تعریف کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کے روز ایک قریبی عزیز کی کتاب کی تقریبِ رونمائی تھی۔ بہت سے لوگ آئے، بہت سے نہیں بھی آئے، نہ آنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کے آنے کی بہت امید تھی۔ نہ آنے کی دو وجوہات نمایاں ہو کر سامنے آئیں : ایک تو یہ لوگوں کو کتاب میں دلچسپی بہت کم رہ گئی ہے۔ دوسری وجہ ہمارے ہاں چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کی بجائے، چھٹیوں میں ملتوی شدہ کام نمٹانے کو رواج عرصہ دراز سے ہے۔ ضروری امور کی ایک لمبی فہرست چھٹی والے دن ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

توقع کے عین مطابق تقریب دیر سے شروع ہوئی کہ خالی کرسیوں کو مخاطب کر کے تقریریں کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خدا خدا کر کے تقریب کا آغاز ہوا تو حاضرین کی دیرینہ شدید خواہش کہ تقاریر کا سلسلہ جلد ختم ہو، لیکن جنہوں نے کئی دنوں سے بولنے کی تیاری کر رکھی تھی، وہ کہاں چھوڑنے والے تھے، جی بھر کے بولے اور خوب بولے۔ لوگ بور ہوتے رہیں تو ہوں، جب تقریب میں آگئے ہیں تو سوچنا چاہیے کہ دیر سویر ہو جاتی ہے۔ اکثر تقاریر روایتی تھیں، جیسی کہ کتاب کی رونمائی میں ہونی چاہیئں تھیں۔ سب نے داد پائی لیکن ایک نے خاص قسم کی داد پائی۔ اس کی پسندیدگی کی دو وجوہات تھیں : ایک تو انہوں نے انتہائی مختصر بات کی اور دوسری وجہ یہ کہ کام کی بات کی جو سب کے دل کو لگی۔

انہوں نے اپنے ایک چینی ٹرینر سے ہونے والی اپنی گفتگو کا خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے چینی ٹرینر سے چین کی ناقابلِ یقین ترقی کی وجہ دریافت کی۔ اس کا جواب یہ تھا کہ اور وجوہات بھی ہیں لیکن ایک وجہ یہ ہے کہ ہم کام کرنے والے بندے کے کام میں خواہ مخواہ کے کیڑے نکالنے کی بجائے اس کے کام کی تعریف کرتے ہیں باقاعدہ تالیاں بجا کر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس قسم کی پزیرائی سے اس کے اندر مزید اور بہتر کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا رخ اب کتاب اور اس کے مصنف کی طرف موڑا کہ اس کتاب میں نقص نکالنے کی بجائے مصنف کی تعریف کریں اسے شاباش دیں کہ اس وقت جب کتاب کو پڑھنے اور خاص طور پر خرید کر پڑھنے کا رجحان خاصا کم ہو گیا ہے، مصنف نے یہ کتاب لکھنے اور چھپوانے کا مشکل کام کر ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعریف کرنے کا یہ عمل ہمیشہ اور ہر میدان میں جاری رہنا چاہیے۔ ان کی یہ بات بہت دل کو لگی کہ کسی امتحان میں کامیاب طلبہ و طالبات کے لیے ان کے تعلیمی ادارے تو تقریبات کا بندوبست کرتے ہیں، ان کو انعامات بھی دیتے ہیں، والدین بھی ان کی حوصلہ افزائی اور دل جوئی کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ ان بچوں کے محلے والے بھی ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کریں، ان کو انعامات دیں اور ہر لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ پرائیویٹ اور سرکاری دفاتر میں بھی اگر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کے کام کی تعریف کی جائے تو اچھے نتائج کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ اس کی ابتدا فوری ہونی چاہیے اور آپ کو اس کالم کی تعریف سے اس نیک کام کا آغاز کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply