بزرگوں کی اہمیت اور کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک خاندان میں بزرگوں کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔ گھر میں سکون بڑوں کے دم سے ہی ہوتا ہے اور برکت بھی۔ اب بزرگ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ساری زندگی گزارتے ہیں اور اپنی زندگی سے تجربات اکٹھے کرتے ہوئے بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں تو ایک مضبوط تن آور درخت کی طرح اپنی اولاد اور آنے والی نسل کے لیے ٹھنڈی چھاؤں بن جاتے ہیں۔ اپنے علم اور تجربے کی روشنی سے ان کی زندگیوں کو منور کرتے ہیں۔ خاندان میں آنے والے نئے لوگوں (یعنی بہوؤں ) کو نہ صرف گھر میں بلکہ دل میں بھی جگہ دیتے ہیں۔ اور اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

بہوؤں کو گھر کا اور اپنا ایک حصہ سمجھتے ہیں ان کو عزت و احترام دیتے ہیں۔ ہر مشکل و پریشانی میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کو گھرکے ہر چھوٹے بڑے فیصلوں میں شامل کرتے ہیں ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دیتے ہیں۔ گھر کا خوبصورت ماحول بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بزرگ وقت کے ساتھ ساتھ خود کو اور اپنی سوچ کو بدلتے ہیں۔ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنا کردار نبھاتے ہیں۔

پھر آتے ہیں وہ لوگ جو بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچنے پر بچوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں کہتے ہیں نہ کہ بڑھاپے میں انسان بچہ بن جاتا ہے بالکل اسی طرح وہ توجہ کے طالب ہو جاتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ نفسیاتی مسلئہ زیادہ ہو جاتا ہے اب وہ چاہتے ہیں کہ ان کو اہمیت ملے ’ان کی ہر بات بغیر چوں و چراں کے مان لی جائے۔ اور ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہو‘ جو انھوں نے کہہ دیا وہی ہونا چاہیے ’اسی طرح اور اسی وقت ہونا چاہیے۔ لیکن اب چونکہ بہو گھر آتی ہے نئے ماحول سے آتی ہے‘ اس کی اپنی خواہشات اور کچھ خواب ہوتے ہیں اپنی نئی زندگی کو لے کر ’بس تبھی مسلئے مسائل بنتے چلے جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے مسائل کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔

بہو چاہتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اور اپنے طریقے سے زندگی گزارے اپنے طریقے سے اولاد کی پرورش کرے۔ اس کو ذہنی سکون اور خوشیاں چاہئیں۔ ہر بات پر تو تو ’میں میں‘ نوک جھونک کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔ گھر کے حالات بگڑتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں بزرگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ان چیزوں کو سدھارنا چاہیے۔ رشتوں کو باندھنا چاہیے بہو کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھنا چاہیے اور چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کر کے دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے۔ اگر وہ خوشی سے کام کر رہی ہے اور خدمت سرانجام دے رہی ہے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے نہ صرف اس کے سامنے بلکہ اس کی غیر موجودگی میں بھی۔

کہتے ہیں نہ کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں بالکل اسی طرح ساس بہو کی بھی نوک جھونک چلتی رہتی ہے اب ہونا یہ چاہیے کہ اگر ساس بہو میں کوئی ایسی بات ہو گئی ہے تو سسر صاحب اپنا کردار ادا کریں اور مسلئے کو بڑھنے نہ دیں۔ اگر بہو اور نند میں نوک جھونک ہو گئی ہے تو بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں اور بہو کو اپنی بیٹی سمجھیں۔ یہ جو بزرگ ہوتے ہیں ان کا بہت بڑا دل ہوتا ہے اگر یہ اپنا کردار مثبت انداز میں نبھائیں تو مسلئے چٹکی بجا کر حل ہو سکتے ہیں۔

اور اگر بہو نوکری کرتی ہے تو اس کے مددگار بن جائیں گے تو اس کے دل میں عزت بڑھے گی۔ گھر میں سکون اور خوشیاں رقص کریں گی۔ یہ تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ عزت دیں گے تو عزت ملے گی اسی طرح پیار بانٹیں گے تو پیار ملے گا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

برتن ہر جگہ کھڑکتے ہیں لیکن اگر گھر کے بڑے سمجھداری کا ثبوت دیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی کا پہاڑ بنانے کی بجائے ان کا حل تلاش کریں تو گھر جنت بن سکتا ہے۔ گھر کے بڑوں کو اپنے تجربات سے ’اپنی سوچ و فہم سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے سب کو جوڑ کر رکھنا چاہیے کیونکہ یہ رشتے جتنے مضبوط ہوتے ہیں اتنے ہی نازک ہوتے ہیں رشتے نبھانے میں صدیاں گزر جاتی ہیں لیکن ٹوٹنے میں ایک پل بھی نہیں لگتا اور جب یہ ٹوٹ جائیں تو رشتوں میں دڑاڑ آ جاتی ہے جو ہزار کوشش کے باوجود اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے۔ لہذا ہم سب کو اپنا اپنا مثبت کردار ادا کر کے زندگی کو خوبصورت بنانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply