ہرجائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہرجائی اب چلے بھی جاؤ۔ میرے دل میں موجود خوش گمانیوں کا ہر کونا تمہاری چاہ سے رخصت طلب ہے۔

شبِ زندگی ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی۔ زندگی میں موجود اندھیرے اب بھی بدستور برقرار ہیں، مگر دور کہیں سے ٹمٹماتے قمقمے میری روح سے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے بے قرار نظر آرہے ہیں۔

گلشن میں موجود کلیاں جو ہر بار تمہارے ساتھ ہونے کے باوجود مجھے اداس کر جاتی تھیں آج میری مسکراہٹوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہی ہیں۔

دل میں موجود حسرتیں ہیں جو تمہارے ہوتے ہوئے بھی کروٹ بدل کر آنسو بہاتی رہتی تھیں آج کہیں تاریکی میں جا چھپی ہیں۔

کیا تم واقعی اس مکان کو چھوڑ کے جا رہے ہو جس کی ہر دیوار تمہارے نام اور طلب کی خواہش سے ہر رات میرے خیالوں میں خوش فہمیوں کے پھولوں سے معطر ہوتی تھی۔

ہاں! اب تم ضرور جاؤ۔ میں جانتی ہوں میری التجائیں نظریں اب تمہارے پیروں کی زنجیر نہ بن سکیں گی۔

انسان فطرتاً بہتر سے بہترین کی تلاش میں اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ جیسے تم نے کنارہ کشی اختیار کرلی میں نے بھی تو اپنے راستے بدل دیے۔

زندگی میں ٹھہراؤ جیسے تمہیں پسند نہ آیا میری روح بھی تو اس سے اکتا گئی۔

ہاں! فرق صرف اتنا ہے تم نے کبھی مجھے روکنے کی کوشش نہ کی تھی مگر میری اشک بار آنکھیں ہر بار تمہارے فیصلوں میں روڑے اٹکاتی رہیں۔

مجھے لگتا ہے اب یہ آنسو بھی تمہاری نظر میں اپنی وقعت کھو چکے ہیں۔

ہر رات تنہائی میں میری آنکھیں تمہارے دکھائے گُے خوابوں کے گلستان میں سے سچ اور جھوٹ کے کانٹے نکالتے نکالتے پھر سے لہولہان ہو جاتی ہیں۔ ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔

تمہاری آنکھیں جن میں ایک آگ ہوتی تھی، یوں لگتا تھا یہ نگاہیں میری نگاہوں کی تپش سے یوں ہی جلتی رہیں گی۔

تمہاری آنکھوں میں وہ آگ میرے عشق نے روشن کی تھی مجھے یقین تھا کہ میری محبت تمہاری آنکھوں کے اندر موجود شعلوں کو کبھی سرد نہ ہونے دے گی۔

میں ہمیشہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے قاصر رہی ہوں کہ کون سی غیبی آوازیں تمہیں ہمیشہ مجھے تپتے صحرا پر چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیتی تھیں ستاروں اور چاند کی چاندنی موجود جادو تمہیں سحر میں جکڑنے کے بجائے خوف میں مبتلا کیوں کر دیتا تھا؟

وہ کون سے الہام تھے جو تمہارے سینے میں اتر کر تمہیں محبت کے ہر وعدے سے مبرہ کرکے ہر بار محبت کی آگ کو بھڑکانے کے بجائے میری روح کو سلگانے کے کام میں لگ جاتے تھے جس سے میری روح تک جھلس جاتی تھی۔

ہائے! ! اس دل کی بے زاریاں، جو کہ ہمیشہ یک طرفہ ہوتی ہیں مگر بدقسمتی سے میں بھی اب انہیں سمجھنے لگی ہوں۔

ہر شام جذبات سے عاری تھکا ہوا سورج تمہاری کھڑکی پرجب پھیکی روشنی بکھیرے گا تو تمہیں احساس ہونے لگے گا کہ تم نے کسی دل کے ساتھ کھیلنے کے بعد اس کو بیزار کر کے اندھیروں کی تلاش میں بھٹکا دیا تھا۔

وہ دل تمہارے جیسا مضبوط تھوڑی ہے وہ تو پہلے ہی لہولہان تھا۔ ستم یہ کہ تم نے اس پر مرہم رکھنے کی بجائے اس پر اتنے گھاؤ لگائے کہ وہ اپنے بد صورتی پر خود ہی شرمندہ ہوتا رہتا ہے۔

دل تو اب بھی خوفزدہ پھرتا ہے کہ کہیں کوئی نیا زخم اس کا میرے جسم سے رابطہ نہ منقطع کردے۔ وہ نادان کیا جانے کے سانسوں کی لڑی کا جسم سے تعلق ہی زندگی کی علامت نہیں۔ بعض اوقات کسی ہرجائی کی زندگی میں موجودگی بھی روح کو موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔

Latest posts by وجیہہ جاوید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply