ٹی وی اور سی سی ٹی وی حرام ہونے کے فتوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی فقہ کی جانکاری رکھنے والے افراد سد ذریعہ کے نظریے سے خوب واقف ہیں۔ اس نظریے کی تفصیل بہت طولانی ہے اس لئے نہ جاننے والے اسے جاوید احمد غامدی کے ان لفظوں سے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ”اگر کسی چیز میں اگر دوسری چیز تک لے جانے کی کوئی طاقت موجود ہے تو آپ اس کو پہلے مرحلے میں روک دیں، یعنی اس کا راستہ بند کر دیں۔ “

فقہا نے اس اصول پر بہت سی چیزوں کی حرمت کے فتوے دیے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں نشے کی ممانعت آئی ہے۔ اب اگر قرآن کی عبارت پر ہی جما جائے تو کسی بھی نشہ آور شے کا استعمال اس منزل پر جاکر حرام ہوگا جہاں سے نشہ ہونے لگے۔ بس اسی مرحلے پر فقہا نے سد ذریعہ کا اصول برتا اور مقدار سے قطع نظر نشہ آور شے کے استعمال کو سرے سے حرام قرار دیا۔ اب تک کی سطروں سے اگر سد ذریعہ کا تصور واضح ہو گیا ہو تو ذرا اس کا دوسرا پہلو ملاحظہ ہو۔

مفتیان نے سد ذریعہ کے اسی اصول کے تحت بعض ایسے فتاوی صادر کیے ہیں جو اس اصول کا انتہاپسندانہ استعمال معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے لئے بھارت کے ایک معروف دینی ادارے کے کچھ فتوے ملاحظہ ہوں۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ ٹی وی دیکھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس پر فتوی دیا گیا کہ ٹی وی کے بے حبائی اور فحش باتوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا دیکھنا اور گھر میں رکھنا شرعاً حرام ہے۔

اب ذرا سا ٹھہر کر اس فتوے پر غور فرمائیے۔ یہاں استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ ٹی وی بے حیائی اور فحش باتوں پر مشتمل ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ایجادات کی تاریخیں پڑھی ہیں جانتے ہوں گے کہ نہ تو ٹی وی کی ایجاد فحاشی اور بے حیائی کی غرض سے کی گئی تھی اور نہ ہی اس کا اولین استعمال اس کام میں ہوا۔ یہ بات درست ہے کہ آج کل ایسے ٹی وی پروگرامز کی افراط ہے جن کا مواد مذہبی حدود و قیود سے باہر کا ہے۔ البتہ اس کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سیکڑوں نیوز چینل، سائنسی چینل، کھیل کود کے چینل، کھانے پینے کے چینل، صحت کے چینل حتی کہ مذہبی چینل بھی اسی ٹی وی کے ذریعہ وہ مواد دن رات نشر کر رہے ہیں جس میں نہ فحاشی ہے اور نہ وہ بے حیائی جس کا مذہبی عناصر کو ڈر رہتا ہے ایسے میں کس بنیاد پر یہ حکم لگایا جا سکتا ہے کہ ٹی وی بے حیائی اور فحاشی پر مبنی ہے؟ مرے پر سو درے کا کام یہ کہ ایک مفرضہ کی بنیاد پر ترسیل عامہ کے موثر ترین وسائل میں سے ایک یعنی ٹی وی کی قطعی حرمت کا فتوی بھی صادر فرما دیا گیا۔

چلئے تھوڑی دیر کو مانے لیتے ہیں کہ فتوی دینے والے کو علم نہیں تھا کہ ٹی وی پر فحاشی اور بے حیائی سے پاک مواد بھی نشر ہوتا ہے اس لئے ایسا فتوی آ گیا مگر اس کا کیا کریں کہ جب سوال کرنے والا خود بتا رہا ہو کہ وہ ٹی وی پر کچھ اور نہیں بلکہ اسلام کی دعوت سے متعلق پروگرام دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے جواب میں جو فتوی دیا گیا ذرا اس پہ بھی نظر ڈال لیجیے۔

فرمایا گیا کہ جس طرح شراب تمام خبائث کا مجموعہ ہے، اسی طرح ٹی وی تمام فواحش کا مجموعہ ہے۔ یہ آلہ لہو و لعب ہے۔ اس نے سنیما کی جگہ لے لی ہے۔ اسلام کے مقدس احکامات و ہدایات اور تعلیمات کو فواحش کے مجموعہ کے ذریعہ پیش کرنا یہ اسلام کی اور اس کے احکامات کی توہین ہے اور بے ادبی ہے۔ اغیار ہمارے اسلام اور اسلامیات کو لہو و لعب کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔

لگے ہاتھ ایک فتوی اور سن لیجیے۔ کسی نے معلوم کیا کہ کیا ٹی وی پر دینی پروگرام جیسے قران کی تفاسیر، نعت پاک، فتوی معلوم کرنا، یا دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ ٹی وی بنیادی طور پر آلہٴ لہو ولعب ہے، اس کا غالب استعمال ناچ، گانے، فلمیں، فحش تصویریں اور ناجائز کھیل تماشا دیکھنے کے لیے ہوتا ہے، اور آلہٴ لہو ولعب کو دین سیکھنے کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہے۔

غور فرمایا آپ نے کہ چونکہ ٹی وی پر ایسا مواد بھی میسر ہے جو دینی احکامات کی رو سے ناقابل قبول ہے اس لئے سد ذریعہ کرتے ہوئے ٹی وی پر مباحات حتی کہ دینی تعلیمات تک کی ممانعت کا حکم کس تواتر سے دیا گیا۔ ظاہر ہے مفتیان کرام کے ان فتاوی پر تنقید بہتوں کو ناگوار گزرے گی لیکن اتنا تو طے ہے کہ یہ احکامات وضاحت طلب ہیں۔ اگر اس طرح سد ذریعہ کا اصول برتا جانے لگے تو انٹرنیٹ کا استعمال ابھی اسی گھڑی حرام ہو جائے گا اس لئے کہ اس پر ٹی وی کے مقابلے کہیں زیادہ فحاشی بلکہ عریانی موجود ہے۔ اسی طرح بینک میں کھاتا کھلوانا بھی سد ذریعہ کے تحت حرام کرنا پڑے گا کیونکہ موجودہ بینکنگ نظام میں سود کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ اور پھر اگر اتنا دل کھول کر سد ذریعہ کیا گیا تو اسمارٹ فون بھی حرام کرنے پڑیں گے کہ وہ چھوٹے موٹے ٹی وی ہی تو ہیں۔

ہر چند کہ بہت سے مذہب پسند بھائیوں کو اعتدال لفظ کسی گالی کی طرح لگتا ہے لیکن مفتیان کرام کو اس لفظ کو ذرا بہت سی وقعت دینی چاہیے۔ چلتے چلتے ایک مثال اور سنتے جائیے۔ برصغیر میں علماء کی ایک بڑی تعداد تصویر کو حرام مانتی ہے۔ اس پس منظر میں دیا گیا ایک فتوی دیکھیں۔ کسی نے سوال کیا کہ کیا مسجد اور مدرسہ میں نگرانی کے لئے سی سی ٹی وی کیمرہ لگایا جا سکتا ہے؟ اس پر فتوی دیا گیا کہ اسلام میں تصویر کشی حرام وناجائز اور لعنت کا کام ہے، سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنے میں تصویر کشی پائی جاتی ہے ؛ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا مطلب ہے : روزانہ کیمرے کے ذریعے ہزاروں انسانوں کی تصاویر کشی کرنا۔ اور کسی حرام کے مباح ہونے کے لیے شریعت نے جس ضرورت ومجبوری کا اعتبار کیا ہے، وہ سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرنے میں نہیں پائی جاتی ؛ اس لیے مسجد ہو یا مدرسہ، نیز مسجد یا مدرسہ چھوٹا ہو یا بڑا، مسجد اور مدرسہ وغیرہ میں نگرانی وغیرہ کے مقصد سے سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا جائز نہیں ہے۔

اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ کیا سی سی ٹی وی کیمرے سے نگرانی اور کسی کی تصویر بنانا دونوں کاموں کی نوعیت ایک جیسی ہے؟ اگر ہاں تو بہت خوب اور اگر نہیں ہے تو دینی احکامات بیان کرنے کے دوران برتے گئے اس رویے کو کیا نام دیا جائے؟

میری گزارشات علماء کی شان میں جسارت محسوس ہو سکتی ہیں لیکن مجھ نا سمجھ کو یہ بات کھائے جا رہی ہے کہ اس نہج پر دینی احکامات بیان کیے گئے تو اس کے دو نتائج ہوں گے یا تو ہم لوگ دین کی خاطر اس دنیا سے اس طرح کٹ جائیں گے کہ اس کے کاروبار میں ہمارا کوئی کردار سرے سے بچے گا ہی نہیں یا پھر یہ ہوگا کہ لوگ دین پر چلنے کو مشکل مان کر دوسری راہ لگ لیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 99 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *