بڑھتی مہنگائی عوام کے خلاف سازش!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشی بحران کے حوالے سے پاکستان کئی طرح کی مشکلات کا شکار ہے جن پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، مگر ایک مسئلہ جس کی وجہ سے عام عوام سب سے زیادہ پریشان ہیں، روز مرہ استعمال کی ضروری اشیا کی گرانی ہے۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے انہیں مزید بے حال کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا سب سے زیادہ ادراک خود وزیراعظم عمران خان کو ہے اور سب سے زیادہ فکر مند بھی وہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا اظہار اُن درد مندانہ اقدامات سے ہوتا ہے جو ان کی حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور نادار طبقے کو ریلیف دینے کے لئے کر رہی ہے۔

اس ضمن میں وزیراعظم سمیت حکومتی وزراء بار ہا مہنگائی کے کم ہونیکی نوید سناتے رہتے ہیں، مگر مہنگائی کا کم ہونا تو کجا ’اس میں مزید اضافہ ہی ہوتا نظر آیا ہے۔ اس کے باوجود اسدعمر ایک بار پھر قوم کو یہی نوید سنار ہے ہیں کہ تین ہفتوں میں مہنگائی کم ہونا شروع ہو جائے گی، لیکن جو کام ڈیڑھ سال میں نہیں ہوا، تین ہفتے میں کیسے ہو جائے گا، یہ نہیں بتایا جارہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف حکومت نے ورثے میں ملی زبوں حال معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ہرممکن کوشش کررہی ہے۔

اس حوالے سے قومی ادارے ہی نہیں، بین الاقوامی ادارے بھی معیشت کی بحالی کا اعتراف کرچکے ہیں جس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان بارہا عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ہدایات اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کرچکے ہیں، مگر وزیراعظم کی ہدایات و احکامات کے باوجود نہ مہنگائی کنٹرول ہوتی نظر آرہی ہے اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کا ریلیف دیا جارہا ہے۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے آئے روز عوام کو دل خوش کن اعلانات کو اب عوام محض سیاسی بیانات سے تعبیر کرنے لگے ہیں۔

وزیراعظم کی نیت پر شک نہیں کہً وہ عام آدمی کی فلاح اور عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہیں اور یہ کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن وزیراعظم جب کسی ایک مسئلے پر اتنی سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں اور ہدایات بھی جاری کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ عوام کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے۔ اگرساری سرکار مل کر بھی ایک مسئلہ حل نہ کر پائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیوں ایک ہی مسئلے پر بار بار وزیر اعظم کو ہدایات جاری کرنا پڑتی ہیں، اس سے ناصرف وزیراعظم کی ساکھ خراب ہوتی ہے، بلکہ تمام متعلقہ وزراء، اداروں اور شعبے سے منسلک افراد کی اہلیت بھی مشکوک ہونے لگتی ہے۔

حکومت خود ایسے مواقع فراہم کرتی ہے کہ اس پر تنقید کی جائے، حکومت کے فیصلے اوروزراء کے جملے خود انہیں تنقید کی زد میں لے آتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر مشیر خزانہ کو بلا کر ہدایت کی ہے کہ عوام کو ریلیف دیں ورنہ حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وزیراعظم کا اپنے وزراء اور مشیروں سے ایسا کہنا قابل تحسین، مگر 16 ماہ تک توگزشتہ حکومتوں کی لوٹ مار کا رونا رو یا جاتا رہا کہ ان کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے، آخر کب تک سابق حکومتوں کی لوٹ مار کا رونا چلے گا۔

عوام الزامات کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں، عوام کو اس سے غرض نہیں کہ ماضی میں کیا ہوا، وہ نئی حکومت سے فوری رلیف چاہتے ہیں، حکومت کوکھوکھلے وعدوں اور دعوؤں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ عام آدمی کے لیے ہر آنے والے دن بڑھتی مہنگائی کے سبب زندگی مشکل ترین بنا رہا ہے۔ حکومت مہنگائی بڑھنے کا مافیاز پر الزام لگاتی ہے، لیکن یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ آٹے، چینی کے مافیاز بھی حکومت میں ہی بیٹھے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بجا طور پر سوال اٹھایا ہے کہ وزیراعظم، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی آٹا اور چینی ملوں کی تلاشی کیوں نہیں لے رہے ہیں، یہی بات امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی کہہ چکے ہیں کہ اب یہ سلسلہ نہیں چلے گا کہ تیرا چور مردہ باد، میرا چورزندہ باد۔ حکومت کو اپنے احتسابی نعرے کو تقویت دینے کے لیے بلا امتیاز شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔

وزیراعظم کے مہنگائی میں کمی لانے کے اعلانات اپنی جگہ خوش آئند ہیں، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست راستہ نہیں ہے۔ آٹا، گھی، چینی، دالیں سستی کرنے کا حکم تو دے دیا گیا، لیکن یہ کیسے سستی ہوں گی، کسی کو خبر نہیں ہے۔ ملک میں بڑھتی مہنگائی کے پیچھے حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت شامل ہے، کیونکہ مہنگائی مافیاز کو سیاسی پارٹیوں کی اشیرباد حاصل ہے۔ عالمی بینک کا مشیر تو کبھی مہنگائی کم نہیں کرسکتا، وہ تو نئے ٹیکس لگانے اور عوام کا خون چوسنے کی تدابیر ہی بتا سکتا ہے، جبکہ اپوزیشن قائدین بھی عوام کی بجائے اپنے بچاؤ کے لیے عوام کو استعمال کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے غریبوں کو مفت راشن دینے کا اعلان کیا جو اچھی بات ہے، اس طرح کچھ لوگوں کو کھانا میسر آجائے گا، لیکن بڑی تعداد میں عوام کے لیے درست راستہ نہیں ہے۔ اصل اقدامات اشیائے ضروریہ کی وافر مقدار میں دستیابی اور ان کی قیمتوں پر کنٹرول ہے۔ ریاست مدینہ کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، لیکن ریاست مدینہ والے کام نہیں کیے جا رہے ہیں۔ ریاست مدینہ بنانے کے لیے سودی نظام کا خاتمہ کرنا ہو گا، اگر ریاست سودی قرضے لے کر سودی نظام چلائے گی تو کیسے ریاست مدینہ بنے گی۔

دراصل ریاست سودی نظام کے زیر اثر اللہ اور رسول سے جنگ کرنے کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، آئی ایم ایف نے تین سو ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا حکم دیا ہے، چونکہ ریاست سودی نظام میں جکڑی ہے تو شرائط توماننا ہی ہوں گی، اس کے نتیجے میں بحران در بحران پیدا ہو نالازمی امر ہے، حکومت کو زبانی کلامی باتوں اور الزامات کی سیاست سے نکلتے ہوئے اپنا قبلہ درست کرنا ہو گا۔ تحریک انصاف کو اپنے منشور کو رویو کرنا ہوگا، قرضوں سے نجات حاصل کرنے کی مروجہ حکمت عملی پر عملدرآمد کرتے ہوئے خوداری کے طرز عمل کو فروغ دینا ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان کی سیاسی ٹیم کا کردگی دکھانے کی بجائے صرف وزیراعظم کے دفاع میں لگی ہوئی ہے۔ اگر اس ٹیم کو اپنے علاقوں میں بھیج دیا جائے جہاں وہ ایک ماہ تک عوام سے براہ راست رابطہ رکھیں اور عوام مسائل کے تدارک کی عوام سے تدابیر حاصل کریں تو باہمی مشاورت سے یہ نالائق ٹیم بھی افسر شاہی سے بہتر نتائج لانے میں کا میاب ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نے جو کلیہ پیش کیا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا تو حکومت کرنے کا حق نہیں ہے، اس کلیہ کے اعتبار سے حکومت اپنا حق کھو چکی ہے، دراصل بڑھتی مہنگائی عوام کے خلاف ایک سازش ہے جس میں حکومت، اپوزیشن برابر کے شریک کار ہیں۔

حکومت کی ناقص کارکردگی اور بڑھتی مہنگائی کے سبب پہلے ہی بہت سی سازشی آفواہیں سر گردش ہیں، میاں شہبازشرف کی لندن سے فوری واپسی پرنئی بچھتی سیاسی بساط کی نشاندہی کررہی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کی مہنگائی بحران پر ناقص حکمت عملی نے اپوزیشن کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے، اگر حکومت نے وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مہنگائی بحران پرفوری قابوپانے کی موثر حکمت عملی نہ اپنائی اور اپنے ریلیف پیکج کے اعلانات پر عملدرآمد نہ کیا تو حکومت کی گرتی دیوار کو دھکا دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی، وہ اپنی ناقص کارکردگی کے بوجھ تلے خود ہی گرجائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *