جنسی تعلقات سے انکار پر دبئی میں مقیم پاکستانی خاتون کو بلیک میل کرنے والا پاکستانی رشتے دار گرفتار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دُبئی میں ملازمت کی تلاش میں آنے والی پاکستانی خاتون کو اُس کے ہم وطن مرد نے ناجائز تعلقات بنانے سے انکار پر فیس بک پر بدنام کر ڈالا۔ خاتون سوشل میڈیا پر شرمناک حوالے سے اپنی تصویر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جس میں اُس کا موبائل نمبر دینے کے ساتھ اُسے ایک جسم فروش خاتون ظاہر کیا گیا تھا۔

خاتون نے یہ شرمناک حرکت کرنے والے 40 سالہ پاکستانی مرد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ جس کے بعد اُس شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ 35 سالہ پاکستانی خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ سال روزگار کی تلاش میں دُبئی آئی تھی جہاں وہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں ٹھہر گئی۔ ہم وطن ملزم رشتہ دار کے والد نے اُسے اپنے فلیٹ میں یہ کہہ کر ٹھہرا دیا تھا کہ جب تک اُسے نوکری نہیں مِل جاتی، وہ وہاں پر رہ سکتی ہے۔

اسی دوران ملزم بھی فلیٹ پر آنے لگا اور اس پر زور دینے لگا کہ اگر وہ اس کے ساتھ جنسی تعلّقات بنا لے گی تو وہ اس کے تمام خرچے اُٹھائے گا۔ ورنہ اُسے فلیٹ خالی کرنا پڑے گا۔ ملزم خاتون کی مجبوری سے فائدہ اُٹھا کر اُسے دِن رات جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے لگا۔ خاتون جب بھی ملازمت کے لیے کوشش کرتی تو ملزم اُسے یہی کہتا کہ وہ بس اس کی ہوس پُوری کرتی رہے، اُسے نوکری کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خاتون کچھ عرصہ تک تو زیادتی سہتی رہی پھر اُس نے تنگ آ کر ایک اور جگہ رہائش اختیار کر لی تو اُس کا رشتہ دار ملزم اُس کا دُشمن بن گیا۔ پاکستانی ملزم نے اپنے اور خاتون کے مشترکہ رشتہ داروں کو فیس بُک پر اُس کی نامناسب تصویریں بھیجنا شروع کر دیں اور ساتھ میں یہ شرمناک پراپیگنڈہ بھی کرنے لگا کہ وہ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث ہو گئی ہے۔

خاتون نے بتایا ”ملزم نے فیس بُک پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر میری نجی نوعیت کی تصویریں پوسٹ کیں ساتھ میں میرا رابطہ نمبر بھی دے کر مجھے ایک جسم فروش خاتون ظاہر کیا گیا تھا۔“میں اپنے رشتہ دار کی اس گھناؤنی حرکت پر شدید مشتعل ہو گئی اور اس کے خلاف الرشیدیہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرا دی۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد ملزم کے زیر استعمال موبائل فون سے بنائے گئے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کر لیا۔ پاکستانی ملزم کے خلاف 27 فروری 2020ء کو مقدمہ سُنایا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *