عمران خان نے پاکستان کو دیوالیہ کر دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب 18 اگست 2018ء کو عمران خان نے حکومت سنبھالی تو انھوں نے اہل پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے یہ خوفناک خبر سنائی کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ اس تباہی کا ذمے دار انھوں نے سابقہ حکمرانوں کو قرار دیا۔ وہ کہتے رہے تھے کہ اقتدار سنبھال کر وطن عزیز کی معیشت سدھار دیں گے۔ عجیب ترین بات یہ کہ وزیراعظم بن کر اپنے وسائل سے سرکاری آمدن بڑھانے کے بجائے وہ بھی ملکوں سے لے کر عالمی وقومی مالیاتی اداروں تک سے قرضے لینے لگے۔ گویا ”تبدیلی“ اور ”انقلاب“ کے سہانے خواب ابتدا ہی میں چکنا چور ہوئے۔

پی ٹی آئی حکومت آئی تو پاکستان پہ 30 ہزار ارب روپے کے مجموعی قرضے تھے۔ اعداد وشمار کی رو سے دسمبر 2019 ء تک یہ مجموعی قرضے 41 ہزار پانچ سو ارب روپے تک پہنچ چکے تھے اور ان میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اس تلخ سچائی سے آشکارا ہے کہ عمران حکومت بھی قرضے لے لے کر اپنے اخراجات کر رہی ہے۔ درحقیقیت اس نے قرضے لیتے ہوئے پچھلی حکومتوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے اور محض ڈیرہ برس میں تقریباً 12 ہزار ارب روپے کے مذید قرضوں کا عظیم بوجھ اہل پاکستان پر ڈال دیا۔ اگلے ساڑھے تین برس میں یہ عدد نہ جانے کہاں تک پہنچے گا، یہ سوچ کر ہی دل لرز اٹھتا ہے۔

طرفہ تماشا یہ کہ قرضے دینے والے اداروں مثلاً آئی ایم ایف، ورلڈ بینک وغیرہ کے مطالبے پر حکومت نے ٹیکسوں، ڈیوٹیوں وغیرہ کی شرح ازحد بڑھا دی۔ مقصد یہ تھا کہ سرکاری آمدن میں اضافہ ہو سکے۔ اس چلن سے مگر سبھی اشیا مہنگی ہو گئیں اور مہنگائی آسمان پر جا پہنچی۔ عوام ییچارے بلبلا اٹھے۔ جبکہ سرکاری آمدن میں بھی حسب ِتوقع اضافہ نہیں ہو سکا۔ قائد لیکن عوام سے یہی کہتے رہے کہ گھبرانا نہیں، اچھا وقت بھی آئے گا۔ اگرچہ حالات دیکھتے ہوئے اس اچھے وقت کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔

حالت یہ ہے کہ اب حکومت کی اتنی بھی آمدن نہیں کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کر سکے۔ لہذا وہ مالیاتی اداروں سے قرض لے کر خرچے پورے کرتی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نئے قرضوں کی رقم کا بیشتر حصہ پرانے قرض اور سود اتارنے نیز عسکری اخراجات پر لگ جاتا ہے۔ عوام دوست منصوبوں پر خرچ کی خاطر آٹے میں نمک برابر رقم بھی نہیں بچتی۔ افسوس کہ عمران خان حکومت اپنی صفوں میں جاری کرپشن بھی ختم نہیں کر سکی۔ وجہ یہی کہ حکومتی ڈھانچا تو پرانا ہی چلا آ رہا ہے۔ یہ سرکاری نظام قرضوں کی رقم کو باپ کا مال سمجھ کر ڈکارنے کا عادی ہو چکا۔ اسی لیے سرکاری رقوم کا کچھ حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔

ناتجربے کاری کی حد پار کرتے ہوئے حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے نیب کی طاقت محدود کر دی۔ نیب اب ان سرکاری افسروں، سیاست دانوں، صنعت کاروں، فوجی افسروں، تاجروں وغیرہ کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا جن پر 50 کروڑ روپے سے کم رقم لینے کا الزام ہو۔ جس ملک میں بیشتر آبادی کی ماہانہ آمدن 30 ہزار سے کم ہو، وہاں 50 کروڑ روپے بہت بڑی رقم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر حکومت وقت کو اس بات کا احساس تک نہیں جو بچکانہ ہونے اور حقائق سے ناآشنائی کا کھلا ثبوت ہے۔

آرڈینینس لانے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ نیب کے خوف سے سرکاری افسر کام نہیں کر پا رہے تھے۔ اور صنعت کاروں نے سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جو پاکستانی ایمان داری اور سچائی سے اپنا کام کر رہا ہے، اسے نیب سے خوفزدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے تو خوشی ہونی چاہیے کہ نیب کرپٹ افراد کے درپے ہے۔ لیکن اب سیاست دانوں، بیوروکریسی اور دیگر اعلی طبقوں کو چھوٹ مل گئی کہ پچاس کروڑ سے کم کی کرپشن کرو اور قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جا؟ اللہ اللہ خیر صلا!

پچھلے تہتر برس سے سیاست دانوں، بیوروکریسی اور جرنیلوں کا ٹرائیکا پاکستان پر حکومت کر رہا ہے۔ حقائق سے عیاں ہے کہ یہ تثلیث قدرتی وسائل سے مالامال ہمارے ملک کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے میں بری طرح ناکام ہو چکی۔ ان تہتر برسوں میں البتہ چند لاکھ پاکستانیوں پر مشتمل اشرافیہ ضرور ارب پتی اور کھرب پتی بن گئی۔ بقیہ کروڑوں اہل وطن کی زندگیاں مگر دن بدن اجیرن اور مشکلات ومسائل سے پر ہو رہی ہیں۔ شاید عمران خان اس اکثریت کا آخری سہارا تھے۔ ان کی نیت چاہے نیک سہی مگر انھوں نے بھی اپنے اعمال سے مایوس ہی کیا۔ حالات تو بتاتے ہیں کہ صورت حال نہ بدلی تو پی ٹی آئی حکومت اپنی عوام دشمن پالیسیوں سے پاکستان کو دیوالیہ کر کے ہی دم لے گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply