نوجوانوں کے فطری تقاضوں کو نظر انداز کرنے سے پھیل رہی بے حیائی اور اس کے سد باب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم قارئین آج ہمارا معاشرہ مغربی تہذیب کا دلدادہ ہوتا جارہا ہے، بلکہ اکثر رسم رواج غیروں کے طریقوں پر کیے جارہے ہیں۔ اس کے سب سے زیادہ شکار ہمارے نوجوان بچے اور خواتین ہورہی ہے۔ اسکولوں میں طرح طرح کی غیر مہذب اور ہماری شریعت کے خلاف پروگرام چلائے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا دور ہونے کی وجہ سے ہر مغربی فیشن ہمارے بچوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہورہا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں گزشتہ چند سالوں سے مختلف یوم منانے کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

جو ہمارے معاشرے میں خصوصاً نوجوانوں میں سرایت کر چکا ہے جس میں فروری کا مہینہ دل پھینک عاشقوں اور غیر محرم رشتوں کو عارضی طور پر نام دے کر اور عشق و محبت کے بڑے بڑے جھوٹے دعوے کر کے اسکول کالج یونیورسٹیوں میں بنت حوا کی عصمتیں تار تار کی جاتی ہے۔ ان کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔ گرل فرینڈ اور بوئے فرینڈ کا مغربی فیشن جو نکاح سے قبل ہی ناجائز تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ جس میں مخلوط تعلیمی نظام نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔

تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ایسی تعلیم جو اپنی شریعت، تہذیب و ثقافت کو ہی آگ لگا دے تو وہ تعلیم کس کام کی جس میں ہمارے نوجوان نسل کا ایمان ہی داؤ پر لگا ہو، کانوینٹ ایجوکیشن سے ہی بچوں کے ذہنوں کو لبرل بنادیا جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول میں فیشن شو اور مختلف یوم منانے کا عادی بنایا جاتا ہے۔ جبکہ اس کچی عمر میں ان بچوں کو دینی تعلیم اور اپنی تہذیب و ثقافت کی تعلیم دینی ضروری ہے۔

اور پھر وہ بچے جب اسکول اور کالج میں داخل ہوتے ہیں تو ان تمام بے حیائی کے دنوں کو منانے کیلے بے چین نظر آتے ہیں۔ والدین کو اس بات کو کان و کان خبر نہیں پہنچتی ہے کہ اسکول و کالجز میں ان کے بچے کیا گل کھلا رہے ہوتے ہیں۔ اس میں سوشل میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے جس میں ایک کلک کرنے پر دنیا بھر کی فحاشیت سکرین پر آجاتی ہے۔ والدین بھی اس کے ذمہ دار ہے کہ جو بچوں کو موبائیل کے استعمال کا عادی بناتے ہیں۔ ٹیک ٹاک یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سایٹس پر گھروں میں سب مل کر مغربی فیشن اور وہاں کے کلچر کو دیکھتے ہوئے ویسا بننے کی اور اس فیشن کو اپنانے کی کوشش اور خواہش کرتی ہے۔ والدین بھی بچوں کی غیر شرعی خواہشات کو پورا کرنے میں ذرا بھی شرم و غیرت محسوس نہیں کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہے۔

جیسے کے آپ جانتے ہیں کہ فروری کے مہینے میں نوجوان لڑکے لڑکیوں میں کس طرح پھولوں اور تحفہ و طائف کے تبادلے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے عشق و محبت کے اظہار کیے جاتے ہیں۔ اور وہ سلسلہ روز ڈے سے ہوتے ہوئے لڑکیوں کی عصمتیں تار تار کرنے تک پہنچتا ہے۔ یہ حرام طریقے پر اپنے جسمانی فطری تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ اور کچھ دن ساتھ رہ کر پھر کسی معصوم بنت حوا کی تلاش میں گم ہوجاتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کے نام پر عاشق ساتھ مرنے جینے کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

مغربی ممالک میں اس دن کو یوم عشاق کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اور اس رات لاکھوں کروڑوں بنت حوا کی عصمتیں تار تار کی جاتی ہے۔ کہیں تو یہ حالات بنے ہوئے ہیں کہ یہ مقدس نفوس خود ہی اپنے عزتیں پامال کرنے کیلے ہوٹلوں کے باہر کھڑی ہوتی ہے۔ اب یہ بات الگ ہے کہ وہ بھوک کی وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہے یا پھر عیاشی بدن بیچ رہی ہے۔

ہمارے ملک میں بھی ویلنٹائن ڈے کو نوجوان لڑکے لڑکیاں کچھ سالوں سے منانے لگ گئیں ہیں جس میں مسلم بھی شامل ہیں۔ ذرا بھی احساس ان افراد کو نہیں ہوتا ہے کہ ان کے گھر میں بھی ان کی مائیں بہنیں ہے پھر وہ کیسے کسی کی بیٹی کی عزت و آبرو کے ساتھ کھیل سکتا ہے۔ کیونکہ آج ہمارا معاشرہ بے حیائی کی زد میں ہے۔ خواتین نے فیشن کے نام پر برائے نام پردہ کرنا شروع کردیا ہے جبکہ وہ برقعہ بھی پردے کی توہین ہے۔ اتنے تنگ لباس اور برقعے زیب تن کیے جارہے ہیں جس میں جسم کے نشیب و فراز عیاں ہوجاتے ہیں۔ نہیں دیکھنے والا بھی ان کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ قرآن میں سورۃ نور میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس ( بہتان باز ) کر رہے ہیں وہ ان سے بالکل بری ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔

جس میں کہ بات کہی گئی ہے کہ پاک مردوں کیلے پاک عورتیں ہے، اور پاک عورتیں پاک مردوں کیلے ہے۔

اسی طرح سورۃ نور آیت 30 میں ارشاد ہے

مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے۔

مردوں کو اپنی نیچی رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اگلی آیت میں خواتین سے ارشاد ہے

مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

حدیث نبوی ﷺ ہے کہ حیا ایمان کی اہم شاخ ہے، جس میں حیا نہیں تو پھر وہ جو چاہے کرے۔ آج ہمارے معاشرے میں دیکھے کس طرح سے بے پردگی اور آنکھوں کا زنا عام ہوچکا ہے۔ بدنگاہی ہمارے نوجوانوں سے لے کر ادھیڑ عمر کے افراد میں بھی داخل ہوچکی ہے۔

ہم دیکھ رہے ہے کہ معاشرے میں امر بالمعروف تو ہر کوئی کرنے میں مگن ہے مختلف جماعتیں اور تنظیمیں اپنے اپنے طور پر اس کے لیے کام کر رہی ہے یعنی اچھائی کا حکم کر رہی ہے۔ لیکن نہی عن المنکر برائی سے روکنے کا کام بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب تم کوئی غلط کام ہوتا دیکھو طاقت ہو تو ہاتھ سے روکے، یا زبان سے روکو یا پھر دل میں اس کام کو برا جانو یہ ایمام کا کمزور درجہ ہے۔ اور ہم روکنے کام بھی اگر کرتے ہیں تو صرف اپنے ہی مذہب کے افراد کو کرتے ہیں جبکہ تمام کو برے کاموں سے روکنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب گناہ حد سے بڑھتے ہیں تو تمام اس کا شکار ہوتے ہیں۔ صرف ایک طبقہ متاثر نہیں ہوتا ہے۔

معاشرے میں پھیل رہی ان برائیوں کو روکنے کیلے سب سے پہلے بچوں کی صحیح تربیت کرنی ہوگی اور اس تربیت کا آغاز نوجوانوں کے رشتے تلاش کرنے کے معیار پر بھی منحصر ہے اگر لڑکی شریعت کی پابندی ہو دین دار گھرانے کی ہو تو اپنے بچوں کا رشتہ ایسی جگہ پر طے کریں۔ تاکہ آنے والی نسلیں دین دار ہو شریعت کی پابندی ہو۔ اسی طرح والدین کی تربیت کا معیار مغربی تہذیب نا ہو بلکہ پہلے اسے دین اسلام کی حلال و حرام سے متعارف کروایا جائے۔

دین اسلام کے بنیادی عقائد اور معلومات بچوں کو فراہم کی جائے شریعت کو ہر مقام پر اول ترجیح دینے کا عادی بنایا جائے۔ اور ان کے پرورش حلال رزق سے کی جائے۔ ان پر پوری توجہ رکھی جائے۔ ان کی بہترین تعلیم و تربیت اور ہنر مندی سکھائی جائے۔ بچوں میں اخلاقی اقدار کو پروان چڑھایا جائے۔ انٹرنٹ و سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچایا جائے۔ لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم کیلے علاحدہ ادرے قائم کیے جائے۔ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اور اپنے تشخص پر باقی رہتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو عصری علوم سے بہرہ ور کیا جائے۔

بلوغت کو پہنچنے پر فوری طور پر ان کے جوڑ کے رشتے تلاش کیے جائیں اور سنت طریقہ پر نکاح کروایا جائے، ورنہ والدین کی عدم توجہی کی بنا پر فطری تقاضوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے نوجوان بے حیائی کی طرف گامزن ہوتے رہیں گے۔ اور حرام راستوں کو اختیار کریں گے کیونکہ اگر حلال طریقے پر انتظام نہیں کیا گیا تو حرام کے راستے کھول چکے ہیں فطرت کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *