یادوں کا زہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالیہ فائنل ایئر میں تھی کہ ہماری شادی ہوگئی۔ ہنی مون کے لیے ہم دونوں سری لنکا گئے۔ احتیاط کے باوجود پہلے مہینے میں ہی عالیہ حمل سے ہوگئی، ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ایسا کیسے ہوگیا مگر شاید قسمت کو یہی منظور تھا۔

ابھی حمل کے چھ سات ہفتے ہی گزرے تھے اور ہم نے کسی کو بتایا بھی نہیں تھا کہ یکایک عالیہ کے پیٹ میں درد اُٹھا اور اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ جہاں پتہ چلا کہ حمل ضائع ہوچکا ہے۔ شاید ہم دونوں کو ہی تھوڑا افسوس سا ہوا مگر ساتھ ہی ہم دونوں نے اپنے تئیں تھوڑا سا اطمینان بھی محسوس کیا۔ ہم دونوں کا خیال تھا کہ ایک سال کے بعد جب عالیہ کے فائنل امتحانات ہوجائیں گے تو بچوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

پھر پلان کے مطابق اس کے امتحانوں اور ابارشن کے تقریباً چودہ مہینوں کے بعد وہ دوبارہ حمل سے ہوگئی۔ یہ حمل ٹھیک ٹھاک چلتا رہا، میری کمپنی کی طرف سے مجھے اورمیرے اہل خانہ کے لیے میڈیکل کی سہولتیں مہیا تھیں اور میں کراچی کے بہترین ہسپتال میں جاسکتا تھا۔ کراچی کے ہی ایک بہترین ہسپتال میں قسمت سے عالیہ کو گائناکولوجسٹ بہت اچھی مل گئی، بکنگ کے وقت تومیں نہیں جاسکا مگر جو کچھ عالیہ نے بتایا اس کے مطابق سب ٹھیک ٹھاک تھا۔

اس خون اور پیشاب کے مختلف ٹیسٹ ہوئے، الٹراساؤنڈ ہوا، کھانے پینے کے بارے میں ہدایات دی گئیں، آرام کرنے کے لیے کہا گیا اور سب کچھ ٹھیک ہونے کی خبر دی گئی۔ ہم دونوں اور ہمارے خاندان خوش تھے۔ ہمارے خاندان میں بہت دنوں کے بعد کسی نئے مہمان کی آمد آمد تھی۔ ہر ایک خوش اور ہر ایک انتظار کی کیفیت میں بھی مبتلا تھا۔

حمل کے دوسرے مہینے میں اس کے امتحانات کے نتائج بھی آگئے اور اس نے فرسٹ کلاس میں ایم اے کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ زندگی بہت خوبصورت تھی، زندگی سے اور کیا مانگا جاسکتا تھا۔ اچھی خوبصورت سی پڑھی لکھی خیال کرنے والی بیوی جو ماں بننے والی تھی۔ اچھی سی بہترین نوکری جس میں میری آمدنی میری ضرورتوں سے کہیں زیادہ تھیں۔ کتنا خوش نصیب تھا میں۔

آہستہ آہستہ اس کا وزن بڑھ رہا تھا لوگ کہتے ہیں کہ حمل کے دوران عورت کی شکل و صورت اورجسم خراب اور بے ڈھنگاہوجاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مجھے زیادہ ہی خوبصورت اور حسین لگنے لگی تھی۔ اس بے ڈھنگے پن اور جسم کی بدہیبتی میں بھی ایک خاص توازن تھا اس کے اندر میرا بچہ تھا۔ پھلتا پھولتا ہوا۔ بڑا ہوتا ہوا، پھیلتا ہوا۔ وہ ایک نہیں تھی دو تھی۔ وہ ہم سب کا مستقبل تھی۔ میرے بچے کی ہونے والی ماں۔ مجھے کبھی بھی وہ بے ڈھنگی نہیں لگی۔

میں کوشش کرکے شام کوآفس سے جلدی آجاتا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ لگاتے، کبھی ٹیلی ویژن دیکھتے، کبھی ٹی وی پر ہی انڈیا یا ہالی ووڈ کی کسی فلم سے لطف اندوز ہوتے۔ کسی دوست، رشتہ دار سے ملنے چلے جاتے یا کبھی کلفٹن کے ساحل پر تھوڑی چہل قدمی کرتے۔ وہ گزرا ہوا ہر لمحہ ایک یادگار لمحہ تھا۔

میں نے عالیہ میں تبدیلی محسوس کی، اس کے چہرے پر جیسے ہلکی ہلکی سی نمی ہوتی، کبھی کبھی چہرہ سرخ ہوکر اور بھی حسین ہوجاتا، اس کا چلنا، اُٹھنا باوقار ہوگیا۔ اس کے پورے اَنگ اَنگ میں جیسے ایک طرح کا غرور سا تھا۔ ایک سکون سا تھا، ایک تخلیق کار کا سکون۔ اس کے جسم کے اندر ایک اور جان کے پلنے کا احساس جسے وہ اپنے خون سے پال پوس رہی تھی۔ کبھی کبھی وہ خوف زدہ سی ہوجاتی۔ ان ماؤں کے بارے میں سن کر جو حمل کے دوران مرگئی تھیں۔ جن کا آپریشن ہوا تھا۔ پھر وہ گھر نہیں آسکیں۔ جنہوں نے بچہ تو جن دیا مگر خود جان دے بیٹھی تھیں۔ کبھی کبھی وہ سوچتی کہ خدانخواستہ اگر بچے کو کچھ ہوگیا، وہ ابنارمل پیدا ہوا، یا مرگیا تو کیا ہوگا۔ حالانکہ الٹراساؤنڈ پر ہر چیز نارمل تھی لیکن خوف، تشویش، تخلیق امید، تمنا، غرور کے امتزاج نے اس کے پورے جسم اور چہرے پر رنگارنگ قوس و قزح بکھیر دی تھی۔ میں اسے دیکھتا اور خوش ہوتا رہتا۔

اس کے حمل کی وجہ سے میری بھی اس سلسلے میں بہت معلومات ہوگئی تھیں۔ میں نے انٹرنیٹ پر بہت سا ریسرچ کرلیا۔ کون سی دوا کھانی ہے، کون سی نہیں کھانی ہے، حمل کے دوران کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ہے، بچہ پیٹ کے اندر کن کن مرحلوں سے گزرتا ہے، کب درد شروع ہوتے ہیں، نارمل ڈلیوری کیسے ہوتی ہے، خون کب آتا ہے، کب ڈاکٹر سے بات کرنی ہے، کب ہسپتال جانا ہے، ان معلومات کی وجہ سے میرے بھی دل میں کبھی کبھی دھڑکا سا ہوجاتا۔ کسی نے صحیح کہا ہے معلومات انسان کو بزدل بنادیتی ہیں۔ زیادہ معلومات ہوں تو مسائل کے بارے میں بھی معلومات بڑھ جاتی ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے ہی مجھے یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ پاکستان اور ہندوستان میں ماؤں کی صحت کی صورتحال بڑی خوف ناک ہے، دونوں ہی ملکوں میں ہزاروں عورتیں ہر سال حمل کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ پڑھ کر تو میں حیران رہ گیا کہ پاکستان میں ایک لاکھ حاملہ عورتوں میں تین سو سے زائد کی موت واقع ہوجاتی ہے ہر سال تیس ہزار جوان عورتیں مرجاتی ہیں اور تقریباً چار لاکھ عورتیں حمل کی وجہ سے مستقل طور پر ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح سے ہندوستان میں اسّی ہزار عورتیں ہر سال مرجاتی ہیں اور پندرہ لاکھ عورتیں حمل کی وجہ سے ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں سوئیڈن جیسے چھوٹے سے سرد ملک میں ایک لاکھ حمل میں ایک عورت بھی نہیں مرتی ہے اورناکارہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

میں سوچتا کہ یہ کیسے ملک ہیں، پاکستان اور ہندوستان ایٹم بم، میزائل، لڑاکا آبدوز، لاکھوں فوجیوں اورہزاروں سیاستدانوں کے ملک۔ یہ کیسی جنگ لڑرہے ہیں، ابھی تک مہا بھارت بادشاہوں، راج راجواڑوں کی جنگ لڑرہے ہیں جس میں غریب کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، نہ ہوگا اور اس جنگ کے لیے انہیں سب کچھ چاہیے فوج بھی، میزائل بھی، ٹینک بھی، آبدوز بھی اور ایٹم بم بھی چاہیے قیمت جو بھی ہو۔ سوئیڈن کے پاس تو ایٹم بم بھی نہیں ہے مگر وہاں کے بچے عورتیں مریض محفوظ ہیں، ہمارے سیاستدانوں، فوجیوں، دانشوروں کو شرم نہیں آتی ہے، جب وہ مغربی ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ کھڑے ہوکر تصویریں کھنچواتے ہیں، کیا انہیں نہیں پتہ ہوگا کہ یہ سربراہ، یہ جنرل، یہ سیاستدان، سائنسدان اس ملک سے تعلق رکھتا ہے جہاں جوان عورتیں بچہ جننے میں مرجاتی ہیں، جہاں بن ماں کے بچے گلیوں سڑکوں، نالوں میں پل کر جوان ہوتے ہیں، جن کے پاس نہ تعلیم ہوتی ہے نہ ہنر جن کی زندگی کام سے شروع ہوکر کام پر ختم ہوجاتی ہے۔

میں سوچتا تھا کہ اگر عالیہ حاملہ نہ ہوتی اور میں انٹرنیٹ پر نہیں جاتا تو ان چیزوں کا مجھے کبھی بھی پتہ نہیں لگتا۔ میں نے یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کرلی مگر مجھے اپنے دیس کی اس شکل کا پتہ نہیں تھا۔ زندگی ڈیفنس کلفٹن اور ایئرکنڈیشنڈ آفسوں کے باہر بہت دکھی تھی، حقیقت بڑا کڑوی اور جھوٹ میں بڑی مٹھاس تھی۔ میں پریشان سا ہوگیا۔

الٹراساؤنڈ سے ہمیں پتہ لگ گیا کہ ہونے والا بچہ لڑکا ہے، ہم نے اس کے دو نام رکھ دیے، ایک میں نے رکھا تھا راحیل رحمان۔ رحمان میرا نام تھا اور راحیل پتہ نہیں کیوں مجھے بڑا اچھا نام لگتا تھا۔ بچپن سے جیسے میرے ذہن میں تھا بغیر کسی وجہ کے میں نے کہا تھا کہ ہم اس کا نام راحیل رکھیں گے۔ عالیہ مجھ سے راضی تھی لیکن اس کا خیال تھا کہ طارق کے نام سے اسے پکارا جائے۔ طارق بِن زیاد کے نام پر۔ ایک مسلمان غازی جو بہادری سے لڑا تھا، وہ کہتی تھی ہمارا طارق بھی ایسا ہی ہوگا، بہادر اور اسلام کے لیے لڑنے والا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ طارق راحیل رحمان ہی طے ہوا تھا آخر میں۔

آہستہ آہستہ میں نے بھی راحیل کو محسوس کرنا شروع کردیا۔ مجھے یاد ہے بالکل شروع میں حمل کا بیسواں ہفتہ تھا جب عالیہ نے کہا کہ اسے ایسا لگتا ہے جیسے پیٹ کے اندر کوئی ہلکے سے کسی چھوٹے سے پَر سے دھیرے دھیرے سہلارہا ہے۔ آہستہ آہستہ پَر سے مار رہا ہے۔ ڈاکٹر نے بتادیا تھا کہ اب وہ بچّے کی حرکت محسوس کرے گی۔ اسے جیسے گدگدی سی محسوس ہوتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ حرکتیں تیز ہونا شروع ہوگئیں۔ کبھی کبھی وہ بیٹھے بیٹھے ہنس دیتی تھی، کبھی پیٹ کوپکڑلیتی تھی۔ رحمان یہ بچہ تمہارا بہت شریر ہے، دیکھو دوڑنے کی کوشش کررہا ہے، کسی پل چین نہیں ہے اس کو۔ لگتا ہے فٹ بال کا کھلاڑی بنے گا۔ ہم دونوں ہنس دیتے۔

کبھی کبھی رات کو لیٹے لیٹے عالیہ کے پیٹ پر ہاتھ رکھ دیتا تومجھے بھی اس کی حرکت محسوس ہوتی تھی۔ میرا دل بھرآتا تھا، چھوٹا سا بچہ میری بیوی کے پیٹ کے اندر آہستہ آہستہ بڑا ہورہا ہے، حرکت کررہا ہے۔ گھوم رہا ہے اپنی چھوٹی سی دنیا سے ہماری دنیا میں آنے کی تیاری کررہا ہے۔ ہماری زندگیوں میں رنگ بھرنے کے لیے۔

عالیہ کہتی کہ وہ تو بات بھی کرتا ہے بالکل دھیرے دھیرے، میری سمجھ میں نہیں آتا مگر میں خوش تھا۔ حمل اب اڑتیس ہفتے مکمل کرچکا تھا اور اب کچھ دنوں کی بات تھی کہ وہ ہم سب کے لیے خوشیاں بٹور کر لارہا تھا۔

ہماری طرف سے تیاری مکمل تھی، دادی اور دادا نے بچے کا چھوٹا سا مسہری نما بستر خریدا، نانانانی اس کے لیے پرام لے کر آئے، میرے بھائی بہن نوزائیدہ بچوں کی ضرورت کی ساری چیزیں ہمیں تحفے میں دے چکے تھے۔ میں روزانہ انتظار کرتا کہ کب یکایک انٹرنیٹ کی معلومات کے مطابق ہر دس منٹ پر درد اُٹھے گا اورمجھے بھاگم بھاگ ہسپتال جانا پڑے گا۔

مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا، اُس صبح ہم لوگ اُٹھے تو عالیہ نے کہا کہ بچہ صبح سے کچھ زیادہ ہی حرکت کررہا ہے، ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا تھا، بہت تیز حرکتیں صبح صبح ہوتی تھیں اور اس کے بعد بچہ آہستہ آہستہ گھومتا رہتا تھا لیکن اب یکایک بالکل ساکت سا ہوگیا۔ اس وقت نو بجے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحبہ کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں فوراً عالیہ کو لے کر ہسپتال آجاؤں۔

میں نے آفس فون کرکے بتایا کہ آج آفس نہیں آسکوں گا اورعالیہ کو لے کرہسپتال پہنچا۔ ڈاکٹر نے فوراً ہی عالیہ کا الٹراساؤنڈ کیا، میں بھی اندر کمرے میں ساتھ ہی کھڑا تھا اوراندازہ لگالیا تھا کہ وہ بار بار کچھ دیکھنے کی کوشش کررہی ہیں مگر انہیں وہ چیز نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے فون کرکے ایک اور ڈاکٹر صاحبہ کو بلایا۔ وہ بھی کافی دیر تک الٹراساؤنڈ کے پروپ کو عالیہ کے پیٹ پر اوپر نیچے کرتی رہیں۔ وہ بچے کی دل کی حرکت کو تلاش کررہی تھیں جو انہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ عالیہ کا چہرہ ہراساں تھا اور آہستہ آہستہ آنسو اس کے گالوں پر پگھل رہے تھے۔

ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے باہر بلایا اوربتایا کہ کسی وجہ سے بچے کی پیٹ میں ہی موت واقع ہوگئی ہے، میں سُن سا ہوکر رہ گیا، مجھے ایسا لگا جیسے میں گرجاؤں گا، میرا حلق اتنا خشک ہوگیا کہ مجھ سے بات تک نہیں کی جارہی تھی۔ اُف خدا، یہ کیا ہوگیا۔ ایسا تو میں نے سوچا بھی نہ تھا۔

ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے دُلاسہ دیا سمجھایا اور کہا کہ میں ان کے ساتھ چلوں، وہ خود عالیہ کو یہ بات بتائیں گی۔ میں نے کہا ٹھہریئے ڈاکٹر صاحب، میں امی کو بلالوں، ان کا ہونا بھی ضروری تھا۔ میں نے جلدی سے گھر فون کیا۔ اس عرصے میں عالیہ کو ایک پرائیویٹ کمرے میں منتقل کردیا گیا تھا۔ آدھے گھنٹے میں امی آگئیں اور ساتھ میں عالیہ کے ابو اور امی بھی پہنچ گئے۔ وہ بھی سخت پریشان ہوگئے تھے اور ان کا سب خیال تھا کہ عالیہ کو کچھ نہ بتایا جائے۔ مگر ڈاکٹر نے سختی سے اس خیال کو رد کردیا کیونکہ اس بچّے کے لیے سب سے زیادہ تیاری تو ماں نے ہی کی ہے اور ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم لوگ ماں کو ہی نہ بتائیں کہ بچے کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ نہیں بتانا تو ہوگا اور جتنا جلدی ماں کوبتایا جائے بہتر ہے، کیونکہ آگے کا مرحلہ صرف ماں نے ہی طے کرنا ہے۔

اس کی بات درست تھی، میں نے امی کی مرضی کے خلاف ڈاکٹر سے کہا کہ چلیں عالیہ کو بتادیں۔ عالیہ نے سکون سے خبر سنی اور بغیر آواز کے بے تحاشا رودی۔ امی کا خیال تھا کہ مردہ بچے کو جلداز جلد نکال دیا جائے، چاہے آپریشن کرنے کی ضرورت ہو کیونکہ مردہ بچہ جسم میں زہر پھیلاتا ہے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ یہ تو بہت آسان کام ہوگا ایک گھنٹے میں آپریشن بھی ہوجائے گا اور مجھے آپ لوگ آپریشن کی فیس بھی دیں گے۔ میرا تو اس میں بہت فائدہ ہے لیکن آپ لوگوں کا مالی اور مریض کا بہت نقصان ہوگا، میرا یہ مشورہ نہیں ہے۔ یہے بھی خیال رکھیں کہ ڈاکٹر میں ہوں آپ لوگ نہیں۔

میں حیران رہ گیا، مگر ڈاکٹر مردہ بچے کا زہر!

مردہ بچے کا کوئی زہر نہیں ہوتا اور نہ پھیلتا ہے یہ سب بے کار کی باتیں ہیں۔ جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ مریض کے لیے تو سب سے اچھا یہ ہے کہ کچھ نہ کیا جائے اور انتظار کیا جائے۔ قدرتی طور پر زچگی کا عمل شروع ہوگا اور بچہ پیدا ہوجائے گا۔ قدرتی عمل سے جو کچھ بھی ہوگا وہ ماں کے لیے بہت ہی اچھا ہوگا، دیکھیں ماں کو دوبارہ بھی حاملہ ہونا ہے۔ ”اس نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن اگر عالیہ ایسا کرنے میں مشکل محسوس کرتی ہیں تو ہم یہ کرسکتے ہیں کہ ہارمون کی کچھ گولیاں ان کو دیں، اس سے درد اگلے بارہ سے تیس چالیس گھنٹوں میں شروع ہوجائے گا پھر ہم بچہ پیدا کرلیں گے۔ اس وقت بھی بچہ نارمل طریقے سے ہوگا، کوئی بھی آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

میں اورعالیہ دونوں آپریشن کے خلاف تھے اورمرے ہوئے بچے کو پیٹ میں رکھنے کے لیے وہ بھی تیار نہیں تھی۔ ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہارمون لے لیا جائے۔

بچے کے مرنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے خاندان میں پھیل گئی۔ میرا موبائل فون بار بار بج رہا تھا، سارے دوست، رشتہ دار اور عزیز جن کو پتہ چل رہا تھا وہ فون کرکے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ مجھے اچھا لگا، میں نے بار بار تفصیل سے ہرایک کو بتایا مگر مجھے لگا کہ جیسے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کہیں۔ عالیہ مسلسل رو رہی تھی، امی اورعالیہ کی امی کی آنکھوں میں آنسو تھے، میں نے اپنے آپ کو سنبھال لیا یا شاید میرے آنسوخشک ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر نے ہارمون کی گولیاں دیں اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ زچگی کے وقت وہ خود آئیں گی۔ پرائیویٹ کمرے میں عالیہ سفید چادر میں لپٹی میرے تسلیوں کے باوجود آہستہ آہستہ سسکتی رہی۔ کئی قریبی رشتہ دار آکر دلاسا دے کر چلے گئے، مگر اس دن مجھے بڑی خالہ کا آنا بہت برا لگا، یہ تو ان کی مہربانی تھی کہ وہ محبت میں فوراً ہی آئیں تھیں۔ عالیہ کو گلے بھی لگایا پھر نہ جانے کیوں انہوں نے کہا کہ عالیہ بیٹی تم ابھی بہت کم عمر ہو، جوان ہو، گھبراؤ نہیں اور بچے ہوجائیں گے، بالکل فکر نہ کرو۔

مجھے اس وقت تو کوئی احساس نہیں ہوا مگر ان کے جانے کے بعدعالیہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تھا، رحمان ایسا کیوں بولا خالہ نے اورجتنے بھی بچے ہوجائیں میرا طارق، تمہارا راحیل، ہمارا طارق راحیل رحمان مرگیا ہے، وہ تو اب کبھی بھی نہیں آئے گا، وہ چلا گیا ہے، ہمارا پہلا سب سے بڑا بچہ۔ میں نے سوچا کاش بڑی خالہ آج نہ آتیں اور اگر آگئی تھیں تو یہ نہ بولتیں۔

شام تک کمرے کے اندر باہر آنا جانا لگا رہا، امی اور عالیہ نے رات آٹھ بجے ضد کرکے مجھے گھر بھیج دیا۔ بھرا پُرا گھر بھی مجھے کھانے کو دوڑ رہا تھا، میں اپنے کمرے میں خاموشی سے لیٹ گیا، راحیل کا چھوٹا سا بستر کمرے کے کونے میں اُداس کھڑا تھا میں نے اُٹھ کرآہستہ آہستہ اسے ہاتھ لگایا، خالی بستر پر مجھے لگا جیسے راحیل کی لاش پڑی ہوئی ہے۔ میں نہ جانے کتنی دیر اس خالی بستر کو تکتا رہا اور سوچتا رہا کہ بڑا انیائے ہوگیا ہے میرے ساتھ۔ نہ جانے کس گناہ کی سزا ملی ہے مجھے۔

رات کا ہلکا پھلکا کھانا کھا کر میں نے عالیہ اور امی سے فون پر بات کی اور بستر پر سوتا جاگتا رہا۔ رات تین بجے میرے موبائل پر امی کا فون آیا کہ میں فوراً ہی ہسپتال پہنچ جاؤں۔ میں اور بھائی جان ہسپتال کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے۔

عالیہ کا کمرہ خالی تھا اور وہ لیبر روم میں تھی۔ امی نے بتایا کہ ڈلیوری ہوچکی ہے اورہسپتال کی چادر میں چھوٹا سا لپٹا ہوا بچہ وہاں موجود تھا۔

ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے بتایا کہ بظاہر بچہ بالکل نارمل ہے اور بچے میں کسی بھی قسم کی خرابی نہیں ہے، باہر کے ملکوں میں ایسے بچوں کا پوسٹ مارٹم ضرور کیا جاتا ہے تاکہ پتہ لگ سکے کہ کوئی اندرونی پیدائشی خرابی تو نہیں ہے جس کی وجہ سے موت واقع ہوگئی۔ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو مستقبل کے بارے میں پلاننگ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں توپوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا لیکن اگر آپ لوگ اجازت دیں تو اس کا انتظام ہوسکتا ہے۔

بھائی جان نے تجویز کو رد کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ لاش کی بے حرمتی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جلداز جلد بچے کو دفن کردیا جائے توبہتر ہے۔ میں اندر جا کر عالیہ سے ملا، اس کا چہرہ مجھے ایسا لگا جیسے سیاہ پڑگیا ہے۔ کھلی ہوئی آنکھوں کی ویرانی میں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر پھر رودی۔ میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی مگر مجھے خود بھی پتہ تھا کہ میری کھوکھلی تسلیوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے خود پتہ نہیں تھا کہ میں کیا کررہا ہوں۔

ڈاکٹر نے پیدائش کا سرٹیفکیٹ اور ساتھ میں موت کا سرٹیفکیٹ بھی لکھ دیا اور کہا تھا کہ دوپہر کو عالیہ گھر جاسکتی ہے مگر آپ دونوں ایک ہفتے کے بعد مجھ سے کلینک میں آکر ملئے گا۔

میں اوربھائی جان راحیل کو لے کر محلے کی مسجد میں چلے گئے، امام صاحب کو بتادیا گیا تھا۔ وہاں میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے غسل دیا، چادر کے باہر اس کا نیلا، ٹھنڈا، لجلجا بے جان جسم مجھے عجیب سا لگا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، ہاتھ بازو، گردن، سینہ، پیر اور انگلیاں سب سالم تھیں، زندگی میں پہلی بار میں نے اتنے چھوٹے بچے کو ہاتھ لگایا تھا۔ نیلا اور مردہ ہونے کے باوجود وہ ایک خوبصورت بچہ تھا۔ اس کی آنکھیں، ہونٹ، پیشانی، ناک، کان، ماتھا، گال، بھنویں، گردن، سینہ سب کچھ کسی زندہ بچے کی طرح موجود تھا۔ میرا دل کیا تھا کہ اسے بہت دیر تک سینے سے لگا کر رکھوں، جسم کے ہر ہر حصے کو ہونٹوں آنکھوں سے چومتا رہوں۔

فجر کی نماز کے بعد ہم اسے قبرستان لے کر گئے، چھوٹی سی قبر گورکن نے تیار کی ہوئی تھی۔ قبر میں اُتارنے سے پہلے میں نے آہستہ سے اسے سینے سے لگایا، چہرہ پر سے کفن کو ہٹا کر اس کا بوسہ لیا، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ مجھے بے اختیار رونا آگیا۔ چوبیس گھنٹے میں پہلی دفعہ میں قبر کے ساتھ بیٹھ کر بے قرار رویا تھا۔

شام کوعالیہ گھر آگئی۔ تھکی تھکی، ڈری ڈری پریشان، بڑی ہمت سے اس نے گھر میں قدم رکھا۔ ہمارے کمرے میں آکر بستر پر خاموش لیٹ گئی۔ میں ساتھ بیٹھا ہوا اس کے ہاتھوں کو تھامے ہوئے اس سے باتیں کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

رحمان، تم نے راحیل کو دیکھا تھا۔ اس نے آہستہ آہستہ پوچھا۔

ہاں دیکھا تھا، اسے میں نے اپنے ہاتھوں سے غسل دیا تھا پھر قبر میں اُتارا تھا۔

وہ نارمل تھا۔ اس نے سوال کیا۔

”ہاں بالکل نارمل تھا۔ بالکل تمہاری جیسی شکل تھی اس کی، تم نے دیکھا تھا نا۔

اس کی ناک تمہاری طرح تھی کھڑی کھڑی ترشی ہوئی۔ اس کا ماتھا تمہارے جیسا تھا وہ بہت خوبصورت تھاعالیہ میں نے آہستہ سے کہا۔

نہیں مجھے نہیں دکھایا ان لوگوں نے، پیدا ہونے کے فوراً بعد چادر میں لپیٹ کر باہر لے گئے تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ مجھے دکھائیں گے میں اسے ہاتھ لگاؤں گی، سینے پر رکھ کر چوموں گی مگر نہ جانے اس کا موقع کیوں نہیں دیا اُن لوگوں نے۔ اس نے سسکیاں لینی شروع کردی تھیں۔

میں دھیرے دھیرے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا اور نہ جانے کب سوگیا تھا۔ یکایک میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا عالیہ بچے کے بستر پر جھکی ہوئی ہے، میں ہڑبڑا کر اس کے پاس پہنچا تو میں نے دیکھا کہ بچے کے چھوٹے چھوٹے نیلے رنگ کے کپڑے بستر پر ایک قطار میں سجے ہوئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے موزے، چھوٹی چھوٹی ٹوپی، اس کے چھوٹے سے جوتے کو وہ اپنے ہونٹوں سے چوم رہی تھی اورآنکھوں سے آنسو سیل رواں کے طرح بہہ رہے تھے۔ مجھے بھی رونا آگیا۔ اسے میں آہستہ آہستہ بستر کی طرف لایا، میرے رونے کی وجہ سے وہ پُرسکون ہوگئی تھی۔

رحمان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے آہستہ سے آواز دی۔

بولو، عالیہ کیا بات ہے۔

پرسوں اسی وقت میرے طارق نے مجھے آواز دی تھی، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میری کوکھ پہ دستک دی تھی۔ امی میرا دم گھٹ رہا ہے، اس نے کہا تھا میں نے سنا نہیں، وہ زور زور سے چیخا تھا، دونوں ہاتھ پیروں سے مجھے جگا کر کہا تھا، امی مجھے اس اندھیرے سے نکالو لیکن میں کچھ نہیں کرسکی اور وہ چلا گیا تمہارا راحیل، میرا طارق، ہمارا طارق راحیل رحمان۔ وہ پھر بے قرار ہوکر روئی اور صبح تک رک رک کر اس کے آنسو نکلتے رہے تھے، بہتے رہے تھے۔

صبح امی نے بتایا کہ انہوں نے منع کردیا تھا کہ مرے ہوئے بچے کو نہ دکھائیں، خوامخواہ دماغ پر اثر پڑے گا حالانکہ ڈاکٹر چاہتی تھی کہ بچے کو دکھائیں مگر یہ نئی نئی ڈاکٹرنیاں کیا جانیں کہ مرے ہوئے اپنے پہلے بچے کو دیکھنے سے لڑکیوں کے دماغ پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ میں نے امی سے بحث نہیں کی۔

ایک ہفتہ گزرگیا، ڈاکٹر نے ایک دوا دی تھی جس سے عالیہ کی چھاتیوں کا دودھ تین چار دنوں میں خشک ہوگیا، شروع شروع میں بار بار اسے صاف کرنا پڑرہا تھا کیونکہ زچہ کو تو دودھ آنا شروع ہوہی جاتا ہے۔ سات دن کے بعد ہم دونوں ساتھ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے، اس نے تسلی سے ہم سے بات کی، مجھے بھی سمجھایا، عالیہ کو بھی سمجھایا اس نے بتایا کہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر بڑا ہوتا ہوا بچہ بچے دانی میں ہی فوت ہوجاتا ہے۔ آپ اسے حادثہ کہہ لیں، قسمت سمجھ لیں اوپر والے کی مصلحت سمجھ کر قبول کرلیں، کیونکہ اس ہونے کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس نے بہت سی باتیں کی تھیں۔ میرے اور عالیہ کے سوالوں کا جواب دیا تھا۔ ہم کر بھی کیا سکتے تھے، سوالوں کے سوا اور کیا چارہ تھا ہمارے پاس۔ باتوں باتوں کے درمیان ہی وہ بولی کہ عالیہ تمہارے لیے میرے پاس ایک تحفہ ہے، تمہارے طارق کی تصویر۔ یہ کہہ کر اس نے دراز کھول کر ایک لفافہ نکالا۔

میں لیبر روم میں میں بحث نہیں کرنا چاہتی تھی اور رحمان صاحب موجود نہیں تھے، لہٰذا بچہ تو آپ کو نہیں دیا کیونکہ آپ کے گھر والوں کی یہی خواہش تھی کہ بچہ آپ کو نہ دیا جائے لیکن پھر بھی میں نے پولورائیڈ کیمرے سے طارق کی دو چار تصویریں لے لی تھیں۔ یہ آپ کے لیے ہے دیکھو بالکل نارمل ہے، آپ کا بچہ خوبصورت معصوم، جیسے آتے آتے راستے میں سوگیا ہے۔

سفید تولیہ میں لپٹا ہوا طارق راحیل رحمان مجھے بھی بہت اچھا لگا، عالیہ نے تصویروں کو اس طرح سے سینے سے لگالیا جیسے اپنے بچے کو سینے سے لگایا ہو۔ پہلی دفعہ مجھے لگا جیسے اس کے چہرے پر ٹھنڈک ہے۔ صبر ہے، قرار ہے، سکون ہے، ایسا ہی سکون جو اپنے کسی پیارے کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے کے بعد ملتا ہے۔

طارق راحیل رحمان کی چھوٹی سی قبر کو میں نے پکا کرادیا ہے، اس کے سرہانے ایک کتبے پر لکھا ہے طارق راحیل رحمان میرا اور عالیہ کا بیٹا ایک پھول جو کھلنے سے پہلے ہی مرجھاگیا۔ ہم اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

ہمارے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا، ہر شب برات کی صبح فجر کی نماز کے بعد بزرگوں کے منع کرنے کے باوجود میں اور عالیہ پابندی سے قبرستان میں طارق راحیل رحمان کی چھوٹی سی قبر پر جاتے ہیں، ہم دونوں وہاں تھوڑی دیر بیٹھے رہتے ہیں اوپر والے کی رضا سے وہ اوپر چلا گیا، مگر ہمارے لیے ہمارا سب سے بڑا بچہ وہی ہے، ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *