ہم عمان سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمان جنوب مشرقی جزیرہ عرب پر واقع ایک ملک ہے۔ عمان کی ترقی کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ اوائلی دور میں عمان دو حصوں مسقط اور عمان میں تقسیم تھا۔ داخلیہ میں امام عمان کی حکومت تھی جبکہ ساحلی علاقوں میں سعید خاندان کی حکومت تھی۔

1965 میں جب تیل کی تلاش کے وقت انگریزوں کا امام سے معاملات کرنا دشوار محسوس ہوا تو بعد میں سلطان سعید بن تیمور اور امام غالب کے درمیان جنگ شروع کرادی گئی۔ اس جنگ میں برطانوی فوج نے سلطان کا ساتھ دیا اور اس طرح جنگ کے بعد سلطان سعید پورے ملک کے حکمران بن گئے۔

اس وقت عمان کی معاشی حالت بہت خستہ تھی۔ اگر مسافر پانی کے جہازوں سے سکّے اچھالتے تو نوجوان پانی کی لہروں کو چیرتے ہوئے اس میں غوطہ لگاتے۔ جو نوجوان سکہ نکالنے میں کامیاب ہوجاتا تو اسے اضافی انعامی پیسے دیے جاتے۔ صرف عوام ہی نہیں بلکہ اس وقت کے سلطان کے معاشی حالات بھی کچھ زیادہ بہتر نہ تھے۔ وہ انگریزوں کی دو منزلہ عمارت کے قریب ایک چھوٹے سے پتھروں والے مکان میں رہتے تھے۔ سلطان سعید بن تیمور معاملات میں بہت سخت تھے۔ حکمران خاندان کے افراد بھی بہت معمولی ملازمت کرنے پر مجبور تھے۔ سلطان سعید کو صرف ایک بیٹا تھا جس کا نام سلطان قابوس بن سعید تھا۔

عمان سے تیل نکلنے کے بعد برطانوی حکومت کے سلطان سعید بن تیمور سے اختلافات پیدا ہوگئے۔ ان اختلافات کے نتیجے میں 24 جولائی 1970 کو سلطان سعید کا تختہ الٹ دیا گیا اور سلطان قابوس نے اقتدار سنبھال لیا۔ 1970 میں عمان ایک پسماندہ ملک تھا۔ پورے ملک میں صرف تین سکول اور ایک ڈسپنسری تھی۔ چند کلومیٹر پختہ سڑک اور چند دکانوں کے علاوہ سب کچھ ویران نظر آتا تھا۔ سلطان قابوس نے اقتدار سنبھالا تو ملک میں چاروں طرف خانہ جنگی، بدامنی، انتشار اور تشدد کی فضا عام تھی۔

سلطان قابوس نے تمام انتشار پھیلانے والوں کو مذاکرات کی دعوت دی اور ان سے ان کے مطالبات معلوم کیے۔ سلطان قابوس نے خندہ پیشانی اور صلح رحمی کے ساتھ سب کی مشکلات سنیں اور ان کو حل کیا۔ وہ لوگ جو کچھ عرصہ پہلے انتشار پھیلا رہے تھے ان کو سلطان قابوس نے ملک کے تمام بڑے عہدے دیے۔ سلطان قابوس نے ہٹ دھرمی اور اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر قابلیت کی بنیاد پر اپنے حریفوں کو ملک کی اہم وزارتیں سونپیں۔ ان میں سے چند وزرا کا شمار مشرقی وسطیٰ کے بہترین وزرا میں ہونے لگا۔

مسقط جہاں 1970 میں ایک سکول تھا، آج وہاں نصف درجن سے زائد یونیورسٹیاں، بیسیوں کالج اور سیکڑوں سکول ہیں۔ سلطان قابوس بن سعید دنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کی سرپرستی کرتے تھے۔ دنیا کی بیشتر اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سلطان قابوس پروفیسر چیئر قائم کی گئیں۔ 1970 میں جہاں اہلِ عمان کی اوسط عمر پچاس برس تھی وہ 2019 میں بڑھ کر اُناسی برس ہوگئی۔ 1970 میں عمان میں کوئی اسپتال نہیں تھا اور مسقط میں اس وقت صرف ایک ڈسپنسری ہوتی تھی۔

آج عمان میں اسّی سے زائد بہترین اسپتال ہیں جہاں عمانیوں کا ہر قسم کا علاج ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عمان جہاں انڈسٹری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہاں آج سات صنعتی زون ہیں۔ عمان کا ایلمونیم سمیلٹر پلانٹ کا شمار دنیا کے سب سے بڑے پلانٹس میں ہوتا ہے۔ عمان دقم کے ساحل پر دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ تعمیر کر رہا ہے۔ 1970 میں جب سلطان قابوس نے اقتدار سنبھالا تو فی کس آمدن فقط 354 ڈالر تھی جو بڑھ کر 2018 میں 17227 ڈالر تک پہنچ گئی۔

1980 میں عمان میں تندور پر روٹی کی قیمت 50 عمانی پیسے تھی۔ یہ قیمت برقرار رہی اور اگر کسی نے مہنگی کرنے کی بات کی تو وہاں سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ لاہور قیام کے دوران سلطان قابوس کو معلوم ہوا کہ اُن کے وزرا لاہور شہر کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر یہاں گھر خریدنا چاہتے ہیں۔ سلطان قابوس نے ان وزرا کو بلاکر تاکید کی کہ پہلے عمان میں گھر بناؤ بعد میں کسی اور جگہ کا سوچنا۔

یہاں پہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسقط کا شمار دنیا کے صاف ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اسی لیے خوشونت سنگھ نے کہا تھا کہ ”مرنے سے پہلے مسقط ضرور دیکھنا“۔ اگر یہاں پر رک کر تھوڑا سوچا جائے تو یہ ترقی کا سفر اتنا پرانا نہیں۔ 1970 میں ایک حکمران نے آکر پورے عمان کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی ملک کو اگر ایک ایماندار حکمران مل جائے تو وہ وہاں کی عوام کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ ہمارے یہاں حالیہ آٹے کے بحران کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ عمان میں بھی ایک وقت آیا تھا کہ روٹی کی قیمت بڑھائی جانے کی باتیں ہو رہیں تھی۔

جیسے ہی یہ خبر سلطان قابوس تک پہنچی تو انہوں نہ سختی سے کارروائی کا حکم دیا۔ ہمیں عمان سے یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ کیسے حالات کے اتاڑ چڑاؤ کا مقابلہ کیا جائے۔ کیسے مستقل مزاجی سے ترقی کے ہدف تک پہنچا جائے۔ عمان کی مثال دیکھ کر ہمیں یہ بھی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ چاہے مطلق بادشاہت ہی کیوں نہ ہو ترقی کا ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک آپ اپنے تمام حریفوں کی مشکلات کو نہیں سنتے اور انہیں اپنے ساتھ نہیں کر لیتے۔

ان حالات میں اگر ہمارے حکمران واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو عمان کی ترقی پر ایک نظر دیکھیں۔ ان سے سیکھیں کہ کیسے اپنے ملک کو ایک بیابان سے نکال کر دنیا کی بہترین معیشت بنا دیا۔ اگر آپ بھی اپنے مقصد سے وفادار ہیں تو دنیاوی رکاوٹیں فقط ہوا کا جھونکا ثابت ہوتیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *