پانی بچانے والوں کا یوم اپیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو کا ایک معروف شعر زبان زد عام ہے۔ اکثر قارئین نے پڑھا ہو گا۔

مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

کچھ یہی حال پنجاب کے ان واٹر مینجمنٹ ملازمین کا ہے جو گزشتہ پندرہ سال سے صوبے میں آبپاش پانی کی بچت کے منصوبوں پر کام کر رہے۔ یہی کام ان کے ساتھ ہی بھرتی ہونے والے دیگر تمام صوبوں کے واٹر مینجمنٹ ملازمین بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اُن میں اور اِن میں فرق یہ کہ باقی تمام صوبوں کے ملازمین کو مستقل کر دیا گیا ہے، لیکن پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے واٹر مینجمنٹ ملازمین کو مستقل کرنا تو درکنار ان کے پڑھے لکھے کمپیوٹر آپریٹرز اور دیگر اسٹاف بغیر وجہ بتائے سابق دور حکومت میں نکال دیا گیا۔ جو باقی بچے ہیں وہ پندرہ سالہ ملازمت کا حق مانگتے ہوئے دربدر بھٹک رہے ہیں۔

سال 2005 میں شروع ہونے والے پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین پراجیکٹ ”قومی پروگرام برائے اصلاح کھالہ جات“ کے تحت بھرتی ہونے والے یہ ملازمین پندرہ سال بعد منصوبے کے فیز 2 پر کام کرنے کے لیے بھرپور جوش و جذبے سے تیار ہیں۔ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان کا بنیادی ریگولرائزیشن کا حق تاحال نہیں ملا۔ دریں اثناء پنجاب کے دیگر لاکھوں دفتری ملازمین کو مستقل کر دیا گیا ہے۔ لیکن فیلڈ میں کام کرنے والے اور پانی کی بچت کے منصوبوں کی کامیابی کو یقینی بنانے والے یہ ملازمین منتظرِ انصاف ہیں۔

پنجاب بھر کے واٹر مینجمنٹ ملازمین 12 فروری بروز بدھ کو بطور یوم اپیل منا رہے ہیں۔ جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ نہ صرف پر امن ہیں بلکہ اپنے مسائل کو سڑکوں پر آنے کی بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے حل کروانے پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کے اور خاص طور پر پنجاب کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ان کی استدعا کو سنا جائے۔ انہیں مستقل کر کے دیگر ملازمین کی طرح اپگریڈ کیا جائے۔

جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب سے خصوصی اپیل ہے کہ پنجاب کے ان ملازمین کی اپیل کو سنیں اور منصف اعلی کی حیثیت سے یکساں شہری حقوق کے ضامن ہونے کے ناتے انہیں دیگر صوبوں کی طرح مستقل کرنے کا حکم صادر کیا جائے۔ پنجاب کے ہزاروں خاندان آپ کو تاعمر دعائیں دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *