ضلع ناظم مانسہرہ سردار سید غلام صاحب کی دلچسپ شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابقہ ضلع ناظم مانسہرہ سردار سید غلام صاحب انتہائی مخلص، شفیق، ملنسار اور مخلص انسان ہیں۔ سابقہ ضلع ناظم صاحب سے میری پہلی ملاقات ضلع کونسل میں ہوئی، انتہائی مشفقانہ انداز میں اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود ناظم صاحب نے وقت نکالا اور علاقائی پسماندگی اور خصوصاً تعلیم و تربیت کے موضوع پر دلچسپ اور فکر انگیز گفتگو کی، ناظم صاحب کی گفتگو سے واضح طور پر میں نے محسوس کیا کہ واقعی درد دل رکھنے والے انسان سے بات ہو رہی ہے۔ سابقہ ضلع ناظم صاحب کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے پاس ضلع ناظم کا عہدہ ہے تب تک اور اس کے بعد بھی ہماری ترجیعات میں تعلیم و تربیت کو فروغ دینا پہلے نمبر پر رہے گا۔

اس ملاقات کے بعد میں کئی دن تک سوچتا رہا کہ ایک ایسا مخلص شخص جس کا خواب (بلا تفریق، قوم، علاقہ اور سیاسی جنبہ داری) اجتماعی طور پر مستقبل کی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ دیکھنا ہے اور بدقسمتی سے تعلیم و تربیت سے بسب غربت و افلاس محروم رہ جانے والوں کا اس قدر احساس ہے کہ جس کا اظہار کرتے ہوئے لفظ جذبات کی گواہی دیتے ہیں، اس سے بہتر عوامی نمائندہ بھلا اور کون ہو سکتا ہے؟ خیر اس کے بعد بھی ناظم صاحب سے ملاقات ہوتی رہی اور ہر بار ناظم صاحب نے یہی کہا کہ ”اب نوجوانوں کو یکجا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے اجتماعی مفادات کے لیے متحرک کرنا آپ جیسے لوگوں کی ذمہ داری ہے، نیز تمام پڑھے لکھے نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں تعلیم و تربیت کے فروغ کے لیے عملی میدان میں قدم رکھیں“۔

ناظم صاحب نے جن جذبات و خیالات کا میرے سامنے اظہار کیا ان کے لفظ ان کی سچائی کے شاید ہیں، مگر عملی میدان میں بھی ناظم صاحب نے ثابت کر کے دکھایا ہے کہ ”واقعی ناظم صاحب کا خواب نسلوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ دیکھنا ہے“ اپنے چار سالہ عرصہ اقتدار میں ناظم صاحب تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی، نوجوانوں کو اس مشن کے لیے متحرک کیا اور بنیادی تعلیمی مسائل کو بھی حل کیا، میں سمجھتا ہوں کہ ناظم صاحب اس جذبے اور درد دل کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت انہیں مات نہیں دے سکتی۔

اپنے اقتدار میں ناظم صاحب نے باوجود تمام تر مشکلات کے ناظم صاحب نے ضلع بھر کو اٹھائیس سو سے زاید چھوٹے بڑے منصوبے دیے، جن میں سے بیشتر تکمیل پا چکے ہیں اور کچھ ابھی تکمیلی مراحل میں ہیں۔ سابقہ ضلع ناظم صاحب کی ضلع کے لوگوں سے محبت کے ثبوت کے طور پر اس بڑی اور کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی کہ ناظم صاحب نے ضلع کونسل کے تمام ممبران چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا اتحادی تعلیم و تربیت کے فروغ کے لیے کام کرنے کی خصوصی ہدایت کی، اور عوامی مسائل کے حل کیلے ممبران ضلع کونسل کو ساتھ لے کر چلے، اور الحمد و اللہ اپنا چار سالہ دور کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔

سابق ضلع ناظم سردار سید غلام صاحب چونکہ متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اسلییان شخصیت کو ان کی عاجزی و انکساری اور ملنساری مزید چار چاند لگا دیتی ہے، خصوصاً نوجوان طبقے کو توجہ دیتے ہیں، ضلع بھر کے نوجوانوں سے رابطے میں رہنا ان سے مشورے لینا، مشورے دینا، رہنمائی کرنا، ان کے مسائل حل کرنا سردار سید غلام صاحب کا مشغلہ ہے۔ کیوں نہ ہو کہ انہوں نے سیاسی تربیت جس شخصیت سے پائی ہے اس کی شرافت، عاجزی و انکساری اور عوامی جذبات کی قدردانی کی گواہی اپنے تو اپنے غیر بھی دینے پر مجبور ہیں، سابقہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب جنہوں نے اپنی ساری زندگی غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اٹھانے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے وقف کی اور کامیابی کے ساتھ ان لوگوں کو آج آزاد اور خود مختار زندگی گزارنے کے قابل بنا دیا جو کبھی سانس بھی جاگیر داروں کی مرضی بغیر نہ لے سکتے تھے۔

سابقہ ضلع ناظم سردار سید غلام صاحب کی دلچسپ شخصیت کے کئی مثبت پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک کا تذکرہ ایک تحریر میں ممکن نہیں، ناظم صاحب کے ساتھ مختلف جگہوں پر جانے کا بارہا اتفاق ہوا، ناظم صاحب کے توسل سے سردار محمد یوسف صاحب سے بھی بارہا ملاقات کا موقعہ ملا یہاں تک کہ ان دونوں شخصیات کو بہت قریب سے دیکھ لیا، سردار صاحب اور ناظم صاحب کو بہت مخلص، ایماندار، پرہیز گار، دیندار، ملنسار اور عوامی خدمت گار پا کر یقن ہوا کہ عوامی نمائندگی واقعی ایسے لوگوں کا حق ہے۔ سردار محمد یوسف صاحب کی خدمات کے بارے پہلے دو تین مضمون لکھ چکا انشائاللہ موقع ملا تو پھر ان کی خدمات کو نئے ڈھنگ سے واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

درصل ضلع مانسہرہ مختلف بالائی علاقہ جات پر مبنی ایک بڑا ضلع ہے، آبادی کی کثرت کی وجہ سے یہاں لوگوں کے مسائل بھی پیچیدہ ہیں جن کے مستقل حل کے لیے ضلع سطع پر موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہمیشہ رہتی ہے لہذا یہاں مخلص، دیانتدار، لوگوں کے مسائل کو سمجھنے والی اور تعصب سے پاک قیادت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا مستقل حل تلاش کرنے کا گر چونکہ ایک کروڑ پتی نہیں جانتا اس کے لیے متوسط طبقے کے قابل لوگ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں، گزشتہ چار سال دور میں سردار سید غلام صاحب نے ضلعی نظامت کی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہی عوام کی نمائندگی کے حقدار ہیں، البتہ فیصلا چونکہ عوام نے کرنا ہے اس لیے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے صرف امید کر سکتے ہیں کہ سردار سید غلام صاحب کو پہلے کی طرح دوبارہ بھی ضلع یا تحصیل کی سطع پر لوگ اپنی نمائندگی کیلے منتحب ضرور کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد احمد شاہ کاظمی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *