پیاسی زندگی، ادھورے خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا دماغ کچھ ایسی مشکل کا شکار ہے کہ ساری رات خواب دکھاتا ہے۔ عجیب عجیب خواب۔ عموماً ان میں تسلسل ہوتا ہے۔ میں قید خانے میں ہوں۔ پتھر کی دیواریں ہیں یا فولادی سلاخوں کا دروازہ۔ شاہی اہلکار کا ایک دستہ مجھے لینے آتا ہے۔ میں خوف زدہ ہوجاتا ہوں۔ کیا مجھے سزائے موت کے لیے لے جارہے ہیں؟ لیکن مجھے شاہی محل میں پہنچادیا جاتا ہے۔ اس محل میں سب بے لباس ہیں۔ مرد بھی اور عورتیں بھی۔ بادشاہ بھی اور غلام بھی۔ ایک لڑکی کو دیکھ کر میرے دل میں محبت کے جذبات امڈتے ہیں۔ اچانک کوئی مجھے دیوان خانے کے بیچ میں موجود تالاب میں دھکا دے دیتا ہے۔ مجھے تیرنا نہیں آتا۔ پانی میرے منہ اور ناک میں گھس جاتا ہے۔ میرا سانس رکنے لگتا ہے۔ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

آنکھ کھلنے کے بعد میں کچھ دیر بستر پر پڑا رہتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ کیا خواب دیکھ رہا تھا؟ وہ لڑکی کون تھی؟ سچ مچ کوئی حسینہ تھی یا میرے دماغ نے اس کی تصویر بنائی تھی؟ اس کا چہرہ کیوں یاد نہیں آریا؟ فقط اس کا جسم کیوں یاد ہے؟ اس خواب سے پہلے میں کیا خواب دیکھ رہا تھا؟ اگر آنکھ نہ کھلتی تو کیا میں سانس بند ہونے سے ہلاک ہوجاتا؟

میں یہ سوچتے سوچتے اٹھ جاتا ہوں۔ ناشتے کے بعد گھر سے نکل جاتا ہوں۔ ٹرین سے دفتر تک کا سفر چالیس منٹ کا ہے۔ کچھ لوگ یہ سفر سو کر گزارتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ وقت کتاب یا اخبار پڑھ کر گزارتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ وقت موبائل فون پر گیم کھل کر گزارتے ہیں۔ میں اپنے ڈبے میں موجود لڑکیوں اور عورتوں کا معائنہ کرتا ہوں۔ ان کے لباس سے اندازہ لگاتا ہوں کہ انھیں کس رنگ کے زیر جامے پسند ہوں گے؟ کون سے برینڈ کے آئٹم خریدتی ہوں گی؟ سوتی، ریشمی یا فوم والی، کون سی انگیا پہنی ہوگی؟ چالیس منٹ کم ہوتے ہیں۔ میں سارے اندازے نہیں لگاپاتا۔ دفتر جانا ضروری ہے۔ مجھے کام ادھورا چھوڑ کر اپنے اسٹیشن پر اترنا پڑتا ہے۔

میں دفتر میں خاموشی سے کام کرنا چاہتا ہوں۔ باقی سب لوگ بولتے ہوئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ میری رائے کوئی نہیں مانتا کیونکہ ہر شخص کے پاس بولنے کو کچھ نہ کچھ ہے۔ ایک خاتون اپنا کام چھوڑ کے میرے پاس آتی ہیں۔ انھیں شکایت ہے کہ جب وہ بیگ لے کر باتھ روم جاتی ہیں تو سب مرد آنکھیں مٹکاتے ہیں اور سرگوشیاں کرتے ہیں۔ میں انھیں تسلی دیتا ہوں۔ پھر ایک سینئر ساتھی تشریف لاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کنڈوم کا پیکٹ پچاس سینٹ مہنگا ہوگیا ہے۔ میں دل ہی دل میں حیران ہوتا ہوں کہ اس لاحاصل عمر میں وہ گروسری اسٹور جاکر کنڈوم کی قیمت کیوں دیکھتے ہیں۔ پھر ایک نوجوان کولیگ آن دھمکتا ہے۔ وہ چسکے لے لے کر گزشتہ شام کی واردات سناتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ سب جھوٹ ہے۔ اس کی بیشتر شامیں بیئر کے کینز اور ارمانی کے جھاگ کے ساتھ گزرتی ہیں۔

بکواس سن سن کر میرے کان پک جاتے ہیں۔ میں بہانہ بناکر اٹھتا ہوں اور باہر کا ایک چکر لگاتا ہوں۔ اس دوران سوچتا رہتا ہوں کہ ایمبیڈڈ رپورٹر کا ترجمہ ہم بستری کے لیے منتخب صحافی کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر بالغوں کے لطیفے کو کثیفہ کہا جاتا ہے تو کیا بالغوں کے فائن آرٹس کو فنون کثیفہ کہا جاسکتا ہے؟ ان سردیوں میں عصمت چغتائی کا لحاف منگوانا چاہیے یا راجندر سنگھ بیدی کا گرم کوٹ؟

لنچ کے بعد بزرگ کارکنوں پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے۔ خواتین اپنی سہیلیوں کے کان میں غالباً پوشیدہ خواہشات بیان کرتی ہیں۔ میں بی بی سی اردو اور ہم سب کے وہ مضامین پڑھتا ہوں جو بالغ عوام کی بالغ نظری کو وسعت دینے کے لیے لکھے جاتے ہیں اور جن میں جنسی مسائل و وسائل پر سیرحاصل گفتگو کی جاتی ہے۔

دفتر سے واپسی کے سفر میں سب پر تھکن طاری ہوتی ہے۔ صبح اٹھائیس سال کی نظر آنے والی خاتون شام کو چوالیس سال کی معلوم ہوتی ہے۔ چہرے کی سرخی، زلفوں کی خوشبو اور چھاتیوں کی اٹھان غائب ہوتی ہے۔ میرا مسلسل سوچنے والا دماغ نئے کھیل میں مصروف ہوجاتا ہے۔ نیلے سوٹ والے انکل گھر جاکر بیئر پئیں گے یا ریڈ وائن؟ وہسکی یا واڈکا؟ بھورے بالوں والی آنٹی پورن ویڈیو دیکھتی ہوں گی یا نہیں؟ گلابی بلاؤز والی لڑکی کے ساتھ بیٹھے اسپورٹس مین کا کہیں آج آرام کا دن تو نہیں ہے؟

گھر آکر میں کھانا کھاتا ہوں اور اسپارٹیکس سیریز کی ایک قسط دیکھتا ہوں۔ اس قسط میں بیٹیاٹس کے غلام گینی کس کو ایک رومن شاہی مہمان مجبور کرتا ہے کہ وہ لکریشیا کی کنیز میلیٹا کے ساتھ ہم بستری کرے۔ گینی کس میلیٹا سے محبت کرتا ہے لیکن وہ ڈکٹورے اینومیس کی بیوی ہے۔ وہ جھجکتا ہے تو بیٹیاٹس اسے حکم دیتا ہے۔

میں سونے کے لیے بستر پر لیٹ جاتا ہوں۔ گینی کس اور میلیٹا کا سین آنکھوں سے نہیں ہٹتا۔ سونے سے پہلے میں آیت الکرسی پڑھتا ہوں۔ پھر ان لڑکیوں کی فہرست بناتا ہوں جو مجھے پسند ہیں۔ خیال آتا ہے کہ اگر میں گینی کس کی جگہ ہوتا تو میلیٹا کی جگہ کس کو دیکھنا چاہتا۔ میرا دماغ وہ سارا منظر ری کری ایٹ کرنے لگتا ہے۔ محل سجاتا ہے۔ رومنوں کو تخت پر بٹھاتا ہے۔ غلاموں اور کنیزوں کی قطار بناتا ہے۔ مجھے سب سے آگے بلاتا ہے۔ سریلی آواز گیت گاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ میلیٹا آئے، مجھے نیند آجاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 186 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *