احسان اللہ احسان حکومت اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ ڈیل کر کے فرار ہوا: نجم سیٹھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے سینئر صحافی نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی سوچ رہی ہے کہ اس بات کو عوام کے سامنے کیسے آشکار کیا جائے کہ احسان اللہ احسان سکیورٹ فورسز کی قید سے کیسے فرار ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جاری بیان کو لوگ مسترد کر دیں۔

احسان اللہ احسان کے ساتھ جب ڈیل کی گئی تھی تب وہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان بھی تھے اور انھوں نے یہ قبول کیا تھا کہ ملالہ یوسفزئی اور پشاور اے پی ایس پر حملہ اسی نے کروایا تھا۔ نجم سیٹھی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ کسی طرح تحریک طالبان پاکستان میں سے کسی کو اپنے جاسوسوں کی مدد سے اپنی طرف راغب کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جائے اور اس کے بدلے میں اس کی حفاظت کی جائے گی۔

اس کے بعد احسان اللہ احسان نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا تھا۔ دونوں جانب سے ایک مسئلہ پیدا ہوا جب ایک شہری کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس کا بچہ اے پی ایس پشاور میں شہید ہو گیا تھا۔ انھوں نےکہا تھا کہ پاکستان حکومت نے ان تمام قاتلوں کو پناہ دی ہوئی ہے اور ان سے پوچھا جائے کہ کیا ان قاتلوں کا کوئی ٹرائل یا کورٹ مارشل ہو گا۔

اس پر ہائیکورٹ پشاور نے اٹارنی جنرل کو طلب کر کے پوچھا کہ آپ نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے؟ جس کے جواب میں اس وقت کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ان کے خلاف پوری کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد حکومت نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے چند دہشت گردوں نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پاکستان کے حوالے کیا ہوا ہے۔ جن سے انٹریو کیا گیا تو انھوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ یہ سب انہوں نے انڈیا کے کہنے پر کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *