قرآن کی محبّت جگانے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن سے بچوں کے مدرسوں میں ہونے والے واقعات کے متعلق جو افسوسناک خبریں آ رہی ہیں ان کے بارے میں تو سوچنا ہی بے انتہا تکلیف دہ ہے لیکن کچھ عرصہ قبل ایک دوست کے ہاں جانا ہوا بہت تاسف سے بتانے لگیں کہ ان کے کسی قریبی رشتے دار کے بچے قرآن کی تعلیم کے لئے کسی مدرسے میں جاتے ہیں۔ وہاں بچے کے استاد نے جانے سبق یاد نہ کرنے پہ یا جانے کس بات پہ اتنا مارا کہ بچے کے نیل پڑ گئے۔ میری دوست خاصی ناراض تھیں لیکن والدین کا اس پہ کیا رد عمل تھا اس کا باتوں سے کچھ ایسا اندازہ ہوا کہ انہونے یہاں سے ان کو سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ بچے کو یوں مارنے کا استاد کو کوئی حق نہیں اور ان کو جا کہ اس بارے میں سختی سے بات کرنا چاہیے جبکے میرا خیال تھا کہ بچے اتنی قیمتی متاع ہوتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں شاید ماں باپ کو احساس دلانے کی کسی کو ضرورت ہی نہیں ہوگی لیکن مجھے متوقع رد عمل محسوس نہیں ہوا۔ پتہ نہیں آگے کیا ہوا کچھ بات کی گئی یا نہیں یا بچہ حسب معمول یونہی جاتا رہا کیونکے بہرحال ”قرآن“ کی تعلیم کی بات تھی اور اس طرح کے واقعات بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں۔

مذہب، قرآن، قاری، علماء یہ کچھ اسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں بات کرنے سے ہی سب خائف ہو جاتے ہیں کیونکے مذہب ہر مسلمان کے لئے ایک جذباتی اور نازک معاملہ ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ مسجد اور مدرسے سے منسلک کسی شخص کے بارے میں تنقید یا باز پرس کرنا تو دور کی بات، بات کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں کیونکے بد قسمتی سے کچھ مذہب کے ٹھیکیداروں نے ایک عام آدمی کو مذہب کے نام پہ اس قدر خوفزدہ کر دیا ہے کے وہ آنکھوں دیکھے ظلم کو سمجھتے اور سہتے ہوے بھی بولنے کے قابل نہیں رہتا دوسری طرف قرآن مجید ایک مسلمان کا ضابطہ حیات ہے۔

ہمارے مذہب کی بنیاد، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہے۔ بحثیت مسلمان ہم سب کا فرض ہے کے اسے پڑھیں، سمجھیں، عمل کریں اور اپنے بچوں کو کے دلوں میں اس کی محبّت جگایں لیکن فقط ایک لمحے کو سوچیں جہاں قرآن کے نام پہ یوں بے رحمی برتی جاے گی وہاں محبّت تو دور کی بات خود بخود نفرت کے چشمے پھوٹیں گے۔ بچہ جیسے تیسے وقت گزار کے انتظار کرے گا کہ کب یہ قرآن ختم ہو اور کب ہماری جان چھوٹے۔ وہ قرآن خوانی میں، قل میں، ختم میں رسم کے طور پہ تو قرآن پڑھنے کے قابل ہو جاے گا لیکن بہت مشکل ہے کہ اسے دل سے سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کرے۔ حقیقت پسندی سے سوچیں کہ جن یادوں سے اذیتیں جڑی ہوں انھیں کون دھرانا چاہے گا؟

کچھ اور بھی عجیب سی روایتیں سننے آئیں جیسے بچہ اگر حفظ کر رہا ہے تو اسے اگر زمین پہ دری پہ بٹھا کے پڑھایا جاے گا تو وہ جلدی حفظ کرے گا۔ قرآن کریم حفظ کرنا بہت سعادت کی بات ہے لیکن اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر بچہ مختلف ہوتا ہے۔ اس کا رجحان، اس کی دلچسپی، ذہانت، یاداشت اور شوق بھی مختلف ہوتے ہیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوے بچے کو حفظ کے راستے پہ ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ اگر وہ پوری کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو پا رہا تو اسے مار مار کے اور ذہنی اذیت دے کے حفظ کروانا آپ کی جنّت کے حصول کی گارنٹی نہیں۔

جو بچے شوق اور لگن سے حفظ کر رہے ہیں انھیں عام بچوں سے زیادہ توجہ۔ محبّت، اچھی خوراک اور ذہنی آسودگی کی ضرورت ہے۔ اتنی محنت کے بعد انھیں کھیل کود اور تفریح کے مواقع فراہم کرنا بھی اشد ضروری ہیں اور اگر وہ آرام دہ ماحول میں پڑھیں گے تو زیادہ شوق اور محبّت سے پڑھنیں گے۔ قرآن دلوں میں اتارنے کے شوق کو ان کے لئے سزا نہ بنایں۔

بے شک ہر استاد اور ہر مدرسہ ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن ٹیچنگ کا ایک بہت بنیادی اصول ہے کہ خواہ مضمون کوئی بھی ہو پہلے استاد اور شاگرد کے درمیان مثبت رشتہ استوار کیا جائے جب تک بچہ استاد کے لئے اچھا محسوس نہیں کرے گا شوق اور لگن سے نہیں پڑھے گا خاص کر قرآن اور اسلامیات وہ مضامین ہیں جن کے ٹیچر کے ساتھ بچے کا لگاؤ یا تعلق نہ ہو تو قرآن کی محبّت جگانا نا ممکن ہے۔ والدین کا کردار بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بچے سے وقت کی پابندی کروانا، سبق سننا، مدد کرنا اور خاص کر قرآن مجید کا ادب احترام سکھانا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب بچوں کو قرآن پڑھوانے کا معملا آیا تو ان دنوں آن لائن پڑھنا نیا نیا شروع ہوا تھا۔ کیونکے اس طریقہ کار سے ہم مانوس نہیں تھے اس لیے کچھ مشکل سا لگتا تھا۔ ہم نے بڑے بیٹے کو لے کے مسجد کا رخ کیا۔ کینیڈا میں مسجدوں کا ماحول قدرے مختلف ہے تجربہ اچھا رہا قاری صاحب بھی کافی حوصلہ افزائی کرتے۔

کبھی کبھی مسجد میں بچوں کی پیزا پارٹی بھی ہوتی۔ گرمیوں کی چھٹیاں آییں تو سمر پروگرام شروع ہو گیا مختلف دلچسپ سرگرمیوں کے ساتھ قرآن اور اسلامک اسٹڈیز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ قاری صاحب بھی کبھی کبھی گیم ٹائم میں بچوں کے ساتھ مل کر گیم کھیلتے یا تھوڑی دیر کے لئے قریبی پارک میں لے جاتے۔ پروگرام ختم ہوا تو ایک پکنک بھی ہوئی اور مسجد میں بچوں نے چھوٹی چھوٹی پرسنٹیشن بھی دیں، ایک گروپ نے مل کر ”اصحاب کہف“ پہ چھوٹا سا ڈرامہ بھی بنایا جس میں ہمارے پانچ سالہ بیٹے کا بھی ایک ڈائلاگ تھا کہ جب اصحاب کہف میں سے ایک اٹھ کے شہر جاتا ہے تو پرانے سکے دیکھ کے لوگ اس سے پوچھتے ہیں کہ ”تمہیں یہ سکّے کہاں سے ملے ہم نے کبھی نہیں دیکھے“ اس اکلوتے ڈائلاگ کا جوش بھی قابل دید تھا۔

ان سب سرگرمیوں کا فایدہ یہ ہوا کہ بچوں کی دلچسپی برقرار رہی وہ نہ مسجد سے بیزار ہوے نہ قرآن پڑھنا انھیں بوجھ لگا۔ بعد میں مسجد لانا لے جانا مشکل ہوا اور گھر بدلا تو ایک دوست نے آن لائن قاری صاحب کے بارے میں بتایا وہ پاکستان سے پڑھاتے ہیں۔ وہ تجربہ بھی بہت اچھا رہا۔ قاری صاحب اپنے وقت پہ اسکائپ پہ آتے اپنی اسکرین شئیر کرتے آدھ گھنٹہ پڑھانے کے بعد شاباش کے لئے اسٹار اور اسٹکروں کے اموجیز بھیجتے ہماری شام اور ان کی رات، اس رات کی ڈیوٹی میں بے انتہا محنت تھی اللہ انھیں اس کا اجر دے۔

اس بات کا دھیان رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر طریقہ ہر بچے کے لئے کارآمد نہیں ہوتا اگر آپ کا بچہ آن لائن پڑھ رہا ہے تو آپ اسے آڑا ترچھا لیٹے بیٹھے آئی پیڈ تھما کے قرآن نہیں پڑھا سکتے۔ اس کے لئے ایک جگہ مختص کرنا اور اگر قاری اسکرین کے دوسری طرف اپنا کام کر رہے ہیں تو اپنی طرف تمیز سے بٹھانا والدین کا کام ہے۔ بیٹی کی باری آئی تو قاری صاحب نے ایک خاتون سے کنیکٹ کر دیا خاتون کی آواز سے اندازہ ہوتا تھا کہ رات کو جاگ کے بچوں کو پڑھانا ان کے لئے ایک دقت آمیز عمل ہے جب ان کی برداشت کم ہوتی نظر آئی اور ان کی آن لائن ڈانٹ بڑھی اور ادھر سے فاطمہ کا رونا دھونا شروع ہوا تو ہم نے قاری صاحب سے درخواست کی کہ فاطمہ کو بھی وہی پڑھایں۔

کبھی وہ پڑھنے میں چوں چرا کرتی تو ہم میں سے کوئی ساتھ بیٹھ جاتا، قاری صاحب نے اسٹار کے اموجی بھیجنا بند کر دیے شاید بے دھیانی میں، ہمارے لئے بھی بہت عام سی بات تھی لیکن پانچ چھ سال کے بچے کے سوچنے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ فاطمہ نے اس کا شکوہ کیا تو ہمیں قاری صاحب کو یاد دلانا پڑا اور فاطمہ پھر تازہ دم ہوگئی۔ قاری صاحب کی محنت اور لگن سے الحمد اللہ بچوں نے جلدی جلدی قرآن شریف مکمل کر لیا۔

یہ سب لکھنے کا مقصد صرف آگاہی پہنچانا ہے۔ تمام دنیا میں بچے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ایک سے ہی احساسات اور معصومیت رکھتے ہیں۔ ڈانٹ پھٹکار ان پہ ایک جیسا اثر دکھاتی ہے، اور مار پیٹ ایک جیسے ہی تکلیف اور اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ بات صرف آگہی، سمجھ بوجھ اور رویوں کی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں بھی بچے مسجدوں اور مدرسوں سے قرآن اور اسلام کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ تو طویل دن اسکول میں پڑھنے کے بعد مسجدوں میں حفظ بھی کر رہے ہیں لیکن کیونکے ان ممالک میں بچوں کی حفاظت اور حقوق کے لئے قانون سخت ہیں، پڑھانے کا طریقہ کار بچوں کی فطرت کے مطابق ہے اور بچوں کی اچھا ماحول میسر آتا ہے اس لیے مار پیٹ کے واقعات سننے میں نہیں آتے لیکن جہاں ماں باپ ہی بد صورت رویوں پہ آنکھیں بند کرنا مناسب خیال کریں فقط اس لیے کہ بات قرآن کی تعلیم کی ہے تو بچوں کے دلوں میں قرآن کی محبت جگانا ایک خواب سے کم نہیں۔

جو اللہ رحمن اور رحیم ہے اور جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی بچوں سے خاص شفقت فرمائی اور کبھی سختی نہیں برتی ان کا پیغام بچوں پر ڈنڈے مار مار کے اور نیل و نیل کر کے کیسے مسلط کیا جا سکتا ہے؟ بچوں کو نظم و ضبط کا پابند کرنا بہت ضروری ہے لیکن ہمیں طریقہ کار اور اپنے رویے بدلنے کی ضرورت ہے اور انہیں بدلنے کے لئے ہمیں کسی اور ملک جانے کی ضرورت نہیں صرف اپنی سوچ کا زاویہ بہتر کرنا، صحیح غلط میں فرق کرنا اور نامناسب رویوں پہ آواز اٹھانا ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *