اللہ کرے میری بیٹی کسی سہیلی کا کوئی گفٹ گھر نہ لائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حلال کی تنخواہ جتنی بھی ہو، مہینے کے پہلے ہفتے میں ہی پوری ہو جاتی ہے۔ اس مرتبہ فروری کا مہینہ شروع ہو تو کچھ اطمینان تھا کہ فروری کے دن کم ہونے سے مہینہ کچھ بہتر گزر جائے گا۔ دس تاریخ کو میرے صاحبزادے نے فرمائش کی کہ اسے پانچ ہزار کی ضرورت ہے اور فوراً اسے مہیا کیے جائیں۔ میر۔ ے استفسار پر کہ فیس تو ادا ہو چکی، جیب خرچ بھی روز مل جاتا ہے تو اچانک پانچ ہزار کی کیا ضرورت ہے۔ میرے بیٹے نے جواب کی بجائے سوال داغ دیا کہ ابؔا آپ کو پتہ ہے کہ چودہ فروری کو کیا دن ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ چودہ فروری کو اس کی برتھ ڈے تو نہ تھی۔ اس نے پھر استفسار کیا تو میں نے کام کرتے کرتے، ٹیبل پر پڑے کیلینڈر کو دیکھ کر کہا کہ چودہ فروری کو جمعہ ہے، تو اس نے غصؔے سے میری طرف دیکھا اور پاوؔں پٹختا ہوا، یہ کہ کر اپنی ماں کی طرف چلا گیا کہ ابؔا آپ چودہ فروری کو جمعہ ہی پڑھ آیئے گا، لگتا ہے آپ کبھی یونیورسٹی میں پڑھے ہی نہیں۔

میں اپنے کام میں پھر مصروف ہو گیا۔ کچھ دیر بعد گھر کی سُپر پاور نمودار ہوئی، (اور ہر شادی شدہ بندہ جانتا ہے کہ گھر کی سُپر پاور بیوی ہوتی ہے ) ۔ بیوی نے مسکراتے ہو ئے، چائے کا کپ مر ی ٹیبل پر رکھا اور میرے کا ندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر میرے لیپ ٹاپ کی سکرین پر بغیر کچھ پڑھتے ہوئے نگاہیں ٹکا دیں اور بولی۔ آپ بیٹے کو پیسے دے کیوں نہیں دیتے۔ ایک ہی تو بیٹا ہے اپنا۔ بیٹی تو پرائے گھر چلی جانی ہے۔ بیٹا ہے، آخر دوستوں کے ساتھ کچھ پارٹی وغیرہ ہو گی، آپ اسے پیسے دے دیں۔ میں نے نا چار ہو کر ذہن بنا لیا کہ اب بیٹا گھر آئے، تو پیسے دے دوں گا۔

شام کو بیٹا گھر آیا وہ مجھ سے اُکھڑا اُکھڑ سا تھا لیکن اُسے یقین تھا کہ اس کی ماں نے اس کے لئے پیسوں کی بات منوا لی ہو گی۔ میں نے اسے بلایا اور نام نہاد پدرانہ رُعب سے پوچھا کہ اتنے پیسے کرنے کیا ہیں۔ بیٹے نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا کہ دوست کو گفٹ دینا ہے۔ میں نے کہا چلو میں ایک دوست کے گفٹ سنٹر سے، گفٹ دلوا دیتا ہوں، وہ کچھ رعایت بھی کر دے گا۔ میرے بیٹے نے غصؔے سے جھنجلاتے ہوئے کہا، آپ رہنے دیں مجھے کسی کو کچھ لینا دینا نہی، نہ ہی میرا کوئی دوست ہے۔

کچھ دیر بعد اس کی امی اسے ساتھ لائی، میری جیب سے پرس نکال کر، بیٹے کو پانچ ہزار دیتے ہوئے بولی، لو جاؤ۔ خود شاپنگ کر لو، آپ کے ابو کو کیا پتہ بچوں کی جدید زمانے کی ضرورتوں کا۔ لیکن میں نے زور دے کر کہا کہ مجھے سچ تو بتاو، پھر اگر اور چاہیے ہوں تو اور لے لینا۔ اس پر بیٹے نے کہا کہ ابا، چودہ فروری کو ویلنٹایئن ڈے ہے اور مجھے اپنی گرل فرینڈ کو گفٹ دینا ہے اور اسے پارٹی بھی دینی ہے۔ میرے دماغ میں، دھوویں کا مرغولہ سا اُٹھا۔

میں نے دوسرا سوال کیا کہ پارٹی تو کر لو گے، لیکن وہ لڑکی جو تمھاری گرل فرینڈ ہے، اپنے گھر تمھارا گفٹ لے کر کیسے جائے گی اور گھر والوں کو کیا بتائے گی کہ گفٹ کس نے دیا ہے اور کیوں دیا ہے۔ میرے بیٹے نے سرسری جواب دیا کہ وہ کہہ دے گی کہ اس کی کسی سہیلی نے، انٹرنل ایگزام میں پوزیشن لینے پر گفٹ دیا ہے اور باہر چلا گیا۔

میں اور میری بیوی نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، بغیر لفظوں کے ایک ہی دعا کی کہ اللہ ایسا نہ کرے کہ چودہ فروری کو، میری بیٹی بھی یونیورسٹی سے لیٹ آئے اور اپنی کسی سہیلی کا دیا ہوا گفٹ گھر لائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *