بنگالیوں کی ترقی اور پاکستان کا معاشی منظر نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بنگلہ دیش! جسے ہم آج تک بنگلہ دیش کہنے کی بجائے مشرقی پاکستان کہنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتے ہیں دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی پہلی معیشت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے دار بھارت سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن۔ بنگلہ دیش نے دوہزار دس سے اب تک اپنے اسی لاکھ شہریوں کو غربت کے جہنم سے نکال کر معاشی طور پر روزی روٹی کے حصول کے لئے خود کفیل بنا دیا ہے۔ ان اسی لاکھ شہریوں کی ماہانہ یا سالانہ آمدنی میں گزشتہ دس برس کے دوران تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

ا س غیر معمولی کامیابی کے پیچھے چار فیصلہ کن عوامل کارفرما ہیں۔ (1) بنگلہ دیش اس وقت دنیا میں ملبوسات کی دوسری بڑی صنعتی ایمپائر نہ صرف کھڑی کر چکا ہے بلکہ کامیابی سے چلا بھی رہا ہے۔ اس میدان میں اس کا مقابلہ اب دنیا کی معاشی سپر طاقت چین سے ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کا کپاس کا پیدواری ہد ف صرف دس لاکھ گانٹھ تک ہے اور وہ بھی دوہزار پچیس میں۔ مملکت خداد اد پاکستان میں تئیس فیصد کمی کے ساتھ رواں سال اسی لاکھ گانٹھ سے زیادہ کپاس پیدا ہو گی۔

(2) آپ کے لئے مزید پریشان کن یا خوش کن خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی گارمنٹس برآمدات میں سولہ فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔ بنگلہ دیش کی نصف آبادی پچیس برس یا اس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش نے مسلم ملک ہونے کے باوجود اپنی خواتین کو مذہب یا کلچر کے نام پرگھروں میں قید کرنے کی بجائے گارمنٹس کی صنعت میں کام پر لگا کر انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

(3) بنگالیوں کی نوجوان نسل نئی ٹیکنالوجی کو خوشی سے قبول کرتی اور اسے اپنے معاشی مسائل کے حل کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے پر تیار رہتی ہے۔ اگلا جملہ پڑھنے سے پہلے دل تھام لیجیے! بنگلہ دیش اس وقت آئی ٹی کے شعبہ میں چھ لاکھ فری لانسر آئی ٹی پروفیشنلز کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جی ہاں پہلے نمبر پر اور وہ بھی جنوبی ایشیا یا ایشیامیں نہیں دنیا میں پہلے نمبر پر۔ یہ ٹیکنالوجی بنگلہ دیش کو عالمی معیشت میں اپنی جگہ بنانے میں بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔

ہر گزرتے منٹ کے ساتھ بنگلہ دیش میں بنک اکاؤنٹ کھلوانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور سنئے! بنگلہ دیش زرعی اور پیداواری شعبے کی مختلف جہات میں تیزی سے اپنی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے۔ وہ بنگالی جن کو بعض عاقبت نااندیش فوجی بھرتی کے لئے نا اہل قراردیتے تھے ڈھاکہ میں خود اپنا ٹیکنالوجی مرکز تعمیر کر رہے ہیں۔

(4) دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کا رخ ڈھاکہ کی طرف ہو چکا ہے کیونکہ وہاں ایک سو خصوصی اکنامک زون بنائے جارہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لئے بھاری ٹیکسوں میں غیر معمولی سہولت دینے کے منصوبے قابل عمل ہیں۔ مزید پڑھنے سے پہلے دل تھام لیجیے! بنگلہ دیش کا موجودہ جی ڈی پی یعنی معاشی بڑھوتری کا ہدف آٹھ فیصد ہے۔ اس جی ڈی پی کے ساتھ وہ دوہزار چالیس میں یعنی صرف بیس برس بعد دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ہونے کا ہدف سامنے رکھ کر خوشحالی کی طرف رواں دواں ہیں۔ اور یہ سب کامیابیاں بنگلہ دیش نے اس حالت میں حاصل کی ہیں کہ انہیں خطرناک ترین موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ، شدید ترین سیلابوں اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

معاف کیجئے گا! یہ اعداد و شمار میرے خود کے گھڑے ہوئے نہیں بلکہ ورلڈ اکنامک فورم کے ماہرین کے ترتیب دیے گئی ایک رپورٹ سے ہیں۔ معاشیات کے کسی بھی طالب علم کے لئے خطے کے ایک ملک کی یہ خوشحالی ایک بہت اچھی اور خوش کن خبر ہے لیکن ہم بدقسمت پاکستانیوں کے لئے سب سے بری خبر یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان تیزی سے معاشی بدحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دنیا کی ساتویں اور واحد اسلامی ایٹمی ریاست پاکستان کی معیشت اس وقت ہاٹ منی (جسے آسان الفاظ میں وینٹی لیٹر کہا جاسکتا ہے ) پر چل رہی ہے۔ ہماری ترقی کا راز تین چار صحافیوں کے منہ بند کرنے اور ٹی وی اخبارات کی طرف عدم توجہ میں پوشیدہ ہے لیکن ہم جاہل یہ آسان فارمولہ بھی اپنانے پر تیار نہیں ہیں۔

ہماری آبادی کا بڑا حصہ بھی بنگلہ دیش کی طرح نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن گزشتہ صرف دو برس میں لاکھوں نوجوان اپنے پیاروں کو چھوڑ کر روٹی روزی کی تلاش میں گھر وں سے دور سات سمندر پار جا چکے ہیں۔ دنیا کی بہترین پیداوری صلاحیت کی زمین اور جفاکش کسانوں کے ہوتے ہوئے بھی ہماری کپاس اور دوسری زرعی اجناس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار، رواں برس کی فصلوں کو ٹڈی دل کا عذاب چاٹ چکا ہے۔ ہماری غریب خواتین گھروں میں کپڑے سلائی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں لیکن ان کے ہنر کو بڑے بڑے صنعتی یونٹس میں ستعمال کرنے لئے ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔

دھاگے اور کپڑے کے صنعتکار اپنی ملوں کی کنجیاں حکمرانوں کو پیش کرنے کے طعنے دے رہے ہیں۔ وجوہات پوشیدہ نہیں، ہمارے پیداواری شعبے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب پیداوری لاگت میں غیر معمولی اضافے کے سبب ملکی اور عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی برآمدات کا حجم شرمناک حد تک گر چکا ہے۔ ہمارے پاس دنیا کے بہترین دماغی صلاحیت کے نوجوان موجود ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں کو چینلائز کرنے کا کوئی منصوبہ سرے سے سوچنے کی صلاحیت ہی ناپید ہے۔

ذاتی جدوجہد کی بنا پر نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنا مستقبل ملک سے باہر تلاش کر رہی ہے اور جو اس قابل نہیں ہیں وہ فیس بک اور ٹوئٹر پر مخالف سیاسی قیادت کو گالیاں نکالنے میں مصروف ہیں۔ ہمارے طاقت ور منصف عمودی اور افقی ترقی کی مبادیات سمجھے بغیر بلندو بالا عمارات کو گرانے کے احکامات دینے میں طاق ہیں۔ پاکستانی اکانومی جو 2018 میں مائل بہ عروج تھی اس وقت اس شرمناک سطح پر ہے کہ قلم لکھنے میں متامل ہے۔

سوچتا ہوں آئندہ بیس برس میں وطن عزیز میں صورتحال معلوم نہیں کیا ہو۔ یورپ، امریکہ، کینیڈا یا آسڑیلیا کی شہریت تو مجھ ایسے غریبوں کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کوئی دوست اگر بنگلہ دیش کی شہریت کے حصول میں تعاون کرے تو اس کا شکر گزار ہوں گا۔ میں نہیں تو نہ سہی، میرے بچے تو ایک ترقی یافتہ ملک میں سانس لے سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *