ڈاکٹر خالد سہیل۔ ایک لکھاری کی حوصلہ افزائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ہم سب“ سے میرا تعارف ڈاکٹر خالد سہیل کی معرفت ہوا تھا۔ انٹرنیٹ پر سرفنگ کرتے ہوئے ”ہم سب“ پر ڈاکٹر صاحب کا نفسیاتی مسائل پر کالم پڑھا اور ”ہم سب“ کا ہو کر رہ گیا تھا۔ اُس وقت سوچا نہ تھا کہ کبھی ”ہم سب“ پر لکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ ڈاکٹر صاحب کا کالم ”کیا آپ نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں؟ “ پڑھا تو لگا کہ دُنیا ابھی حوصلہ افزائی کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی ہے۔ اور جس قرض کا ذکر انہوں نے کیا وہ میرے پر بھی واجب الادا ہے۔

میرا ایک نظریہ ہے جو ہوسکتا ہے غلط ہو وہ یہ کہ ہر انسان کے اندر اللہ کی جانب سے عطا کردہ ایک ایسی صلاحیت ہوتی ہے، جُنون ہوتا ہے جو اُس انسان کی زندگی میں سُکون لانے کا سبب بنتا ہے۔ ایک سوال خود سے کریں کہ کون سا ایسا کام ہے جس کو کرنے سے آپ کے دل کو تسلی ملتی ہے۔ جس کو کرنے سے آپ اپنی ٹینشن بھول جاتے ہیں۔ کھانا، سونا، انٹرنیٹ اور موبائل کو نکال کر سوال کریں۔ جو جواب آئے وہ آپ کا خُفیہ ٹیلنٹ ہو گا۔

لیکن یہ سوال اور جواب اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ کئی غلط جوابات کے بعد صحیح جواب آ تا ہے۔ بس اُس جواب کو کھوجنے کی جُستجو اور کسی اُستاد کی حوصلہ افزائی چاہیے ہوتی ہے۔ حوصلہ شکنی کو برداشت کرنا سب سے اہم اور مُشکل کام ہے۔ کئی لوگ اس حوصلہ شکنی سے مایوس ہو کر اپنا ٹیلنٹ ڈھونڈنا یا سُدھارنا بند کردیتے ہیں۔ پوشیدہ صلاحیت کی تلاش ایک صبر آزما اور مُشکل امر ہے۔ اس میں ناکامی بہت بار ہوتی ہے۔ کئی مُغالطے بھی ہوتے ہیں۔

اپنی مثال دوں تو میرے والد مرحوم نے بچپن سے اپنی اولاد کو اخبار بینی اور کُتب بینی کی عادت ڈالی۔ اس عادت نے مشاہدہ اور تخلیق کو جنم دیا۔ اپنی آئی ٹی کی پڑھائی کے بعد اپنا ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لئے کئی تجربات کیے۔ کبھی لگا کہ ہم موسیقار اچھے ہیں کبھی لگا کہ اچھے اداکار ہیں۔ پندرہ سال قبل اسی کشمکش میں کئی دفعہ ناکام ہونے کے بعد لکھنے کا تجربہ کیا۔ پہلا انگریزی مضمون لکھا جو آئی ٹی کے بارے تھا۔ وہ مضمون لے کر میں اپنے کزن نما دوست ظفر کے ہمراہ جامعہ کراچی گیا اور اُن کے اُستاد مُحترم جناب سید علی زیدی (مرحوم) سے مُلاقات ہوئی۔

میرا مضمون اُن کو پسند تو آیا لیکن انہوں نے فرمایا بیٹا آپ پروگرامنگ میں کیا کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا سر آپ کو ایسا کیوں لگا تو گویا ہوئے یاد رکھنا دس سال بعدتُم بھی یہی سوچ رہے ہوگے جو آج میں بول رہا ہوں۔ لیکن اُن کی بات کو سُنی ان سُنی کرتے ہوئے میں نے اپنا کیرئیر پروگرامنگ میں وقف کیا اور آج پندرہ سال بعد میں اُن کی بات کا سو فیصد قائل ہوں کہ میرا ٹیلنٹ قلم ہی تھا۔ انگریزی مضمون نگاری سے اُردو تک کالمبی مُسافت طے کی۔

وہ بھی زیدی صاحب کے مشورے پر۔ اُن کا خیال تھا کہ جو پیغام اپنی مادری زبان میں بیاں ہو سکتا ہو وہ کسی بھی زبان کے بس کا روگ نہیں۔ پھر کیا تھا محمود کی طرح سومنات کے مندر پر بہت بار چڑھائی کی بہت دفعہ اپنی ہنسی اڑوائی۔ کئی دفعہ مایوس بھی ہوا لیکن کوشش ترک نہ کی۔ یقین جانیں میری اہلیہ میرے کالم شازونادر ہی پڑھتی ہیں جس کا قلق اکثر ہوتا ہے۔ ”ہم سب“ میں متعدد کالم مُسترد ہونے کے بعد بھی ہمت نہ ہاری۔

سوچا کہ وجاہت صاحب اور عدنان صاحب کے میعار کے پیمانے کے قریب قریب کبھی نہ کبھی پہنچ ہی جاؤں گا۔ پھر ایک دوست تنزیل اشفاق جو کہ ایک کہنہ مشق لکھاری ہیں، انہوں نے اپنے پاس جگہ دی اور مُجھے مزاح پر اُکسایا۔ اب اللہ کا کرم ہے کہ میری مزاحیہ تحریریں اُن کی ویب سائٹ پر کافی دفعہ دیکھی اور شیئر کی جاتی ہیں۔ پھر خُدا خُدا کرکے میری ایک تحریر بالاآخر ”ہم سب“ کا حصہ بن گئی اور اُس کے بعد ہفتے میں ایک کالم ”ہم سب“ کی زینت بن ہی جاتا ہے۔

کہنے کا مقصد یہ کہ اگر میں اپنے احباب جو میری حوصلہ شکنی کرتے تھے اُن کی بات پر دھیان دیتا تو آج اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا لیکن اللہ بھلا کرے میرے والد مرحوم، علی زیدی (مرحوم) ، تنزیل اشفاق، ڈاکٹر خالد، وجاہت اور عدنان کا جن لوگوں نے میری تربیت کی اور آج میں یہاں ہوں۔

میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ جب بھی کسی بھی وجہ سے ڈپریشن ہو چاہے وہ نجی زندگی کا ہو یا دفتری معاملات کا ہو اُس سے چھُٹکارہ پانے کے لئے میرا قلم ہی بہترین ہتھیار ہے۔ آج میں اپنا اور بچُّوں کا پیٹ پالنے کے لئے سافٹ وئیر کے سمندر میں غوطہ زن ہوں لیکن میرا قلم مُجھے میرے قارئین سے جوڑے رکھتا ہے۔ یہ قلم ہی ہے جو مُجھے بدترین ذہنی دباؤ سے نکلنے میں میری مدد کرتا ہے۔ کتنے تجربات کے بعد اِس صلاحیت کا پتہ چلا ہے مُجھے اور رفتہ رفتہ اِس میں بہتری آرہی ہے۔

ڈاکٹر صاحب خُوش قسمت ہیں کہ اُن کو ا حمد ندیم قاسمی ’محسن احسان اور احمد فراز جیسی عظیم ہستیوں کی پذیرائی ملی اور پھر خاندان کی جانب سے عارف عبدالمتین صاحب نے رہنمائی کی۔ ہر کوئی اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا لیکن کوشش پھر بھی جاری رہنی چاہیے۔ جس دوسرے گروہ کا ذکر انہوں نے کیا میں قریب قریب اسی کا حصّہ ہوں۔ اور اللہ کی رحمت ساتھ رہی، میرے قارئین کا میری تحریروں پر ردِّعمل ( مُثبت یا منفی) آتا رہا اور حوصلہ افزائی ہوتی رہی تو انشا اللہ اور بھی بہتری آئے گی۔

اگر میری تحریروں سے کسی بھی چہرے پر مُسکراہٹ آجاتی ہے اور چند لمحوں کے لئے کوئی اپنے غم بھول جاتا ہے تو یقین جانئے میرے لئے اِس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں ہے۔ میرا نئی نسل کو مشورہ ہے کہ اپنے اندر کے پوشیدہ فنکار کو باہر نکالیں۔ ایک فنکار، ایک لکھاری، ایک شاعر انتہاپسندیا سطحی سوچ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ آپ کے پاس سوشل میڈیا ہے جو آپ کے ٹیلنٹ کو منٹوں میں پوری دُنیا میں پھیلا سکتا ہے۔ ضرورت صرف کوشش اور نیت کی ہے۔

فیض صاحب نے کیا خُوب کہا ہے

تُم اپنی کرنی کر گُزرو

جو ہوگا دیکھا جائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *