اسکے بعد ’’رقص میں سارا‘‘ ملک ہوگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیر کے روز بازار کھلتے ہی پاکستان سٹاک ایکس چینج میں مندی چھاگئی۔ دو مہینے سے نظر آنے والا نسبتاََ ’’استحکام‘‘ ہچکولوں کی زد میں آگیا۔ کراچی میں کئی برسوں سے مقیم ان دوستوں سے رجوع کرنے کومجبور ہوا جو ’’سیٹھوں‘‘ کے ذہن آشنا ہیں۔انہوں نے مطلع کیا کہ بازار میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ وزیر اعظم صاحب نے ڈاکٹر حفیظ شیخ اور رضاباقر کو فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

’’سیٹھوں‘‘ نے نجانے کیوں ان افواہوں پر اعتبار کرلیا حالانکہ ان کا ’’جاسوسی نظام‘‘ بہت مؤثر ہوا کرتا ہے۔اسلام آباد میں کئی لوگ ہیں جو Poshمحلوں کے محل نما گھروں میں رہتے ہیں۔یہاں ہر شام طاقت ور سیاست دانوں اور تگڑے سرکاری افسران کی محفلیں برپا ہوتی ہیں۔کئی برسوں تک ایک متحرک رپورٹر ہوئے میں بھی اکثر ان محفلوں میں مدعو ہوا کرتا تھا۔طبیعت مگر اُکتا گئی۔

یہ دریافت کرنے میں بہت دیرنہ لگی کہ بظاہر بے تکلف محفلوں کا مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے۔دھندے سے جڑی ’’خبریں‘‘ تلاش کرنا ہی ان کا واحد مقصد نہیں ہوتا۔ آپ کی ’’ضرورت‘‘ فقط اسی صورت محسوس ہوتی ہے اگر چند دھندوں کے ضمن میں آپ کسی کے کام آسکیں۔ انگریزی زبان میں اسے Influence Peddlingکہا جاتا ہے۔سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ اپنے اثرورسوخ کا استعمال جو عموماََ سرکاری افسروں کی تبدیلی یا تعیناتی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے۔ بسااوقات آپ سے یہ توقع بھی باندھی جاتی ہے کہ آپ صدر یا وزیر اعظم کو نجی محفلوں میں کسی سیاستدان کی ’’خوبیوں‘‘ سے آگاہ کریں۔اسے کوئی دھانسو وزارت مل جائے۔

’’اثرورسوخ ‘‘ کے تناظر میں خودکو ہمیشہ انتہائی دیانت داری سے غالبؔ کے اتباع میں ’’ہم کہاں کے دانا تھے،کس ہنر میں یکتا تھے‘‘ ہی محسوس کیا۔واپڈا اور سوئی گیس والوں سے اپنے گھر کی سپلائی بحال کروانے کی ہمت سے بھی محروم ہوں۔سڑک پر پولیس والا روک لے تو خود کو ’’صحافی‘‘ کی حیثیت میں متعارف کروانے کی بجائے ڈیش بورڈ سے شناختی کارڈ،لائسنس اور گاڑی کے کاغذات نکالنا شروع ہوجاتا ہوں۔’’میزبانوں‘‘ کو بالآخر میری محدودات کا ادراک ہوگیا۔مجھے بھی کونے میں بیٹھ کر کھائی دہی بہت لذیذ لگنا شروع ہوگئی۔

عملی صحافت کی کئی دہائیوں نے مگر بہت کچھ سکھادیا ہے۔اپنے گھر تک محدود ہوا میں ڈاکٹر حفیظ شیخ کی فراغت کے امکانات دیکھنے سے محروم ہوں۔خبرنہیں کہ اسلام آباد میں بھاری بھر کم تنخواہ اور مراعات کیساتھ بٹھائی ’’مخبروں‘‘ کی ایک فوج کے ہوتے ہوئے بھی کراچی کے سیٹھوں نے حفیظ شیخ صاحب کی فراغت والی خبروں پر اعتبار کیوں کیا۔

چند بنیادی باتیں ذ ہن میں رکھیں ۔ انہیں بارہا اس کالم میں دہرایا ہے۔آئندہ بھی آپ کو اُکتا دینے کی حد تک دہراتا رہوں گا۔ان باتوں میں سے اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ معاشی ہے۔اس ملک کا وزیر اعظم عمران خان صاحب ہو یا کوئی اور شخص وہ ایک ایسی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے جو ریاست کا خرچہ چلانے کے لئے ہماری معیشت ہی سے کماحقہ محاصل جمع نہیں کرسکتا۔ کئی برسوں سے ہم خسارے کا بجٹ بنانے کے عادی ہیں۔ریاست کے اضافی اخراجات طاقت ور ملکوں یا بین الاقوامی اداروں سے قرض لے کر پورے کئے جاتے ہیں۔

سردجنگ کے زمانے میں ہم امریکہ کے ’’اتحادی‘‘ ہوگئے۔اس ’’اتحاد‘‘ کے عوض ہمیں قرض کے علاوہ ’’’امداد‘‘ بھی مل جایا کرتی تھی۔ اس ’’امداد‘‘ کی بدولت فیلڈ مارشل ایوب خان نے مسلسل دس برس حکومت کی۔ان برسوں کو ہمارے ہاں ’’عشرہ ترقی‘‘ کہا جاتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان صاحب اکثر بہت اداسی سے اس عشرے کی رونق یاد کرتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ان کے ممدوح ایوب خان ہی نے اپنے ’’عشرہ ترقی‘‘ کے اختتامی دنوں میں الطاف گوہر سے ایک ’’آپ بیتی‘‘ لکھوائی۔ اُردو میں اس کا عنوان تھا:

’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ انگریزی میں اسے Friends not Masters کہا گیا۔اس عنوان میں عیاں تلخی یہ حقیقت سمجھنے کے لئے کافی تھی کہ امریکہ اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے ’’اتحاد‘‘ کا مزا نہیں آیا۔ ’’اتحاد‘‘ کی علت ہمیں لیکن لاحق ہوچکی تھی۔ اس سے نجات کی راہ نکالنے کی پُرخلوص کوشش ہی نہ ہوئی۔ذوالفقار علی بھٹو نے ’’مسلم اُمہ‘‘ کے اتحاد کی شکل میں ایک متبادل ڈھونڈنا چاہا۔ عبرت ناک انجام سے دو چار ہوئے۔

ان کے بعد جنرل ضیاء آئے تو ’’افغان جہاد‘‘ کا سیزن شروع ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں سوویت یونین پارہ پارہ ہوگئی تو ’’اتحادیوں‘‘ کو ہماری ضرورت نہ رہی۔عالمی بینک اور IMF جیسے ادارے ایک بار پھر پاکستان کو علم معاشیات کے تقاضوں کے عین مطابق زندگی گزارنے کا سبق سکھانا شروع ہوگئے۔’’اپنی ضرورت کے مطابق ٹیکس جمع کرو‘‘ ان تقاضوں کی کلید ہوا کرتا ہے۔ہم اس کی جانب راغب ہورہے تھے تو نائن الیون ہوگیا۔افغانستان ایک بار پھر امریکہ کے لئے اہم ہوگیا۔ جنرل مشرف نے اس کی بدولت نوبرس کی رونق لگادی۔ انگریزی اخبارات میں معاشی موضوعات پر لکھنے والے صاحبان علم جسے “Fundamentals”یعنی مبادیاتِ معیشت کہتے ہیں اس دوران مگر ’’سیدھے‘‘ نہ ہوسکے۔

زرداری اور نواز شریف کے ادوار بھی انہیں ’’سیدھا‘‘ نہ کر پائے۔CPEC کی صورت بلکہ ایک ’’اتحادی‘‘ ڈھونڈنے کی ٹھان لی۔عمران خان صاحب نے Big Pictureدیکھنے سے انکار کردیا۔بہت لگن اور شدومد سے ہمیں قائل کردیا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے۔اس کے سیاست دان مگر نااہل اور بدعنوان ہیں۔امریکہ کے ’’تھلے‘‘ لگ جاتے ہیں۔انہیں اقتدار ملا تو وہ بدعنوانوں کے پیٹ پھاڑ کر قوم کی لوٹی ہوئی دولت نکلوائیں گے۔احتساب بیورو اور شہزاد اکبر کی ذہانت ومحنت سے برآمد ہوا سرمایہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کرنے کے بعد پاکستان اپنی ’’خودمختاری‘‘ بحال کرلے گا۔اس کے بعد ’’رقص میں سارا…‘‘ ملک ہوگا۔

اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد مگر عمران خان صاحب نے دریافت کرلیا کہ ’’برادر ممالک‘‘ کی معاونت کے باوجود IMF سے رجوع کرنا ضروری ہے۔اس کے درپر دستک دی تو 6ارب ڈالر کا ’’امدادی پیکیج‘‘ ملنے کا وعدہ ہوا۔ یہ رقم قسطوں میں ملنا ہے۔اس دوران ہماری ’’مبادیات معیشت‘‘ کو ’’سیدھا‘‘کرنا ہوگا۔ انہیں ’’سیدھا‘‘ کرنے کے لئے IMF نے ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب کو وزارتِ خزانہ کا مدارالمہام لگوایا ہے۔پاکستان کی معیشت کو ’’کینسر‘‘ کا مریض بتایا گیا ہے۔اس کے علاج کے لئے ’’کیموتھراپی‘‘ کی جو Doze طے ہوئی ہے اس کے مؤثر اطلاق کا ماہر’’طبیب‘‘ ڈاکٹر حفیظ شیخ ہی کو ٹھہرایا گیا ہے۔

یہ حقیقت کوئی ’’ریاستی راز‘‘ نہیں ہے کہ IMF نے ہمارے لئے جو نسخہ تیار کیا ہے اس کا اطلاق ستمبر 2022 تک ہونا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ ستمبر 2022 میں ’’شفایاب‘‘ ہونے تک ہمیں ایک ہی ’’طبیب‘‘ یعنی ڈاکٹر حفیظ شیخ پر انحصار کرنا ہوگا۔جنگوں میں جیسے کمانڈر نہیں بدلے جاتے اسی طرح ’’کینسر‘‘ کے طویل المدتی علاج کے دوران ’’طبیب‘‘ بدلنا بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے معاہدے پر غور کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ معاہدہ عمران حکومت اور IMFکے درمیا ن نہیں ہوا۔ معاملہ’’ریاستِ پاکستان‘‘ اور عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کے درمیان طے ہوا ہے۔اس تناظر میں اگر ’’اِن ہائوس تبدیلی‘‘ آگئی تب بھی ’’ریاستِ پاکستان‘‘ کو مذکورہ معاہدہ کی پاسداری کرنا ہوگی۔اس معاہدے سے نجات ممکن نہیں۔ اتنی گنجائش اگرچہ موجود ہے کہ مذکورہ معاہدے کی شرائط کو ’’نرم‘‘ کرنے کی کوئی راہ نکالی جائے۔ مطلوبہ ’’نرمی‘‘ حاصل کرنے کے لئے ہمیں امریکہ جیسے ممالک کی Strategic ترجیحات کے تناظر میں’’کچھ ‘‘دینا بھی ہوگا۔

’’نرمی‘‘ حاصل کرنے کے عوض ممکنہ طورپر کیا دیا جاسکتا ہے اس کی مجھ جیسے کم علم صحافیوں کو ہرگز خبر نہیں۔ان کے بارے میں پُرخلوص سوالات اٹھانا بلکہ ’’ممکنہ علاقوں‘‘میں مداخلت شمار ہوسکتا ہے۔حتمی بات یہ ہے کہ فی الوقت ڈاکٹر حفیظ شیخ صاحب معاشی معاملات کے تناظر میں مختارکل ہیں۔وہ قوم کے نام نہاد ’’منتخب‘‘ اور کافی پاٹے خان نظر آتے نمائندوں کو بھی جواب دینے کو آمادہ نہیں ہوتے۔ میں اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں؟!!

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *