نصرت جہاں کا سندور اور زائرہ وسیم کی دین داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماج کے مذہبی اور لبرل طبقوں کو اگر آپ دو فکری انتہائیں مان لیں اور اس بات کا موازنہ کریں کہ ان میں سے اپنے نظریات پر کون زیادہ ثابت قدم ہے تو یقین مانئے آپ کو یہ دونوں ہی کبھی نہ کبھی مایوس ضرور کریں گے۔ اپنے ہی طے شدہ اصولوں سے انحراف بھی آپ کو دکھائی دے جائے گا اور آپ یہ بھی پائیں گے کہ ایک معاملے میں جس بات کو دلیل بنایا گیا کسی اور معاملے میں اس اصول کو گھر کے پچھواڑے پھینک دیا گیا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ہم دو مثالیں لئے لیتے ہیں۔ بنگالی اداکارہ نصرت جہاں کے ذریعہ سندور جیسی علامتوں کا استعمال اور کشمیر کی نوعمر اداکارہ زائرہ وسیم کا فلمی دنیا سے کنارہ کر لینا۔ یہ دونوں واقعات ہماری بے اعتدالیوں پر خوب گواہی دیتے ہیں۔

اول تو جہاں غربت، جہالت اور بے روزگاری جیسے مسائل منہ اٹھائے کھڑے ہوں وہاں ایک نوعمر لڑکی کا فلمی دنیا سے کنارہ کرنا اتنی بڑی خبر بن جائے گا میں نے سوچا نہ تھا۔ زائرہ وسیم نے فلمی دنیا سے علیحدگی کا جیسے ہی اعلان کیا ایک اودھم سا مچ گیا۔ مذہبی حلقوں نے اسے نیکی سمجھ آنے، خدا کے پیغام کی حقانیت ظاہر ہونے، لڑکی کی آخرت سدھر جانے اور دنیاوی لہو و لعب کے منہ پر طمانچہ پڑنے سے تعبیر کیا۔

وہ طبقہ جسے عرف عام میں لبرل کہا جاتا ہے اس نے اس پر مایوسی ظاہر کی اور اس اندیشہ کا اظہار کیا کہ زائرہ وسیم کے اس فیصلے کے پیچھے قدامت پسندوں کا دباؤ کارفرما ہے۔ ان سب میں ایک گروہ وہ بھی تھا جسے زائرہ کا فیصلہ اس لئے ناگوار گزرا کہ اس سے ایک مخصوص مذہبی طبقے کا بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے۔ ان تینوں طبقات کے ردعمل کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جمہوری معاشرے میں فرد کو اپنے بارے میں فیصلے لینے کا حق حاصل ہے۔ زائرہ وسیم کا فلمی دنیا سے کنارہ کرنا اور بنگالی اداکارہ نصرت جہاں کا سندور لگانا یہ ان دونوں خواتین کا ذاتی فیصلہ ہے۔ ہمیں بس اتنا حق حاصل ہے کہ اخلاق کے دائرے میں اپنے اعتراضات یا دلائل سامنے رکھ دیں۔

زائرہ وسیم کے فلمی دنیا چھوڑنے کے فیصلے پر مذہبی طبقے کی خوشی بنتی ہے۔ اس سے ان کا یہ موقف مضبوط ہوتا ہے کہ دنیاوی چمک دمک ایک فریب کے سوا کچھ نہیں ہے اوراگر کوئی چیز حقیقت ہے تو وہ اس شے میں مضمر ہے جسے ہم دین کہتے ہیں۔ زائرہ وسیم نے فلمی دنیا چھوڑنے کا اعلان جس خط میں کیا اس میں بھی اسی امر پر زور دیا گیا تھا کہ سنیما میں کام کرنے سے آخرت ان کے ہاتھوں سے چھوٹی جا رہی تھی اور وہ خدا سے دور ہو رہی تھیں۔ اب ظاہر ہے جس طرح زائرہ کو فلمی دنیا سے الگ ہونے کا حق ہے ویسے ہی مذہبی طبقے کو اس فیصلے پر خوشیاں منانے کی آزادی ہے لیکن اسی مذہبی طبقے سے میری چند گزارشات ہیں۔

پہلی: مذہبی طبقے کی دلیل ہے کہ زائرہ وسیم کو اپنے بارے میں فیصلہ لینے کی آزادی ہے اس لئے ان کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس طبقے سے میری گزارش ہے کہ اپنی اسی دلیل کو اصول بنا لیں اور جب کوئی مسلمان خاتون اپنے سلسلہ میں کوئی فیصلہ لے تو اس کا اسی طرح احترام کریں جیسا وہ لبرل طبقے کو نصیحت کر رہے ہیں۔ زائرہ نے فلمی دنیا چھوڑ دی یہ ان کی آزادی ہے اور اگر کوئی مسلمان لڑکی فلمی دنیا میں جانا چاہے تو یہ اس کا فیصلہ ہے۔ جس منطق سے زائرہ وسیم پر تنقید غلط ہے اسی دلیل سے ایسی مسلمان خواتین کو ہراساں کرنا ٹھیک نہیں جو دینی طبقے کے طے کردہ دائرے سے باہر جا رہی ہو۔

دوسری بات: سنیما بذات خود کوئی بری یا اچھی شے نہیں ہے بلکہ یہ ترسیل کا ایک وسیلہ ہے۔ اب یہ سنیما بنانے والوں پر ہے کہ وہ کس بات کی ترسیل کے لئے اس ذریعہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے مسائل کو اٹھانے میں سنیما نے شاندار کردار ادا کیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے چونکہ سنیما کے نام پر صرف کترینہ اور کرینہ کو دیکھا ہے اور ہماری دانست فلمیں جب پیار کیا تو ڈرنا کیا؟ کے سوا کچھ نہیں اس لئے ہم سنیما کو یبک جنبش قلم حرام، غلط اور لہو و لعب قرار دے دیتے ہیں۔

ضرورت یہ تھی کہ ہم بھی اس میڈیم کو استعمال کرتے اور ایسی فلمیں تیار کی جاتیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کے سماجی مسائل اور تحفظات کو آواز دی جاتی۔ ایسا کرنے کے بجائے ہم سنیما کی یکسر تکذیب میں جٹ گئے۔ اگر آرٹ کو اظہار کے ذریعہ کے طور پر رواج دیا گیا ہوتا اور ہمارے اجتماعی شعور میں اتنی پختگی ہوتی کہ اپنے مسائل کو دنیا تک لے جانے کے لئے سنیما جیسے میڈیم استعمال کر پاتے تو آج زائرہ وسیم کو فلمی دنیا سے الگ ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

زائرہ وسیم کے فیصلے پر لبرل طبقے کا ردعمل بھی یکساں طور پر حیران کن ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ جس گروہ کے یہاں فرد کی آزادی اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہوا کرتی ہے، اس طبقہ میں ایک لڑکی کے اپنے بارے میں کیے گئے فیصلے پر ایسی بے چینی ہو۔ البتہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ زائرہ وسیم کے اس فیصلے کے پیچھے کسی قسم کا دباؤ تو نہیں؟ اس کا جواب اگر کوئی دے سکتا تھا تو وہ خود زائرہ وسیم ہی ہیں۔ ایسے میں جبکہ لبرل طبقہ میں اتنا تلاطم مچا ہوا تھا زائرہ کی خاموشی حیران کر دینے والی تھی۔

اگر زائرہ پر کوئی دباؤ تھا تو وہ کسی وسیلے سے اس کے بارے میں دنیا کو بتا سکتی تھیں۔ اس طرح انہیں اس جبر سے نجات مل سکے گی جس کا انہیں سامنا ہے۔ اگر صورتحال برعکس ہے اور ان پر کوئی دباؤ نہیں رہا تو انہیں یہ بات بھی بتا دینی چاہیے تھی تاکہ لبرل طبقے کی طرف سے پیدا کی جا رہی غلط فہمی کا ازالہ ہو جاتا۔ زائرہ وسیم کی خاموشی نہ تو لبرل طبقے اور نہ ہی مذہبی طبقے کے مفاد میں تھی، ہاں اس خموشی سے غلط فہمیاں اور اندیشے ضرور پیدا ہوئے۔

یہاں پر یہ وضاحت ہو جانی چاہیے کہ اگر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ زائرہ وسیم نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے لیا ہے تو پھر لبرل طبقے کی مخالفت خود اس کے طے شدہ اصولوں سے انحراف ہوگی۔ اگر کسی کو زبردستی نقاب پہنانا فرد کی آزادی کی خلاف ورزی ہے تو نقاب پر پابندی بھی فرد کی آزادی کی پائمالی قرار دی جائے گی۔

زائرہ وسیم کے فیصلے سے مایوس ہونے والا ایک طبقہ وہ ہے جو لبرل نظریات کا حامی نہیں ہے۔ اس طبقہ کی مایوسی کی وجہہ یہ ہے کہ زائرہ کے قدم سے مخصوص مذہبی طبقے کا موقف مضبوط ہو رہا ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ ٹی وی چینلوں پر اس سلسلہ میں کتنی بحثیں ہوئیں۔ اس سلسلہ میں میرا موقف یہ ہے کہ مولوی صاحبان کو زائرہ وسیم سے متعلق ٹی وی بحثوں میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ یوں بھی یہ ذرا عجیب سا لگتا ہے کہ وہی مولوی صاحبان انہیں ٹی وی بحثوں میں نصرت جہاں کے سندور لگانے پر تنقید کرتے ہیں اور زائرہ وسیم کے معاملہ میں انسانی آزادی کی دہائی دیتے ہیں۔

کیسی حیرت کی بات ہے کہ وہ مذہبی طبقہ جو زائرہ وسیم کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انسانی آزادی کی دلیلیں دیتے نہیں تھک رہا تھا، اسی کو اس وقت تکلیف ہونے لگی جب ایک مسلمان اداکارہ نصرت جہاں نے سندور لگا لیا۔ اب مذہبی طبقہ کو انسانی آزادی کا اصول یاد نہیں رہا اور اس نے نصرت جہاں کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نصرت جہاں کو طعنے دیے گئے کہ صرف سندور ہی کیوں، اپنا نام بھی بدل لو۔ ادھر جو لبرل طبقہ زائرہ وسیم کے فلمی دنیا سے الگ ہونے کو ان کے حق خود ارادیت کے نام پر گوارا کرنے کو تیار نہیں تھا اسی طبقے نے نصرت جہاں کے دفاع میں انسانی آزادی اور فیصلہ لینے کے حق کی دہائیاں دینی شروع کر دیں۔ یہ بظاہر دو چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں لیکن ان میں ایک بڑا پیغام پوشیدہ نظر آتا ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ اور لبرل طبقہ دونوں ہی حالات پر طے شدہ اصولوں کا انطباق نہیں کرتے بلکہ پہلے اس بات کو دیکھتے ہیں کہ یہ صورتحال ہمارے تعصبات سے میل کھا رہی ہے یا نہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 92 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *