پاکستانی مرد کا ویلینٹائن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں جہاں جذبوں کا اظہار بے شرمی اور بے حیائی تصوّر کیا جاتا ہے۔ جہاں شادی شدہ جوڑے بھی شادی کے بہت سالوں بعد پبلک میں آپ کو کتّوں کی طرح لڑتے تو دکھائی دیں گے مگر جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والا مرد کبھی اپنی بیوی سے محبت بھرے انداز میں پانی کا گلاس مانگ لے تو گھر میں ایک ہلچل سی پیدا ہو جائے گی اور پکّی عمر کو پہنچ جانے والے مرد نما بچّے کی امّاں اُسے ایک کونے میں لے جا کر بہو کے عیب گنوانے لگیں گی یا زمانہ اسے زن مریدی کا طعنہ دے دے کر اُسکی عزّتِ نفس کو کچلتا رہے گا۔

جہاں محبت کا اظہار ”گُڈو دے ابّا۔ کتھے مر گئے او؟ “ جیسے خوبصورت الفاظ کے علاوہ ممکن نہیں۔ ایسا معاشرہ کوئی اور اظہار چُنے بھی کیوں جہاں حلال طریقے سے بھی محبت کا اظہار معیوب اور حرام خیال کیا جاتا ہے جہاں محبت کئی صدیاں پہلے مر جانے والے اس مظلوم کے سینے میں دفن ایک ایسے راز کی طرح کی جاتی ہے جس کی آواز کوئی نہ سُن سکا۔ یا پھر وہ تمام بند ہو جانے والی فائلیں جو کسی ایسے سٹور میں پھینک دی جاتی ہیں جہاں ریکارڈ جلنے کی خبر چند مہینوں سالوں بعد عوام کے کانوں میں پڑتی رہتی ہے۔

خاص کر تب جب آڈٹ قریب ہو۔ جہاں محبت بند کمروں میں کی جاتی ہے اس طرح کہ کندھوں پر بیٹھے فرشتوں کو بھی افیون پلا کر سُلا دیا جائے تا کہ زمانے کو خبر نہ ہو۔ وہاں پبلک میں آپ کو ”؟ Will you be my valentine“ جیسا جملہ شاذونادر ہی سننے کو ملے گا اور گھُٹنے ٹیک کر ہاتھوں میں گُلاب لئے اپنی ہی صدیوں پرانی باسی سالن جیسی بیوی کو کوئی یہ بات کہے گا تو یقیناً لوگ اسے پاگل خانے کا راستہ دکھائیں گے۔ پاکستانی شوہر کو بھلا بیوی سے محبت کا اظہار کر کے کرنا بھی کیا ہے؟ وہ بھی ویلینٹائن ڈے پر۔ وہی بیوی۔ وہی چھت۔ وہی ہم وہی تم۔ وہی گھسے پٹے الفاظ وہی برسوں کا ساتھ جو پرانی حویلی کی چوکھٹ جیسا بوسیدہ ہے۔

وہاں پاکستانی شوہر یہ سوچتا ہے کہ محبت کا اظہار کرنے کے لئے نئے الفاظ نئے جذبات اور نیا جوش و ولولہ آخر کہاں سے لائے؟ اگر وہ جھوٹے منہ ہی سہی ایسا کرنے کا ارادہ کر بھی لے تو کوئی اُسے چھچھورا کہے گا تو کوئی آوارہ۔ کوئی مغربی تعلیم کے زیرِ اثر ہونے کا طعنہ دے گا تو کوئی مشرقی روایات کو بالائے طاق رکھ دینے پر لیکچر جھاڑنے لگے گا۔

یہ کافروں کا تہوار ہے۔ تم ان کا برگر کھا سکتے ہو۔ ان کے بنائے ہوئے سافٹ وئیر بھی استعمال کر سکتے ہو لیکن ان کے کسی تہوار یا روایت کو اچھا کہہ دیا تو اسلام کے خلاف جنگ ہوگی۔ کفر کامحاذ کھل جائے گا اور بیک وقت امریکی اور یہودی سازشوں کا شکایتی دفتر تو کھُلے گا ہی اسلامی روایات کی بقا والا سافٹ وئیر بھی اپ ڈیٹ ہوجائے گا۔ تمام اسلامی ”بھائیوں“ کو ”سسٹر ڈے“ منانا پڑے گا اور وہ بھی عین ویلینٹائن والے دن۔

اب یہ سوال الگ ہے کہ کوئی منہ بولا بیٹا تو نہیں بن سکتا اسلام کی رو سے منہ بولی بہن بنانے کی روایت کہاں ملتی ہے؟ ہماری سوشل میڈیا پر ہی ایک بہت اچھی دوست یہ واقعہ سناتی ہیں کہ کچھ جماعتی کارکنان ویلنٹائن ڈے کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب جو ہر وقت صفیہ بہن صفیہ بہن کی رٹ لگائے رکھتے تھے سننے میں یہ آیا کہ اگلے ویلنٹائن پر صفیہ بہن سے ہی ان کا نکاح قبول و منظور فرمایا گیا۔

محبت کا اظہار کرنے کے لئے کوئی دن تھوڑی نہ مقرر ہے۔ نہ کوئی موقع نہ کوئی جگہ اور نہ ہی کوئی مخصوص انسان۔ محبت تو کسی بھی لمحے کی جاسکتی ہے اور کسی سے بھی کی جاسکتی ہے اور سب کے سامنے اعلان کرنے والی چھچھوری حرکت کرنے کی تو بالکل ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ پاکستانی معاشرہ ہے یہاں پائیدار تعلق کی آڑ میں پنپنے والے ناجائز رشتوں کی عمر اتنی ہی چھوٹی ہوتی جاتی ہے جتنی ”حلال“ رشتوں کی عمر لمبی ہوتی جاتی ہے۔

ایک تو انتہائی ”پرسنل لیول“ کے جذبات اور رشتوں کی بلامقصد تشہیر ہوتی ہے اور پھر کل کلاں کو دل ”بے ایمان“ ہو جائے یا پھر اللّہ پر توکل کرکے بندہ ایمان ہی لے آئے اور ”گناہوں“ کے رستے سے ”توبہ تائب“ ہو جائے تو ساتھ جینے مرنے کی قسمیں وہ سارے عہدوپیماں جو ”لگے بندھے“ ہاتھوں خوب پروان چڑھائے گئے۔ وفا اور محبت کے وہ قول و اقرار جن سے مُکر جانا ہر پاکستانی مرد کی محبت کی کہانی کے ”انتہائی انجام“ کی صورت مقصود ٹھہرتاہے وہ بیچارا مرد بھلا اُن سے دل پھیر لینے کا جواز کیسے تلاش کرے گا؟ وہ معصوم پاکستانی مرد جس کا دل تو ”پھِرتا“ ہے لیکن تسبیح نہیں پھرتی۔

بے شرموں کی طرح اپنی ویلینٹائن کو لے لے گھومنا انتہائی غیر اخلاقی فعل ہے۔ اس کی شدید مذمّت کی جانی چاہیے۔ یہ اسلامی روایات و اقدار کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ چلیں بالفرض آپ نے ویلینٹائن منانے کا ارادہ کر بھی لیاہے تو کم از کم گناہ کو گناہ سمجھیں اور بدعت کو بدعت۔ تھوڑا ”کنڈ اولے“ ہو جائیں۔ ویلینٹائن گزر جائے تو الصبح پانچ بجے کا الارم لگائیں۔ چڑیوں کی چوں چوں اور کُکڑ کی بانگ کے ساتھ آپ بھی اُٹھ جائیں۔ ”اچھا سا“ غُسل لے کر ”فوراً سے پہلے“ توبہ کرلیں۔ اور ساتھ ساتھ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے یہ خیال بھی ذہن میں بار بار لائیں۔ استغفر اللہ۔ اے خدا مجھے اس ”فتنے“ سے بچا۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *