احسان اللہ احسان کا فرار حکومت کی نااہلی اور ناکامی ہے یا گٹھ جوڑ: بلاول بھٹو زرداری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہماری حکومت کی نااہلی، ناکامی یا گٹھ جوڑ کی ایک اور مثال ہے، انہوں نے قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر کے باہر میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے صرف پاکستان پیپلزپارٹی کہتی تھی کہ ہمیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا اور عمران خان و دیگر سیاسی جماعتوں نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف پیپلزپارٹی کے مؤقف کا ماضی میں ساتھ نہیں دیا تاہم سانحہ اے پی ایس کے بعد اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ انتہاپسند پاکستان کے دشمن ہیں۔ اتفاق ہوا کہ یہ انتہاپسند اور دہشت گرد پاکستان اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جس شخص پر سانحہ اے پی ایس اور ملالہ یوسفزئی پر حملے کے الزامات ہیں، وہ کیسے اس ملک سے فرار ہوا؟ حکومت کو احسان اللہ احسان کے ملک سے فرار کا جواب دینا ہوگا۔ حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کہیں وہ احسان اللہ احسان کے فرار میں سہولت کار تو نہیں تھی؟

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ سابق صدر کو اڈیالہ میں قید کرسکتے ہیں مگر احسان اللہ احسان کو جیل میں نہیں رکھ سکتے۔ حکومت احسان اللہ احسان کے فرار کے بعد اب کس منہ سے سانحہ اے پی ایس کے متاثرین کو جواب دے گی؟

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے لئے آج تک کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی۔ سانحہ اے پی ایس کے متاثرین آج بھی جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سانحہ اے پی ایس کے متاثرین آج بھی پوچھ رہے ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ یہ حملہ کیسے ہوا مگر اس کا جواب نہیں ملتا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عوام حکومت سے احسان اللہ احسان کے فرار کا جواب چاہتے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد احسان اللہ احسان کے فرار پر حکومت سے جواب چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے سوال اٹھایا کہ ایف اے ٹی ایف پر حکومت اب کس منہ سے قانون سازی کرے گی۔ حکومت عالمی برادری کو کیا جواب دے گی کہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا دہشت گرد ملک سے فرار ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *