آپ کرا لو کشمیر کو آزاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوم یکجہتی کشمیر گزر گیا پاکستان کی حکومت اپنے ”دھندوں“ میں مصروف ہو گئی۔ پھر اتحادیوں کو منانے اور اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی انتقامی سیاست کے میدان سچ گئے۔ پھر بیانات کا سلسلہ شروع۔ فردوس عاشق فرماتی ہیں کہ اپوزیشن قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس کر دے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک طرف تو حکومت نے اتحادی جماعت ق لیگ کے مطالبات تسلیم کر لئے ہیں اوردوسری طرف ن لیگ کو عمران خان ریلیف نہ دینے کو کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اسی لئے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ ہجویری ہاؤس کو پہلے نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکام کو نیلامی سے روک دیا۔ اس کے بعد پنجاب حکو مت نے سیاسی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے اسحاق ڈار کے گھر کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا۔ نیب نے پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کو طلب کر لیا۔

حکومت بھول گئی کہ بھارت نے کشمیرمیں اس وقت 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو کرفیو اور لاک ڈاون کے ذریعے عملاً ایک جیل میں قید کررکھا ہے۔ ہم اور ہماری حکومت ایک ہی دن میں یہ بھی بھول گئے کہ بھارتی درندے 1989 ء سے اب تک 23 ہزار خواتین کو بیوہ کر چکے، لگ بھگ 12 ہزار عفت مآب بیٹیوں کی عصمت دری ہو چکی، ایک لاکھ کشمیری شہید اور 10 لاکھ لاپتہ ہو چکے ہیں، پیلٹ گنوں کے بے رحمانہ استعمال سے ڈیڑھ ہزار کشمیری اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی کھو چکے۔ بھارت نے تو کشمیر کو اٹوٹ انگ سمجھتے ہوئے اس پر قابض ہونے کی صورت میں درندگی کا مظاہرہ کرنا ہی ہے، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ عالمی ضمیر غیرت کی انگڑائی لیتا ہے نہ مسلم اُمّہ کی عزت پر تازیانہ لگتا ہے اور نہ ہی نیٹو ممالک کے گھر کا غلام ادارہ اقوامِ متحدہ کشمیر میں امن کی جھوٹے منہ کوشش کرتا ہے۔

ہم اخلاقی طور پر اس قدر گر چکے ہیں کہ ہمیں اپنے اسلاف کے روشن دور میں مسلمانوں اور انسانیت کی سربلندی کے لئے کی جانے والی کوششیں الف لیلوی داستانیں لگتی ہیں۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم ایک قیامت سے کم نہیں، اور ہم دور بیٹھے تقاریریں اور ریلیاں نکال کردوسرے ہی دن اپنے کاموں ایسے میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ جیسے ہم نے کشمیریوں کی قربانیوں کا حق ادا کر دیا۔ کیا 12 ہزار بیٹیوں کی عصمت دری، ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت اور 10 لاکھ مسلمانوں کے لاپتہ ہونے جیسے عظیم سانحے کو ہر سال 5 فروری کو ہاتھوں کی زنجیر بنا کر بھونڈے انداز میں منا نا کا فی ہے۔ کیا ہم پاکستان کی سڑکوں پر بھارتی تشدد کا شکار کشمیر ی بہن بھائیوں کی تصاویر یں آویزاں کر کے ان کے دکھوں میں اضافہ نہیں کر رہے۔ اور کیا اس طرح متاثرہ کشمیریوں کی تصاویر لگا کر ہم اپنی بے بسی کا اظہار نہیں کر رہے۔

کشمیری برسوں سے آزادی کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔ مگر ان کے ولولے میں کبھی کمی نہیں آئی۔ کشمیری ایسے پھولوں کی مانند ہیں، جنہیں ان کے اپنے ہی آنگن میں روند دیا جاتا ہے۔ مقبول احمد، افضل گرواور برہان وانی جیسے ہزاروں پھول اسی جنت نظیر چمن میں کھلے اور انہیں مسخ کر دیا گیا۔ مگر وہ پھرنئی نسل کی صورت میں اگلی صبح نئی امید اور تازہ خوشبو کے ساتھ پنپتے ہیں۔ برسوں سے قابض بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی ایسی داستانیں قائم کیں ہیں، جنہیں بیاں کرنا بھی مشکل ہے۔

عالمی برادری کے اکثر حلقے ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں کی منظم نسل کشی سے آگاہ ہیں، مگر چشم پوشی سے کا م لے رہے ہیں۔ دسمبر 2016 میں وکی لیکس میں انکشاف کیا کہ امریکی حکام کے پاس بھارتی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے گئے تشدد کے ثبوت تھے اور 2005 میں ریڈ کراس کے عملے کی طرف سے امریکی حکام کو کشمیر میں 2002 سے 2004 تک سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں خفیہ طور پر زیر حراست افراد کے ساتھ کی گئی منظم زیادتی وتشدد کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ ہندوستانی سیکیورٹی فورسز قیدیوں پر بد ترین جسمانی تشدد میں ملوث ہیں جس میں مار پیٹ، برقی کرنٹ لگانا اور جنسی تشدد شامل ہیں۔ یہ قیدی پاکستانی نہیں بلکہ عام کشمیری شہری تھے۔ خود امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی شائع کردہ رپورٹ برائے انسانی حقوق 2010 میں ہندوستانی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں اور مبینہ حریت پسند نوجوانوں کے حراستی قتل کا حوالہ ملتا ہے۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ ہندوستان مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال کر یا جسمانی تشدد کے مختلف حربے استعمال کر کے جبری حراست میں لئے گئے عام شہریوں کو اعتراف جرم کروا کر عدالتی قتل کرتا ہے۔

اس جبر و تشدد کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے مطابق ہندوستانی قانون کسی شخص کو دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کی اختیار دیتا ہے۔ اس کالے قانون کے تحت کوئی فوجی کسی مشکوک فرد پر گولی خلا سکتا ہے، مشتبہ مکان کو نذر آتش کر سکتا ہے۔ بغیر وارنٹ کس مکان میں داخل ہو سکتا ہے اور گرفتار کر سکتا ہے اور اس سب کے لئے وہ قابل گرفت نہیں۔ فوج کے لا محدود اختیارات کے باعث کسی کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ریاستی دہشت گردی کی اس سے بد ترین مثال کہیں نہیں ملتی۔ مزاحمت دبانے کے لئے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ انڈیا میانمار کی اور اسرائیل میں یہودی آبادکاری کی طرز پر ہندو انتقال آبادی کے ذریعہ کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلیاں کررہا ہے۔ پاکستانی حکام اور کشمیری اس اقدام پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

اگر دنیا کے ایک ارب تیس کروڑ مسلمان ایک صفحے پر ہوجائیں تو کشمیر اور فلسطین سمیت مسلمانوں کے تمام عالمی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

کیا کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے؟ کشمیر پر جنگیں بھی ہو چکی ہیں اور کئی دفعہ مذاکرات بھی، لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ آج ایک دفعہ پھر پوری دنیا بھارت اور پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے۔ عالمی تنازعات کو حل کرنے کا بہترین راستہ مذاکرات کو سمجھا جاتا ہے لیکن دوحہ میں سپر پاور امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونیوالے مذاکرات نے دنیا بھر کی محکوم اقوام کو یہ سبق دیا ہے کہ مذاکرات اُسی وقت آگے بڑھتے ہیں جب کمزور کے ہاتھ میں بھی بندوق ہو اور وہ مرنے مارنے پر اتر آئے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 ء میں اپنی کتاب The Myth of Independence میں لکھا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہر سازش میں بھارت کو امریکہ کی تائید حاصل رہی ہے اور آئندہ بھی حاصل رہے گی۔ یہ دونوں ملکر پاکستان کا وجود مٹانا چاہتے ہیں اور کشمیری پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے چار سال بعد پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو کو ہم نے پھانسی پر لٹکا دیا لیکن بھٹو کی وارننگ کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ دشمن کی نظر صرف آزاد کشمیر پر نہیں بلکہ پاکستان پر بھی ہے۔

ان تمام چشم کشا حقائق کے باوجود، ہماری حکومتیں کشمیر کو آزاد کرانے میں کتنی سنجیدہ رہیں ہیں، اس کا جواب حکومت کی کشمیر ایشو پر خارجہ پالیسی دیکھ ر اور حکومت کی غیر سنجیدہ حرکات سے لگایا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو آزاد جموں و کشمیر میں یہ کہا گیا کہ آپ پاکستان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ساتھ بیٹھا کر کشمیر ایشو پر بات کریں تا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی حکومت کی طرف سے مشترکہ پیغام جائے، مگر انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کہا کہ میں ملک اور گھر لوٹنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔

اس کا مطلب ہے عمران خان اتحادیوں کے ساتھ تو بیٹھ سکتے ہیں مگر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کر سکتے ہیں چاہیے اس کے لیے کشمیر کاز کو بھی نقصان کیوں نہ پہنچے۔ حکومتی وزرا ء کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگائیں کہ ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل پہلی قطار میں نشست نہ ملنے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی وزیر ہوں میرے لئے آگے نشست کیوں نہیں رکھی گئی، ایوان صدر کے پروٹوکول عملہ نے وضاحت کی کہ آپ تاخیر سے آئی ہیں، تقریب شروع ہوئے کافی وقت ہوچکا، اب کسی کو اٹھا کر آپ کے لئے نشست کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا جس پر وہ برہم ہوگئیں اور تقریب کا بائیکاٹ کر کے ایوان صدر سے رخصت ہوگئیں۔ لو آپ کرا لو کشمیر کو آزاد!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply