محسن داوڑ نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر حکومت سے تین سوال پوچھ لئیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی اسمبلی میں پیر کو طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ملک سے مبینہ طور پر فرار ہونے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ اس حوالے سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن محسن داوڑ نے نکتہ اعتراض پر استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی ذمہ دارانہ بیان سامنے نہیں آیا کہ احسان اللہ احسان ملک سے فرار ہو گیا ہے یا اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں آنے والی خبریں غلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے تین سوال کر رہا ہوں کہ احسان اللہ احسان کیسے گرفتار ہوا؟ اسے کس عدالت میں پیش کیا گیا؟ اور اسے کس جیل میں رکھا گیا تھا؟ محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر ایوان کی ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ گرفتاری کے وقت احسان اللہ احسان کو ایک بین الاقوامی مجرم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اب وہ اچانک ہی ہاتھوں سے نکل گیا۔ اگر کوئی مک مکا ہوا ہے یا این آر او ہوا تو ان کیمرہ بریفنگ میں ہی ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔ اگر ایف اے ٹی ایف نے اس بارے میں پوچھ لیا تو حکومت کے پاس کیا جواب ہو گا۔

خیال رہے کہ سیکیورٹی حکام نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply