ ہے اور دوسری طرف ہم یہ شور ڈال رہے ہیں کہ پاکستان میں کتاب نہیں پڑھی جا رہی حالانکہ یہ بھی ہمارے پبلشرز کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ ایکسپو میلے میں پانچ روز عوام کی شمولیت اور کتب کی خریداری سے ہم بالکل بھی نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان میں کتاب کلچر ختم ہوتا جا رہا۔ کچھ روز قبل ہی کراچی ایکسپو میں بھی کتاب میلے کا اہتمام کیا گیا تھاجس میں لاہور سے بھی کچھ پبلشرز وہاں پہنچے تھے۔

مجموعی طور پر یہی رائے سننے کو ملی کہ ایک کامیاب اور شاندار کتاب میلہ تھا اور عوام الناس نے بھرپور انداز میں اس میلے میں شمولیت اختیار کی۔ کراچی آرٹس کونسل کی سالانہ کانفرنس ہو یا کوئی بھی ادبی تقریب ’مراد علی شاہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور یہاں کے وزیر اعلیٰ بے چارے۔ ۔ ابھی 12 فروری کو ساہیوال آرٹس کونسل میں بھی دو روزہ بین الاقوامی اردو کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے اور دیکھتے ہیں کہ کون سا حکومتی نمائندہ ساہیوال اس عظیم کانفرنس میں جاتا ہے۔

ڈاکٹر ریاض ہمدانی کی شبانہ روز محنت سے یہ تیسری کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے اور میں حکومتِ پاکستا ن سے دست بستہ گزارش کروں گا کہ خدارا کتاب کلچر کو فروغ دیں۔ اگر خود پیسہ نہیں لگا سکتے تو جو تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں ان کا تو ساتھ دیں۔ کم از کم افتتاح والے دن ہی ایک آدھ گھنٹہ نکال لیا کریں تاکہ عوام کو بھی پتا چلے کہ حکومت علمی و ادبی کاموں میں بھی پیش پیش ہے۔ ابھی تک تو عوام کو یہی پتا ہے کہ حکومت شریف برادران کے مسئلے سے ہی باہر نہیں آ پا رہی۔

دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور ملک مسائلستان بنتا جا رہا ہے۔ کسی علمی و ادبی کام کی جانب کیا توجہ جائے گی جب یہ ذاتی لڑائی جھگڑوں سے ہی باہر نہیں آ رہے۔ ایکسپو کتاب میلہ اس حوالے سے بھی کامیاب میلہ ہوتا ہے کہ پاکستان بھر سے لکھنے والے اور کتاب سے محبت کرنے والے اس میلے کا حصہ بنتے ہیں اور کتابوں کی خریداری کے ساتھ ساتھ بہت ساری یادیں سمیٹتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *